بریگزٹ پر عملدرآمد کیخلاف اراکین برطانوی پارلیمان ووٹ دینگے

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 11, 2016 | 17:10 شام

برطانیہ (شفق ڈیسک) لبرل ڈیموکریٹ لیڈر ٹم فیرن نے کہا کہ انکی جماعت اس وقت تک اسکی مخالفت کریگی جب تک برطانیہ کے یورپی یونین کے رہنماؤں کیساتھ بریگزٹ پر معاہدے پر دوسرا ریفرنڈم نہیں ہوتا۔ لیبر پارٹی کے یہ کہنے کے باوجود کے وہ اسکی مخالفت نہیں کرے گی اسکے کئی ممبر پارلیمان بھی اسکے خلاف ووٹ دینے کیلئے تیار ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لبرل ڈیموکریٹ اور لیبر کے ممبر پارلیمان ریفرنڈم کے نتائج کو روکنے اور واپس موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کنزر ویٹو ممبر پارلیمان کی حمایت اور متعدد لیبر پارلیمان کے غیر ح

اضر رہنے کی وجہ سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ یہ مسودہ قانون دارالعوام سے پاس ہو جائے۔ لیکن کچھ ممبر پارلیمان کی مخالفت سے ممکن ہے کہ دارالامرا میں اس پر تنقید کرنیوالوں کو شے ملے۔ ٹم فیرن کی جماعت دوسرے ریفرنڈم تک اس کی مخالفت کریگی لبرل ڈیموکریٹس کافی عرصے سے حکومت کے یورپی یونین کیساتھ مذاکرات پر ریفرنڈم کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب انہوں نے کہا کہ اگر انکے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو وہ لازمی طور پر آرٹیکل پچاس کیخلاف ووٹ دینگے۔ ٹم فیرن نے جنکی جماعت کے دارالعوام میں آٹھ ممبر پارلیمان ہیں بتایا کہ آرٹیکل پچاس تب ہی آگے بڑھے گا جب معاہدے کی شرائط پر ریفرنڈم ہو گا اور اگر برطانوی عوام کی قدر نہ کی گئی تو ہاں ایک سرخ لکیر ہے اور ہم حکومت کیخلاف ووٹ ڈالیں گے۔ لیبر کی شیڈو منسٹر کیتھرین ویسٹ، لیبر کی قیادت کے سابق امیدوار اون سمتھ اور جنوبی لندن سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمان ہیلن ہیز نے واضح طور پر کہا کہ وہ آرٹیکل پچاس کیخلاف ووٹ ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔ ایس این پی کے چون ممبر پارلیمان بھی ان میں شامل ہو سکتے ہیں۔ فرسٹ منسٹر نکولا سٹروجن نے کہا کہ وہ کسی ایسی چیز کیلئے ووٹ نہیں ڈالیں گے جو سکاٹ لینڈ کے عوام کو ترجیح نہ دی جائے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزیٹ کیلئے یورپی یونین کی دفعات کو برطانوی قانون بنانے کے خلاف ووٹ دینگی۔