ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مقتول و قاتل ...لہو بھرا تھڑا ۔۔۔

2019 ,اکتوبر 30



ماس میڈیا کا آفس ایک ٹیبل چیئر اور ایک ڈبل ڈور الماری پر مشتمل تھا۔ مجھ سے پہلے طاہر علوی انچارج تھے۔ ساتھ والی ٹیبل شعبہ اطلاعات و نشریات کی تھی جس کے گرداگرد رسائل و جرائد کی قدِ آدم دیوار ہوا کرتی تھی۔ قدرے ہٹ کر مہتمم بیت المال اور ساتھ ہی مہتمم دفتر کی میزیں۔ ہلکے کریمی رنگ کی دیواروں اور الماریوں کی وجہ سے یہ قدرے روشن کمرہ تھا ۔۔۔

شاید شعبہ امیدواران کے ذمہ دار ساتھی بھی اسی کمرے میں کہیں اپنا دفتر "لگاتے" تھے۔ زمین سے پتلی سے گول گھومتی سیڑھیاں چڑھتے تو راستے میں آدھی منزل پر بھی ایک غار نما دفتر پایا جاتا تھا ۔۔۔ پہلی منزل جو آخری بھی تھی، کے شروع ہوتے ہی ایک مستطیل دالان ملتا، جس میں دو تین سنٹر ٹیبلز، جن پر تازہ اخبار و جرائد۔ کریمی پلاسٹک تار کی بُنی چند شیشم کی کرسیاں۔

اسی دالان کا بغلی دروازہ سیدھا اس بڑے کمرے میں کھلتا تھا جس میں تین چار ذمہ داران کے میزی دفاتر موجود تھے۔ اس کمرے سے ایک چھوٹا دو پٹی دروازہ گزر کر بائیں ہاتھ وہ کمرہ آتا تھا جس میں وقت کا درویش نوجوان اکثر محو عبادت ہی پایا جاتا تھا۔۔۔ اس درویش کا ایک مستقل ملاقاتی، جو گھر کا فرد ہی تھا، بار بار چکر لگاتا رہتا تھا۔

سمارٹ اکہرے بدن کا یہ نستعلیقی لڑکا ون اے ذیلدار پارک کے ہر کمرے کونے میں پایا جاتا تھا۔ ہر ہر کی مدد اپنی ذمہ داری سمجھتا ۔۔۔ 1990ء کے آخر میں میں نے نئی موٹرسائیکل خریدی تو پہلے دعا کی اور پھر اس کا ہینڈل پکڑ کر دیر تک تکنیکی، حفاظتی ہدایات دیں۔۔۔ پھر مجھے کہا اسٹارٹ کریں۔ میرے پیچھے بیٹھ کر قریب ہی ایک مکینک تک لے گئے، کہنے لگے، یہ ایماندار بندہ ہے اور مکینک کو کہا میرا بھائی ہے ۔۔۔ کبھی اجمیری پر چنا فرائی کا مزہ لینے پہنچ جاتے اور پھر اُمت کی فکر میں رات بھیگنے تک بیٹھ رہتے۔ بل وہی ادا کرتے۔

۔۔۔ گول گھومتی سیڑھیوں کی ابتداء ایک تھڑے سے ہوا کرتی تھی جس تک پہنچنے کے لئے بھی چھ سات سیڑھیوں کا الگ سے انٹرو بنا ہوا تھا جو عقب کے دفاتر کے راستے کا حصہ تھا ۔۔۔ اس تھڑے پر اوپر جانے سے پہلے ایک آہنی دوپٹی دروازہ تھا ۔۔۔ باہر سے آتے، مین گیٹ سے پہلے لاہور دفتر کے باہر بائیکس کھڑی کرتے اور پھر ۔۔۔ ہم اکثر دوڑ لگاتے، سیڑھیاں پھلانگتے اس تھڑے پر سے گزر جاتے ۔۔۔

مجھے یاد ہے ۔۔۔ جب قریباً دس بجے شب ایک اندوہناک خبر سن کر ہم مرکز پہنچے ۔۔۔ تھڑا تازہ خون گرم سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔ جس کی دھاریں سیڑھیوں سے اترتی جم گئی تھیں ۔۔۔ لوہے کے دو پٹی دروازے میں گولیوں کے سوراخ تھے ۔۔۔ 

مجھے یاد ہے ۔۔۔ جب مرکز کی نئی عمارت بنانے کا پروگرام بنا تو اسلامیہ کالج سول لائنز میں فنڈ ریزنگ تقریب ہوئی ۔۔۔ برادر خالد عثمان نے بتایا کہ مرکز کی پرانی عمارت گرا دی گئی ہے ۔۔۔ دل چیخ اٹھا ۔۔۔ وہ خون آلود تھڑا بھی  ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا ۔۔۔

میرے جیون میں اس تھڑے کی حیثیت کربلا کی مٹی جیسی تھی ۔۔۔ مجھے سہیل حنیف کی خوشبو آتی تھی ۔۔۔ سہیل بھائی کاش آپ کے خون سے یہاں انقلاب آ چکا ہوتا ۔۔۔

کیسے کیسے درویش کھا گئی ظلمت کدوں کی یہ سیاستیں ۔۔۔ سہیل ۔۔۔ اللہ تجھے اپنی جنتوں میں خوش رکھے سدا ۔۔۔ آمین
(محمد فاروق بھٹی)

متعلقہ خبریں