لاہور ایک بار پھر کورونا کے نشانے پر۔ حکومت کا لاک ڈاؤن پرغور۔ اس بار کتنی دیر کا لاک ڈاؤن ہوگا؟ تفصیل جانئے اس خبر میں

2020 ,جون 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) : کوروناکے بڑھتے کیسز روکنے کیلئے پنجاب حکومت نے پیرسے2ہفتےکےلاک ڈاؤن پرغور شروع کردیا ہے اور ایس اوپیز مزید سخت کرنے کیلئے وفاق کو سفارشات بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں کورونا صورتحال کاجائزہ لیا گیا ، اجلاس میں لاہورمیں کورونا کے بڑھتے کیسز روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ پیر سے2ہفتے کے لاک ڈاؤن پر غور شروع کردیا ہے،لاک ڈاؤن میں ضروری میڈیسن، گروسری دکانیں کھلی رہیں گی۔

اجلاس میں 2 ہفتے کیلئےایس اوپیزمزیدسخت کرنےکیلئے وفاق کوسفارشات بھیجنےکا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا وفاقی حکومت کی حتمی منظوری کے بعد لاہور کیلئے علیحدہ حکمت عملی پرعملدرآمدہوگا۔ دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے کے بعد صورتحال تشویشناک ہے، پنجاب میں نصف سے زائدکیسز لاہور میں ہیں، بازاروں،مارکیٹوں میں ایس اوپیزخلاف ورزیاں دیکھی جارہی ہیں اور ماسک،سماجی فاصلہ،دیگراحتیاطی تدابیراختیار نہ کرنے سے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا پنجاب میں کورونا مریضوں کیلئے درکار انجکشن کی کمی نہیں ہونی چاہیے، ایک ہفتےمیں پنجاب میں تقریباً 700انجکشن اسپتالوں کو دیئے جائیں گے، انجکشن کی تقسیم مریضوں کی تعداد کے تناسب سے کی جائے گی۔ گذشتہ روز پنجاب حکومت نے صوبے میں کورونا کے پھیلاﺅ پراظہار تشویش کرتے ہوئے لاہور میں پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے علیحدہ حکمت عملی اور ماہرین پر مشتمل گروپ سے تجاویز طلب کر لی تھیں۔

وزیراعلی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ماسک کی پابندی اور ایس او پیز پر من و عن عملدرامد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی، اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سردار عثمان بزدار نے کہا تھا کہ حکومت عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی جبکہ سیلاب کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر محکمہ آبپاشی اور متعلقہ ادارے اپنی تیاریاں مکمل رکھیں۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ صورتحال مشکل ضرورہے لیکن ہم سب کا عزم اس سے بلند ہے، باہمی تعاون اورعوام کی حمایت سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے، عوام کی زندگیاں محفوظ کرنے کیلئے مزید اقدامات جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں