نبی کریم ﷺ کا صبرِ جمیل

2017 ,مارچ 24



لاہور(مہرماہ رپورٹ):االلہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺکی ذات اقدس کو بے شمار خوبیوں سے مزین فرمایا…مگر آپ ﷺ ہر وقت اپنے رب کریم کی بارگاہ میں سراپا عجزونیاز بنے رہتے۔ کیونکہ آپﷺ کو اپنے رب العلیٰ کی بارگاہ عظمت میں ہاتھ باندھے کھڑا رہنا اور اپنی جبین نیاز کو جھکانا بڑا پسند تھا ۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمﷺ نماز میں اتنی اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک میں ورم پڑجاتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ :’’یا رسول اللہؐ! آپﷺ تو معصوم ہیں پھر اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا …افلا اکون عبداشکورا۔کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (صحیح بخاری )

 

باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو سب سے بہتر عاقبت کی بشارت سے نوازا۔آپﷺ ہمیشہ اپنے بے نیاز رب کی رضا کے طالب رہتے اور اس کے خوف سے گریہ وزاری فرماتے۔ آپﷺ کی چشمان مبارک میں رب العزت کی رضا کا شوق اور عذاب الہٰی کا سخت خوف واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ چنانچہ جب کبھی آندھی چلتی اور بارش کے آثار نمایاں ہوتے تو آپﷺ کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہو جاتے اور حالت اضطراب میں کبھی آپﷺ کاشانہ نبوت میں داخل ہوتے اور پھر کبھی باہر نکلتے۔ کبھی آگے بڑھتے او رکبھی پیچھے ہٹتے اور بے چین ہو کر صدق دل سے اپنے رب کریم کی بارگاہ میں دست سوال اٹھا کر عرض کناں ہوتے۔ اے رب کریم! ہمیں اپنے قہر و غضب سے اپنی پناہ میں رکھ پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپﷺ پر سکون ہو جاتے۔

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہؓ عرض کرتی ہیں کہ میں نے کہا: ’’یارسول اللہﷺ! آندھی کا چلنا تو بارش کی نوید مسرت لاتا ہے۔۔۔۔ اس پر تو آپﷺ کو خوش ہونا چاہئے جیسے دوسرے لوگ خوش ہوجاتے ہیں مگر میں دیکھتی ہوں کہ آپﷺ کے چہرے پہ بجائے خوشی کے خوف کے آثار چھا جاتے ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا:اے عائشہ! میں اس لئے خوف زدہ ہو جاتا ہوں کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو اور ایک قوم آندھیوں سے ہلاک ہو چکی ہے اور ایک قوم نے بادلوں کو آتا دیکھ کر خوشی میں کہا تھا کہ یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے مگر اس میں عذاب تھا جس سے وہ لو گ ہلاک کر دیئے گئے۔‘‘ (صحیح مسلم)

ایک عبد کامل کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اسے اس کی زندگی میں خوشیوں کا کوئی بڑے سے بڑا طوفان اور غم واندوہ کے مضبوط سے مضبوط تر پہاڑ بھی اس بندے کو اپنے رب کی یاد سے غافل اور اس کے احکام کی بجا آوری سے دور نہ کر سکے۔فتح مکہ آپﷺ اور آپ کے پاکباز اصحاب کیلئے ایک بڑا ہی فرحت و مسرت انگیز موقع تھا جس کی خوشیوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ مگر آپﷺ اس عظیم خوشی کے موقعہ پر بھی فخروغرور میں مبتلا نہ ہوئے۔ آپ کی اس دن کیفیت کیا تھی۔ اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ :فتح مکہ کے دن جب رسول اکرم ﷺ مکہ شریف میں داخل ہوئے تو آپﷺ اپنی گردن مبارک جھکائے ہوئے تھے۔ پیکر عجزونیاز بنے اپنے رب کریم کی حمد و ثنا میں مصروف تھے آپﷺ کی پیشانی مبارک کجاوے کی سامنے والی لکڑی کو چھو رہی تھی۔ (المستدرک علی الصحیحین الحاکم)۔

اس دوران آپ کے ساتھ اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہؓ بھی تھے۔ آپ اندر کافی دیر تک ٹھہرے ،جب باہر تشریف لائے تو لوگ جلدی سے آگے بڑھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سب سے پہلے اندر جانے والوں میں تھے۔انہوں نے کعبہ شریف کے دروازے کے پیچھے حضرت بلالؓ کو کھڑے دیکھا اور ان سے پوچھا کہ:۔ حضور اکرمﷺ نے کس جگہ (شکرانے کی) نماز ادا فرمائی۔

 

آپﷺ کے لخت جگر حضرت ابراہیمؓ کی وفات کا موقع آپﷺ کیلئے بڑا اندوہناک تھا ۔اس سے پہلے آپﷺ کے دو صاحبزادے حضرت قاسم اور حضرت عبداللہؓ آپ کو داغ مفارقت دے چکے تھے۔جب ان کا انتقال ہوا، آپﷺ نے ان کو اپنی گود میں اٹھایا تو آپﷺ کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر آئیں اور دل ازحد غمگین تھا۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے تعجب سے کہا کہ:یا رسول اللہؐ آپ آنسو بہارہے ہیں! آقائے کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسوئوں پر عذاب دیتا ہے اور نہ ہی دل کے غم پر اور پھر اپنی زبان اقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :لیکن اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے۔(صحیح بخاری )

آپﷺ کی حیات مبارکہ میں غم واندوہ کے ایسے ایسے حوصلہ شکن پہاڑ آئے جن پر صبر کی طاقت اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے علاوہ کسی کو عطا ہی نہ فرمائی۔چنانچہ آپﷺ کے والد گرامی کا سایہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ کے سر سے اٹھ جانا۔ بچپن میں بحالت سفر آپ کی والدہ مشفقہ کا داغ مفارقت دینا۔ پھر آپ کے شفیق دادا کا رخصت ہو جانا۔ تین سال تک شعب ابھی طالب میں مشفتوں سے لبریز زندگی گزارنا، پھر ایک ہی سال کے اندر آپ کے حامی چچا اور آپ کی غمگسار رفیقہ حیات کا داعی اجل کو لبیک کہنا، آقائے کریمﷺ نے یہ صدمات نہایت اولوالعزمی اور صبر کے ساتھ برداشت کئے اور کبھی اپنی زبان اقدس پر کوئی حرف شکایت نہ لائے۔

متعلقہ خبریں