بیت المعمورساتویں آسمان پر

2018 ,فروری 27



بیت المعمورساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کی طرز پر ایک گھر ہے جس کے گرد ہر وقت ہزاروں فرشتے طواف کرتے رہتے ہیں۔ بیت المعمورساتویں آسمان پر بالکل خانہ کعبہ کی سیدھ میں واقع ہے۔ کتب میں لکھا ہے کہ اس کا طواف روزانہ ستر ہزار فرشتے کرتے ہیں۔اور جو فرشتہ بیت المعمور میں ایک مرتبہ طواف کر لیتا ہے اس کی قیامت تک پھر باری نہیں آئے گی۔قرآن حکیم میں سورہ طور میں بیت المعمور کا ذکر ہوا ہے۔طور کی قسم اور اس مسطور کی جو کُھلے دفتر میں لکھا ہے اور بیعتِ معمور۔ اور بلند چھت۔۔حدیث شریف میں ہے کہ فرشتوں کا قبلہ بیتُ المعمور ہے جو آسمان میں ہے اورخانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہے۔ (کنز العمال، کتاب الفضائل، باب فی فضائل الامکنۃ)معراج شریف کی طویل حدیث میں سے کچھ حصہ یوں بھی ہے۔ ساتویں آسمان پر نبی اکرم ﷺ جب تشریف لائے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ جو ایک بار آتے ہیں دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے (مسلم شریف)دلائلِ النبوۃ میں یوں ہے۔یہاں تمام انبیاء اورمُرسَلین کے ساتھ نماز پڑھی اور''بَیْتُ الْمَعْمُور''میں سب انبیاء اور امت مرحومہ اور پچھلی امتوں کے ایمان والوں نے بھی آپ کی امامت میں نماز پڑھی۔ کچھ لوگ پہلی صف میں تھے کچھ دوسری کچھ تیسری اور کچھ ان صفوں میں تھے جو بیت المعمور کے باہر تھیں، فرق مَراتِب میں تھا ،اُن میں کچھ کے کپڑے سفید تھے اور کچھ کے میلے۔ سفید والے صالحین ہیں اور میلے گنہگار تھے ان سب نے بیت المعمور میں نماز ادا کی۔ (دلائل النبوۃ و بیھقی شریف ،ابواب المبعث)اور بعض علماء نے اس میں اختلاف بھی کیا ہے کہ معراج کی شب تمام انبیاء نے بیت المقدس میں آپ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی اور بیت المعمور میں آپ کی امامت میں صرف فرشتوں نے نماز ادا کی۔ واللہ اعلمبحار الانوار میں ہے کہ بیت المعمور زمین اور آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے تخلیق کیا گیا۔ذہن میں رہے آسمان سات ہی ہیں۔ جس کو آج تک سائنس ثابت نہیں کرسکی۔ لیکن اس پر ہمارا ایمان ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالی خود ارشاد فرماتا ہے۔جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ یعنی کوئی خلا نظر آتا ہے۔ (سورہ ملک آیت 3)بہر حال بیت المعمور فرشتوں کا قبلہ ہے جو سات آسمانوں سے اوپر ہے عین کعبہ معظمہ کے اوپر ہے۔ وہ کیسا ہے۔ کتنا بڑا ہے۔ کس رنگ کا ہے کس چیز سے بنا ہے۔ اس بارے میں (میرے علم کے مطابق) احادیث میں کوئی معلومات نہیں۔ واللہ اعلم

متعلقہ خبریں