زندگی موت کا تعاقب کرتی ہے

2019 ,اکتوبر 17



نوائے وقت ایڈیٹوریل میں سینیئر آرٹ ایڈیٹر ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں؛
یہ ان دنوں کی بات ہے جب پنجاب بالخصوص لاہور میں ڈینگی وائرس نے بہت زیادہ تباہی مچائی تھی جس کی وجہ سے سینکڑوں اموات ہوئی تھیں۔ ان دنوں میرے ہومیو کلینک پر بھی ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کا رش تھا اور الحمدللہ کئی مریض شفایاب ہوئے، ایک روز میں ابھی کلینک پر جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک نوجوان بچی کو دونوں بازؤں سے پکڑ کر اسکے والدین کلینک میں داخل ہوئے، بچی کی حالت دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے ڈینگی وائرس ہی ہے، بہرحال ساتھ لائی گئی تمام ٹیسٹ رپورٹس دیکھ کر میں نے انہیں فوری طور پر انہیں ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر صاحب یہ بچی چار روز سے ہسپتال میں داخل تھی‘ اسے ہم ہسپتال سے زبردستی ڈسچارج کروا کر آپکے پاس لائے ہیں حالانکہ ہسپتال کے ڈاکٹر تو اسے ڈسچارج ہی نہیں کررہے تھے، یہ سن کر میرے ماتھے پر ہلکا سا پسینہ آگیا کہ اس حالت میں وہ بچی کو میرے پاس لائے ہیں جب اسکے پلیٹلٹس نہ ہونے کے برابر ہیں‘ اسکی ناک سے ہلکا سا خون جاری تھا جو بچی کی حالت کو کافی سیریس ثابت کررہا تھا، بچی بخار کی تیزی اور درد سے بالکل نڈھال تھی، میں نے انہیں بتایا کہ آپ نے غلطی کی کہ اسے ہسپتال سے ڈسچارج کروا کر یہاں لے آئے‘ خدا نخواستہ اگر کوئی ایمرجنسی ہوگئی تو بہت مشکل ہو جائیگی، اسکے والدین نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب اب جو بھی ہو‘ ہمیں کسی نے آپکے بارے میں بتایا تھا‘ ہم بچی کو آپکے پاس لے آئے ہیں جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے۔ 
میں نے بچی کا بخار چیک کیا اس وقت اسے ایک سو دو بخار تھا میں نے اسے فوری طور پر ایک دوائی بنا کر اسی وقت کھلا دی اور دو خوراکیں مزید بنا دیں اور اسے آدھے آدھے گھنٹے کے بعد دہرانے کیلئے تاکید کی‘ اسکے علاوہ دو دن کی دوسری دوائی بنا کر دے دی، اسکے والد کو کہا کہ میں رات دس بجے تک بیٹھا ہوں‘ جیسے ہی بخار اترے مجھے فوراً اطلاع دینا، بہرحال وہ دوائی لے کر چلے گئے اور میں پریشانی کے عالم میں بیٹھا اس بچی کیلئے دعائیں کرنے لگا، جس حالت میں بچی کو لایا گیا تھا میں کافی حد تک پریشان کن تھی میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ خدانخواستہ بچی کو کچھ ہو نہ جائے، بہرحال اس دوران کئی مریض آئے جنہیں دوائی دے کر رخصت کردیا،  ان میں ڈینگی وائرس کے مریض بھی شامل تھے جواس بچی کی طرح زیادہ سیریس نہیں تھے۔ 
رات کے ساڑھے نو ہوچکے تھے میں عموماً دس بجے کلینک بند کرتا ہوں، ابھی میں اس بچی کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسکے والد کلینک میں داخل ہوئے اور مجھے بتایا کہ بچی کا بخار بالکل اتر گیا ہے، میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور انہیں دوسری دوائی شروع کرانے کی تاکید کی اور یہ بھی کہا کہ اگر بچی رات کے کسی پہر اٹھے تو اس وقت بھی دوائی کی ایک خوراک دے دی جائے اور کل شام کو دوبارہ چیک کرانے کو کہا، بچی کے والد مجھے دعائیں دیتے ہوئے کلینک سے چلے گئے، اگلے روز میں انتظار ہی کرتا رہا مگر وہ نہ آئے، میں کافی فکرمند تھا کہ بچی کی حالت کافی سیریس تھی اور وہ چیک کرانے کیوں نہیں آئے۔ ابھی میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک کلینک کے سامنے سے کچھ لو گ گزرے‘ ان لوگوں میں دو نوجوانوں نے میت کی چارپائی بھی اٹھائی ہوئی تھی جو شاید کسی میت کو دفنا کر آرہے تھے۔ یہ دیکھ کر میں پریشان ہو گیا اور سوچنے لگا کہ خدانخواستہ کہیں وہ بچی تو ……؟؟؟ آس پاس سے معلوم کیا کہ یہ کس کی میت تھی تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ بہرحال میں بڑے بوجھل دل کے ساتھ کلینک میں بیٹھا اس بچی کے بارے میں سوچنے لگا، اس دوران دو چار مریض چیک کئے مگر طبیعت کافی بوجھل رہی، یہی وجہ تھی کہ میں آج کلینک جلد بند کرنا چاہ رہا تھا۔ ساڑھے آٹھ کا وقت تھا کہ اچانک بچی کی والدہ کلینک میں داخل ہوئیں جنہیں اکیلا دیکھ کر میں ٹھٹھک گیا لیکن ساتھ ہی میری خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انکے پیچھے اس بچی کو ہشاش بشاش طبیعت میں اپنی طرف آتے دیکھا۔ چہرے پر رونق تھی‘ سلام کے بعد اسکی والدہ نے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور کہا کہ جس ہسپتال سے ہم اسے ڈسچارج کرا کے لائے تھے‘ ادھر تو ہر روز ڈینگی کی وجہ سے ایک دو اموات ہو رہی تھیں، دن بدن ہماری بچی کی حالت سیریس ہوتی جا رہی تھی‘ہم بھی بہت زیادہ خوف زدہ تھے‘ بس اللہ نے ہماری بچی کو زندگی دینی تھی جو اس شخص کو بھیج دیا اور اسے نے آپکے پاس آنے کا مشورہ دیا۔

ڈاکٹر صاحب اللہ تعالیٰ نے آپکی دوائی کو میری بچی کیلئے شفایاب بنادیا یہ سنتے ہی میں نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر میں نے بچی سے مخاطب ہوکر پوچھا ہاں بیٹا اب کیسی طبیعت ہے؟ اس نے بتایا کہ جب سے دوائی کھائی ہے نہ بخار ہوا ہے نہ جسم میں درد‘جس کی شدت سے میری جان ہی نکلے جا رہی تھی، ہاں البتہ میرے ہاتھوں اور ٹانگوں پر کچھ گہرے رنگ کے نشان پڑ گئے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ ڈینگی وائرس اپنی شدت کے بعد کچھ اثرات چھوڑ جاتا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے جو دو چار روز میں ٹھیک ہو جائیگا، اس میں پریشان ہونے کی بات نہیں۔ اس نے مجھ سے مزید دوائی کا تقاضا کیا تو میں نے صرف ہومیو ٹانک دے کر رخصت کر دیا۔ 
قارئین کی معلومات کیلئے میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج مکمل طور پر علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی دوائی مستند نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ ڈینگی بخار کی علامات بعض مریضوں میں کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ 
Eupa- Crotel- Farum. p- China- off وغیرہ ادویات کی علامات کے حساب سے مختلف پوٹینسی دینے سے اللہ تعالیٰ مریض کو صحت یاب کردیتا ہے۔ dr.4health786@gmail.com 0321-4368474

ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر اشفاق احمد بھٹی کہتے ہیں 
”مئی 1982ء کے وسط کی ایک دوپہر جب اپنی خالہ کے گھر خانپور کٹورا میں تھا، والدہ سے آنکھ بچا کر گھر سے باہر نکل گیا، دین پور چوک جو خالہ کے گھر سے 5 سو فٹ کے فاصلے پر واقع ہے اس چوک میں کھڑی ریڑھی سے چاول چھولے کھا کر واپس لوٹا ہی تھا کہ شدت سے پیٹ میں درد شروع ہو گیا آنا فاناً قے آنا شروع ہو گئی جو کچھ صبح سے کھایا تھا وہ باہر آنے کے باوجود قے رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ خالہ اور والدہ نے ابتداء میں مجھے پیاز کوٹ  کر اس کا پانی دیا۔ ان کا خیال تھا شاید فوڈ پوائزننگ ہو گئی ہے۔ اس دود میں سانپ کاٹے اور فوڈ پوائزننگ کے مریضوں کو پیاز اور اس کا پانی دیا جاتا تھا، چونکہ علاقہ پسماندہ تھا اسلئے ہسپتالوں میں شعبہ ایمرجنسی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کٹورا کی پسماندگی وہاں کے مکینوں سے اب بھی پوچھی جا سکتی ہے۔ الغرض سارا دن پیٹ کے درد اور مسلسل قے آنے کے باعث بیہوشی طاری ہو جاتی تھی۔ میرا خالو ولی محمد جوتھا تو پہلوان مگر خواتین کے پردے کے معاملے میں بہت ہی سخت تھا۔وہ سودا سلف گھر دے کر دکان پر چلا گیا۔ خالہ کو چار دیواری سے باہرپاؤں تک نکالنے کی اجازت نہ تھی۔ خالہ کی تازہ تازہ شادی آؤٹ آف فیملی  ہوئی تھی۔ صبح صبح والد صاحب ہمیں خالہ کے گھر چھوڑ کر صادق آباد منڈی مویشیاں جا چکے تھے۔ ہمارے گاؤں بستی بھٹیاں میں میرے ہم جولی لڑکے بالے جو بھی خانپور شہر جاتا واپس آ کر بتاتا، میں نے وہاں سے ایک روپے میں چاول، چنے، سلاد اور رائتا کھایا تھا جو نہایت مزیدار تھا۔

اس دور میں ایک روپیہ بڑی رقم تھی، گورنمنٹ ہائی سکول خانپور کے باہر شاہ جی چنے والا ہوتا تھا جو طلباء کو چار آنے کے چنے اور چار آنے کی دو روٹیاں دیتا۔ پوری تحصیل میں اس کے چنے مشہور تھے، اسی مشہوری کے سبب میں دین پور چوک چنے کھانے گیا تھا۔ سارا دن تکلیف سہنے اور بار بار بیہوش ہونے کے بعد شام ہو گئی۔ اس دوران والد صاحب واپس آئے خالو بھی آ گئے، دونوں مجھے سول ہسپتال لے گئے۔ان دنوں پپلاں ضلع میانوالی کے ڈاکٹر آفتاب احمد وہاں تعینات تھے۔ مریض کی سیریس حالت کے باعث انہیں گھر سے بلوایا گیا۔ انہوں نے آ کر ہاتھ سے میرے پیٹ کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد میرے ناک سے نالی ڈالی۔ میرے والد مشتاق احمد بھٹی کو کہا کہ آپ کتنے لاپروا ہیں۔ اسے اپینڈکس ہو گیا ہے، نالی پھٹی نہیں۔ جب وہ نالی ڈال رہے تھے شدت درد سے ایک بار پھر بیہوش ہو گیا۔ تین دن بعد ہوش آیا تو میری والدہ سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔ دس روز بغیر کچھ کھائے پیئے بھوکا پیاسا رکھا گیا۔سات روز میں والد اور والدہ کے ترلے لیتا رہا کہ مجھے ایک گھونٹ پانی دیا جائے۔ وہ کپڑا بھگو کر میرے ہونٹوں پر لگانے پر ہی اکتفا کرتے تھے۔ کئی دہائیاں سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اس درد کی شدت کو محسوس کر رہا ہوں۔
 دوسری بار زندگی اس وقت ملی جب 1988ء کی گرمیوں کی ایک شام چلتے ڈونکی پمپ کی ننگی تاروں کو ہاتھ سے ٹائٹ کر رہا تھا،  میٹر سے تار کو آگ لگ گئی جب ہوش آیا تو میرے اوپر مٹی ڈالی گئی تھی، میرا دایاں انگوٹھا بالکل جل چکا تھا۔ اوپر کھڑے میرے رشتے دار کہہ رہے تھے ”اللہ تعالیٰ دا شکر اے منڈے دی جان بچ گئی آ“ ویکھو جی اے بیوقی تے کرریا سی“۔
1988ء میں گاؤں میں نئی نئی بجلی آئی تھی، خاندان میں اضافے کے باعث پرانی حویلی کم پڑ گئی تھی۔ والد صاحب نے نئی حویلی کی تعمیر شروع کروا دی۔ پہلے سے لگے بجلی کے بورڈ کو استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک دن تار کا کچھ حصہ جل گیا اسے کاٹ کر دوبارہ جوڑ لگایا، اس پر ٹاپ نہ کی گئی صرف سوکھی لکڑی پر رکھ دی مجھے خیال آیا کہیں ہمارے جانور (بکرے بھیڑیں) اسی سے نہ گزر جائیں مبادا تار ٹوٹنے کے باعث موٹر بند نہ ہو جائے، دونوں تاروں کو چلتی موٹر پر ہاتھ سے جوڑ رہا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ایک بھارتی فلم میں بہت سے لوگوں کو کرنٹ لگنے کے سین میں دیکھا جا سکتا ہے، بس ایک زور دار چیخ نکلی اس کے بعد مٹی کے نیچے دبا ہوا پایا گیا۔ خود تو بچ گیا مگر ایک سال تک انگوٹھے کے درد نے ستائے رکھا جس کی ٹیسیں ہنوز محسوس ہو رہی ہے واضح رہے کہ دیہات میں جسے کرنٹ لگتا ہے اسے مٹی میں دبا دیا جاتا ہے۔جہاں کہاوت مشہور ہے کہ مٹی کرنٹ کھینچ لیتی ہے۔
٭٭٭
حاجی مختار بچیکی سے نوائے وقت کے نامہ نگار ہیں، وہ اپنے دوستوں میاں عبدالستار اور ملک عبدالستار کے ساتھ نوائے وقت میں سپلیمنٹ دے کر واپس جا رہے تھے۔ رات کا وقت تھا۔ سوزوکی  مہران شرقپور سے آگے اندھیرے میں سڑک پررواں تھی، شرقپور سے آگے ایک موڑ پر بس کو کراس کرنے لگے، گاڑی بس کے برابر پہنچی تو اچانک ٹریکٹر کو سامنے اپنی طرف آتے پایا، اس کی لائٹیں خراب تھیں، ٹریکٹر ڈرائیور نے اپنی طرف سے راستہ دینے کی کوشش کی، بس ڈرائیور کو بھی احساس ہو گیا اس نے بھی ممکنہ حد تک بس بائیں طرف کر لی، ٹرالی سامنے دیکھ کر میں نے بھی سٹیرنگ بائیں جانب گھما دیا، درمیان میں کار گزرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اگر ٹرالی اور بس اپنے اپنے ٹریک پر چلتی رہتی تو ہم دونوں کے درمیان پس کر سرما ہو جاتے۔ مگر ہوا یہ کہ میں نے بریک لگانے کی بھی کوشش کی، سپیڈ کم ہوئی تو ایک طرف بس اور دوسری طرف سے ٹرالی کار سے رگڑکھاتی ہوئی گزر گئی۔ کار کی دونوں سائیڈیں اتر گئیں، دو تین سیکنڈ میں یہ سب کچھ ہو گیا۔ ہمارے ہوش اُڑے ہوئے تھے، گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے اپنے آپ کو اور ایک دوسرے کو دیکھا کہ کہاں کہاں چوٹ لگی ہے مگر حیران کُن طور پر ہم محفوظ رہے۔ ہم تینوں کو خراش تک نہ آئی تھی۔ مگر خوف سے ہمارا بُرا حال اور ہم تھر تھر کانپ رہے تھے، ہوش اڑے ہوئے اور اوسان خطا تھے، ہم اپنے زندہ بچ جانے کو معجزہ سمجھتے ہیں۔ وہیں پہ فوری طور پر سجدہ شکر ادا کیا، اس کے ہماری زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، بقیہ زندگی کو موت کی امانت سمجھ کر گزار رہے ہیں۔
٭٭٭
منیر احمد نوائے وقت کے سینئر ترین ارکان میں سے ہیں۔ انہوں نے سالہا سال مجید نظامی صاحب کی خدمت کی۔ 1968ء میں انہیں ایک بدترین سانحہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بھائی کا اپنے عزیزوں سے جھگڑا ہوا جس پر وہ جیل چلے گئے، منیر صاحب کہتے ہیں کہ وہ ایک شادی میں گئے، کوٹ پینٹ پہنا ہوا تھا، اسی سوٹ میں بنی ہوئی تصویر ان کی پی ایس ٹو ایم ڈی شفیق سلطان کے دفتر میں لگی رہی، وہ بتاتے ہیں، ”یہ سوٹ میں نے دوست سے مانگا تھا، شادی کی تقریب میں کسی کی نظر بد لگ گئی تو میں پیٹ میں مسئلہ کی وجہ سے کچھ کھائے پیئے بغیر واپس آ گیا، گھر آ کر تھوڑا آرام کیا تو طبیعت بحال ہو گئی، سوچا سلطان پہلوان کے کھوکھے سے کباب کھاکر آؤں، میں کباب کھا کر واپس آ رہا تھا کہ بھائی کے ایک مخالف نے کسی کے ساتھ مل کر عقب سے اچانک نمودارہوکر میرے سر پر تیزاب اُنڈیل دیا، ان کو کسی نے بتایا تھا، منیر نے تم لوگوں پر حملہ کرنے کیلئے چھٹی لی ہے اور وہ خنجر لئے پھرتا ہے۔

یہ بالکل غلط تھا جب انہوں نے تیزاب پھینکا میرے پاس خنجر ہوتا تو ان دونوں کو زندہ واپس نہ جانے دیتا کیونکہ میں اس دوران انتہائی غصے میں تھا اور طاقتور بھی تھی، بہرحال میں پہلے جلے ہوئے سر اور چہرے کے ساتھ تھانے گیا پھر میو ہسپتال گیا، میری ایک آنکھ شدید متاثر ہوئی جو کبھی ٹھیک نہ ہو سکی۔ سینے پر دائیں بازوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، نوائے وقت میں ان دنوں کرائم رپورٹر غلام نبی بٹ ہوا کرتے تھے۔ وہ میری تیمار داری کے لئے ہسپتال آئے وہ واپس جا رہے تھے کہ نظامی صاحب کو میری خبر لینے کیلئے آتے دیکھا۔ بٹ صاحب نے بتایا کہ منیر کا سر اور چہرہ زخموں سے چور اوررنگت سیاہ ہوچکی ہے تو نظامی صاحب واپس چلے گئے انہوں نے کہا خوبصورت نوجوان کو اس حالت میں دیکھنا مشکل ہے۔
اس دورمیں تیزاب پھینک کر جھلسانے اور زخمی کرنے کی سزا تین ماہ قید تھی۔ ان دنوں تیزاب پھینک کر زخمی کرنے کے اوپر تلے 6 سات واقعات ہوئے تو نوائے وقت میں اس معاملے پر ادارئیے لکھے گئے جن کا حکومت نے نوٹس لیا اور سزا سات سال کر دی گئی۔
ملزموں کے خلاف کیس چلا، پولیس نے کیس خراب کرنے کی کوشش کی، ملزم پارٹی امیر تھی، مقدمے پر پوری طرح اثر انداز ہوئی، مرزا سلطان بیگ جو ریڈیو پاکستان لاہور پر نظام دین کے نام سے پروگرام کرتے تھے عدالت میں پیش ہو گئے، انہوں نے کہا وقوعہ کے وقت ملزم میرے پاس بیٹھا تھا۔ اسے سٹی مجسٹریٹ سید ناصر علی شاہ نے کمرہ عدالت سے جھوٹی گواہی دینے پر نکال دیا۔ ملزم کو ایک سال سزا ہوئی۔ اس کے چند ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت آئی تو سزائیں معاف ہونے پر ہمارا ملزم بھی رہا ہو گیا، ہم نے سیشن جج جناب نثار شیخ تک اپروچ کی ان سے عرض کی، جناب! انصاف چاہئے، انہوں نے کیس کی سماعت کی اورمجرم کو تین سال سزا سنائی، سزا پوری کرنے کے بعد مجرم پارٹی نے معافی طلب کی تاکہ دشمنی آگے نہ چلے، ہم نے معاملہ یہیں پر ختم کرنے کو بہتر سمجھا، ان لوگوں سے صلح اس حد ہوئی کہ دشمنی آگے بڑھنے سے رک گئی۔

ان کے ساتھ ہم نے تعلقات، لینا دینا اور آنا جانا چھوڑ دیا، یہاں میں یہ تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں، میرے والد کے ایک دوست حکیم تھے۔ والد صاحب مجھے ان کے پاس لے گئے، حکیم صاحب نے مجھ سے فضل دین میڈیکل سٹور سے زنک منگوائی، اس میں کچھ مزید ادویات ملا کر مجھے زخموں پر لگانے کو کہا۔ سر اور چہرے پر اسے حکیم صاحب کی ہدایت کے مطابق لگاتا رہا، جس سے سر اور چہرہ داغوں سے پاک ہو گیا، گردن اور بازوں پر نہیں لگائی تو جہاں ابھی تک جلے کے نشان ہیں۔
٭٭٭ 
معروف قانون دان اور سابق جسٹس ہائی کورٹ آفتاب فرخ کہتے ہیں۔”میں کالج کے دور میں مری گیا، جہاں والد صاحب کرائے پر گھر لے لیا کرتے تھے۔ میں ایڈونچر کیلئے  گھر سے نکل جاتا، ایک مرتبہ ایک ندی پر پل کے نیچے سے خوبصورت چھوٹے چھوٹے پرندے باہر نکل رہے تھے، میں نے ان کی تصویر بنانا چاہی، ایک ہاتھ میں کیمرہ تھا دوسرے سے پل کا شہتیر پکڑا ہوا تھا، پرندے اپنے اپنے بچوں کو خوراک دے رہے تھے، میں خوبصورت منظر کو اپنے کمرے میں بڑی مہارت سے محفوظ کر رہا تھا۔ اتنے میں شہتیر سے ہاتھ پھسل گیا تو میں نیچے کی طرف آ رہا، اس دوران سر کا بایاں حصہ ایک پتھر سے ٹکرایا۔ اس کے بعد ہوش نہیں رہا۔ خیرت یہ ہوئی کہ پندرہ سولہ فٹ نیچے پانی تھا اس میں جا گرا جو زیادہ گہرا نہیں تھا، مگر یخ بستہ تھا جو زخم پر پڑا تو خون رسنا بند ہو گیا۔ اس ندی کے ساتھ ایک پگڈنڈی تھی، کچھ دیر بعد ڈاکیا یہاں سے گزرا تو اس نے مجھے دیکھا اور پہچان کر گھر میں اطلاع دی۔ گھر والے اٹھا کر لے گئے، چوٹ گہری لگ سکتی تھی، پانی زیادہ ہوتا تو ڈوبنے کا خدشہ بھی تھا کیونکہ میں پوری طرح حواس میں نہیں، زخم پر ٹھنڈہ پانی پڑنے سے خون رسنا بند نہ ہوتا تو زیادہ خون بہنے سے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ یہ سوچ کر آج بھی خوف کی ایک لہر جسم میں دوڑتی محسوس ہوتی ہے۔“
 ”ستر کی دہائی میں بائی روڈ استنبول کی سیر کیلئے دوستوں کے ساتھ جانے کا پروگرام بنایا۔ افغانستان اور ایران کے سفراور سیاحت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے استنبول پہنچے۔ یہی ہماری منزل تھی۔ واپسی پر مشہد میں آ کر قیام کیا، جہاں سے افغانستان کے لئے روانہ ہوئے، چند کلومیٹر چلنے کے بعد میں نے گاڑی رکوائی۔ جہاں چینج اوور کیا۔ پتلون شرٹ بریف کیس میں رکھی اور شلوار قمیض زیب تن کر لی۔ میری عادت ہے، اپنے پیسے ایک جگہ رکھنے کے بجائے انہیں تقسیم کر کے رکھتا ہوں۔ پتلون کی بیک پاکٹ میں 400 ڈالر رکھے تھے۔ افغان بارڈر کراس کیا تو سڑک کو پتھروں سے بلاک کیا ہوا پایا۔ ڈرائیونگ ہمارا دوست بٹ کر رہا تھا۔ میں نے سڑک بلاک دیکھی تو کہا۔”بٹ دھیان سے ڈاکہ۔“…… بٹ نے لاپروائی سے کہا۔”کونسا ڈاکہ“۔ اس دوران کار سڑک کے درمیان میں رکاوٹ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ مجھے بائیں جانب پتھر کی اوٹ میں منڈا سہ نظر آیا۔ میں نے اسکی طرف اشارہ کیا تو پچھلی سیٹ پر بیٹھے خلیل الرحمن خان نے کہا۔”ایک دائیں جانب بھی ہے“۔ میں ڈرائیو کر رہا ہوتا تو فوراً بیک گیئر لگا کر جہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا۔ بٹ نے اس طرف غور نہیں کیا تھا۔ اس دوران چارافراد دائیں بائیں اور سامنے سے بندوقیں لہراتے نمودار ہوئے۔ انہوں نے آناً فاناً فائر کھول دیا۔ گولیاں سکرین میں لگیں۔ بونٹ میں لگیں او رسائیڈوں پر بھی لگیں۔ اس کے بعد وہ ہمارے پاس آئے۔ ڈالر ڈالر کہہ رہے تھے۔ میں نے اپنا بریف کیس ان کے حوالے کیا تو ایک ڈاکو نے کھول کر دیکھا تو اس میں کپڑے تھے تو واپس کر دیا۔ پھر ڈالر ڈالر کہا تو میں نے دوسری دفعہ بریف کیس اس کی طرف بڑھادیا۔اس پر راہزن نے غصے سے پکڑکر باہر پھینک دیا۔ انہوں نے ہمارے بوٹوں اور جرابوں تک کی تلاشی لی، نقدی، گھڑیاں اورکیمرہ سمیت جو کچھ تھا لے کر چلتے بنے۔ ہم اسی دوران بلند آوازمیں کلمہ اور درود پڑھتے رہے تھے تاکہ ان کو احساس ہوکہ ہم مسلمان ہیں مگر ان کو نہ ہمارے مسلمان ہونے کی پروا تھی نہ ہی انسان ہونے کی فکر تھی۔ ان کو ڈالروں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے سیدھی فائرنگ ہمیں خوفزدہ کرنے کیلئے نہیں کی تھی، وہ ہمیں جان سے مار دینا چاہتے تھے۔ ہمارے بچ جانے پر انہیں کوئی پریشانی بھی نہیں تھی۔ اصل مقصد لوٹ مار کرنا تھا جو انہوں نے کر لی۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے جائزہ لیا تو ہم میں سے کسی کو خراش تک نہیں آئی تھی۔ یہ معجزے سے کم نہیں تھا۔ ایک گولی کو سکرین میں سوراخ کرتے ہوئے میرے سینے میں پیوست ہونا چاہیے تھا لیکن وہ ڈیفلیکٹ ہو کر پچھلے شیشے سے پار ہو گئی۔ پچھلی سیٹ پر ایس ایم مسعود اور خلیل الرحمن خان بیٹھے تھے۔ وہ نہ صرف اس گولی سے محفوظ رہے بلکہ کار کے سامنے اور دائیں بائیں سے 8 گولیاں ایک طرف سے لگ کر دوسری طرف سے نکل گئیں عقل حیران ہے کہ ہم بچ کیسے گئے!
ہم نے آگے جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے بریف کیس اٹھا کر گاڑی میں رکھ لیا مگر مجھے اس میں پڑی پتلون کی جیب میں موجود پیسوں کے بارے میں یاد نہیں تھا۔ میں نے بٹ سے کوگاڑی چلانے کو کہا۔ اس نے جواب دیا، ریڈی ایٹر میں سوراخ ہو گئے ہیں۔ پانی بہہ گیا ہے ایک ٹائر فائرنگ سے پھٹ گیا ہے۔ گاڑی کیسے چلاؤں۔گرم ہوکر انجن سیزہوسکتا ہے۔میں نے زور دیکر کہا، تم گاڑی چلاؤ کوئی پتہ نہیں ڈاکوہم میں سے ایک دوکو تاوان کیلئے اغواء کر لیں۔ بٹ گاڑی گرم ہونے کے خدشے پر ہچکچا رہا تھا۔میں نے سٹیرنگ سنبھالا تو سٹیرنگ بھی درست کام نہیں کررہا تھا۔ بہر حال میں نے گاڑی چلا دی۔ تھوڑے فاصلے پر افغان پولیس تھی۔ اس کو صورت حال بتائی۔ اس نے ڈاکوؤں کی شکل و صورت کے بارے میں پوچھا اور ہمیں ہرات شہر کے ایک ہوٹل میں پہنچا دیا۔میں پولیس کی گاڑی کے ساتھ اپنی گاڑی آہستگی سے چلاتا رہا۔
ہوٹل میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اللہ نے ہم سے کوئی کام لینا ہے۔ جس کی خاطر معجزانہ طور پر ہمیں محفوظ رکھا۔ بعد میں خلیل الرحمن خان پہلے لاہور ہائیکورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔ میں بھی جج بنا اور ایس ایم مسعود وزیر قانون بنے۔ بٹ موٹر مکینک تھا۔ اسے گاڑی کی حالت درست رکھنے کے لئے ساتھ لیا تھا۔ ہوٹل میں خلیل الرحمن خان کی یہ بات دماغ اور اعصاب پر زیادہ ہی اثر انداز ہوئی۔ انہوں نے کہا،ہم میں سے کوئی فائرنگ میں مارا جاتا تو دوسروں کے خاندان نے کسی کی نہیں سننی تھی۔ قتل کا الزام لگتا اور ہم ہو سکتا ہے برے انجام سے دو چار ہوتے۔ اس کے بعد تو گویا ہمارے دماغ ماؤف ہو گئے۔ اسی کیفیت میں ہم سو گئے اور چار گھنٹے بعد بیدار ہوئے۔ ساتھیوں نے مجھے کابل جا کر اپنے دوستوں سے پیسے لے کر آنے کو کہا۔ اسی دوران مجھے یاد آیا۔ بریف کیس میں میری پتلون میں 4 سو ڈالر ہو سکتے ہیں۔ میں نے دیکھا تو پیسے موجود تھے۔ اس پر کسی نے کہا اچھا کھانا کھاتے ہیں۔ایک نے ایک سگریٹ کے لئے پیسے مانگے مگر میں نے انکار کر دیا اور کہا، پہلے گاڑی ٹھیک کرائیں گے۔ ہوٹل کے قریب ہی کباڑ کی دکانیں تھیں، وہاں گئے تو ان لوگوں نے ہمدردی کا اظہار کیا۔ان کو واقعے کی اطلاع ہوچکی تھی۔وہ ڈکیتی پر ڈاکوؤں کا سیاپا کرنے لگے۔انہوں نے ریڈی ایٹر مرمت کر دیا۔ پھٹا ہوا ٹائر بھی بدل دیا اور زیادہ پیسے بھی نہیں لئے۔ کابل جا کر ونڈ سکرین تبدیل کرائی اور وطن عزیز وعظیم کا رخ کیا۔ میں اس حادثے کے بعد زندگی کو خدا وند کریم کی خصوصی عنایت سمجھتا ہوں۔
٭٭٭
13 فروری 2016کو نوائے وقت کے کلچرل رپورٹر سیف اللہ سپرا کی صاجزادی  مریم سپراکی الجنت ہال میں شادی تھی۔ اس میں اداکار سہیل احمد بھی مدعو تھے۔ اتفاق سے وہ ہمارے ساتھ آکے بیٹھ گئے۔اس ٹیبل پر چیف آپریٹنگ افسر نوائے وقت گروپ اعظم بدر،سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشیداور طاہر فضل حسین اعوان پہلے سے بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے بھی سوال کیا تو انہوں نے کہا۔”اس عمر تک انسان کے ساتھ بے شمار واقعات پیش آتے ہیں۔ ان میں دل دہلا دینے والے بھی ہوتے۔ موت کو تو کئی بار قریب سے دیکھا ہے ”سٹیل مل یونین کے سیکرٹری شمشاد قریشی سے بڑی دوستی تھی۔ انہوں نے سٹیل مل میں ایک فنکشن پر آنے کو کہا۔ میں نے مصروفیت کا عذر پیش کیا۔ انہوں نے کہا، بس تھوڑا سا وقت دے دیں۔ فنکشن پوری رات چلنا ہے آپ جب بھی آ جائیں۔ انہوں نے 4 ٹکٹ بھی بھجوا دیئے۔میں نے مستانہ اور ببوبرال کو تیار کیا۔ انہوں نے عین موقع پر لاہور سے کراچی جانے سے معذرت کر لی۔ میں عابد خان اور مدثر ایوب، شاہین ائرلائن  پرروانہ ہو گئے۔ دوران پرواز ہم آپس میں گپ شپ 

لگا رہے تھے۔ پرواز ہموار سفر خوشگوار تھا۔اس دوران پائلٹ کی طرف سے اعلان کیا گیا ”اطلاع موصول ہوئی ہے جہاز میں بم ہے اس لئے  ہم جہازکو واپس لاہور لے جا رہے ہیں“۔پائلٹ کی طرف سے جہاز میں بم کی اطلاع پر ہی یوں سمجھ لیں، ہم مسافروں پر تو بم گر گیا۔ایک بھونچال کی کیفیت تھی۔ایک سیکنڈ میں سب کچھ بدل گیا۔ جہاز کے اندر ہوہا کار مچ گئی۔ خوف سا کوئی خوف تھا۔الا ماں و الحفیظ۔کوئی رو رہا تھا کوئی چلّا رہا تھا۔ کلمہ و قل اور درود یا جو کچھ بھی کسی کو یادتھا ہر کوئی بآواز بلند پڑھ رہا تھا۔ لوگ کھڑے ہوکرسامنے سیٹوں کو تھامے گِڑگڑارہے تھا۔گویا یہ سیٹیں دیوارِ گریہ بن گئی تھیں۔ ایک ایک لمحہ قیامت پر بھاری تھا۔ اس دوران پائلٹ خود مسافروں کے اپارٹمنٹ میں آیا۔ مجھے دیکھ کر میرے پاس آگیا۔ میں نے پوچھا، ہم اس وقت کہاں ہیں تو اس نے کہا ملتان کے قریب ہیں۔ میں کہا یہیں جہاز اُتار لیں۔ پائلٹ کا جواب حیرت انگیز اور تعجب خیز تھا۔”ہمیں ہیڈ کوارٹر کی طرف سے لاہور جانے کو کہا گیا ہے۔“ کمپنی کو مسافروں اور خود اپنے جہاز کی فکر پروانہیں تھی۔ جہاز کی شاید انشورنس ہو چکی تھی اور ملتان میں لینڈنگ کی  نجی کمپنی کو فیس ادا کرنا پڑنی تھی۔ لاہور جہاز 25 منٹ میں پہنچا یہ 25 منٹ ایک صدی پر بھاری تھے۔ جہاں انسان کی بے بسی نظر آئی۔ میں نے ان چند منٹ میں اپنی موت اور جنازہ اٹھتے دیکھا۔ خود کودفنائے جانے کا منظر ملاحظہ کیا۔ اپنے بچوں کے بارے میں سوچا کہ کیا ہو گا۔ بالآخر جہاز لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ایئر پورٹ پرایمبولینسوں، فائر برگیڈ اورخطرے سے نمٹنے کے لئے عملے کی نقل وحرکت نے خوف میں مزید اضافہ کردیا۔ جہاں جہاز کوعمارتوں سے دور لے جا کر کھڑا کر دیا گیا۔ مسافروں سے جلد اتر کے کچھ فاصلے پر شاید ٹیوب ویل تھا اس کی لائٹ جل رہی تھی، اس طرف بھاگ کر جانے کو کہا گیا۔ جہاز سے اترے تو ہواس کچھ بحال ہو گئے۔ مسافر پائلٹ کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ مسافروں کو جہاز میں بم کی اطلاع دیدی۔ بہر حال ہم نے جان بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ یہ واقعہ اب بھی یاد آتاہے تورات  کواُٹھ کر بیٹھ جاتاہوں۔ 
انسان کی حیثیت ہی کیا ہے۔
 ایک مرتبہ فیصل آباد میں پروگرام کرنے کے بعد ملتان جانا تھا۔ جواد وسیم اور نواز انجم ساتھ تھے۔فیصل آباد سے ہم لوگ ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کرپائے تھے۔ سامنے سے آنیوالا ٹرک ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کار سے ٹکرایا جس سے کار میں ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا بھاری بھرکم نوجوان ایسے سڑک کے درمیان میں آ گرا جیسے کسی نے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگائی ہے۔ میرے لئے تو جاں سوز اور دلدوز واقعہ تھا۔ میں نے بریک لگائی۔ کار سے گرنے والے نوجوان نے اس طرح گرنے کے بعد اٹھنا کیا تھا! اس کے جسم میں ہلکی سی جنبش محسوس ہوئی۔ میری نظر اس کے سینے پر تھی۔ ہماری گاڑی ابھی پوری طرح رکی نہیں تھی کہ بیک سائیڈ سے آنے والا ٹرک اسے کچل او مسل کر گزر گیا۔ پانچ سیکنڈ میں جیتے جاگتے، خوبرو انسان کا اب وہاں وجود اور نام ونشاں نہیں تھا۔ ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پرکھڑی کی۔ایک گھنٹہ ہوش ہی نہ آئی۔ سوچتارہا،یہ انسان کی اوقات ہے۔ یہ دونوں اپنی نوعیت کے منفرد واقعات ہیں جو جب بھی یاد آتے ہیں ایک سنسنی سی محسوس ہوتی ہے“۔
٭٭٭
 سید مواحد حسین شاہ کہتے ہیں میں امریکہ میں ایک پارک میں واک کر رہا تھا۔ میرے سامنے ایک شخص سینے پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ اس کے سینے سے خون ابل رہا تھا۔ میں نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ گر گیا۔ اس کے سینے میں کسی نے خنجر اتار دیا تھا۔ معلوم ہوا کہ دو کالے آپس میں تکرار کر رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا وہ گوروں سے شدید نفرت کرتا ہے۔ دوسرے نے کہا اس کا ثبوت کیا ہے تو اس نے قریب چلتے ہوئے گورے کے سینے میں خنجر گھونپ دیا۔
 ٭٭٭ 

 

متعلقہ خبریں