غزل کے بے تاج بادشاہ ۔" مہدی حسن خان

2017 ,جولائی 19



 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک):  نگار ایوارڈ، ہلال امتیاز، نشان امتیاز اور حسن کارکردگی کے حامل کلاسیکل گائیک اور غزل کے بے تاج بادشاہ مہدی حسن کا 90واں یوم پیدائش منگل کو منایا گیا۔شہنشاہ غزلٍ مہدی حسن13 جون 2012 کو 84 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔ مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ 25 ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔

"  غزل کے بے تاج بادشاہ ۔" مہدی حسن خان " ۔کا 90 واں یومِ پیدائش منایا گیا " 
.
محبّت کرنے والے کم نہ ہوں گے !
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

میں اکثر سوچتا ہوں پُھول کب تک
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے

ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے !
سِتم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے

دِلوں کی اُلجھنیں بڑھتی رہیں گی !
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

زمانے بھر کے غم یا اِک تیرا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے

ہمارے دل میں سیل گریہ ہو گا !
اگر با دیدۂ پُرنم نہ ہوں گے

اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تِری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے

حفیظ اُن سے میں جتنا بد گُماں ہوں
وہ مجھ سے اِس قدر برہم نہ ہوں گے

(حفیظ ہوشیار پوری )
۔

سنگیت کی دنیا میں کئی دہائیوں تک راج کرنے والے مہدی حسن 18جولائی 1927ء کو راجستھان کے علاقے لُونا میں پیدا ہوئے تھے۔
۔مہدی حسن نے مجموعی طور پر 477 فلموں کے لیے گانے گائے ان کے گائے ہوئے گیتوں کی کل تعداد 667 ہے۔ انہوں نے اردو فلموں میں 574 ، پنجابی فلموں میں 91 اور سندھی فلموں میں 2 گیت گائے ۔ فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔ اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب ایک فلم شریک حیات 1968 میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے۔
کئی دہائی پر محیط اس سفر میں انہوں نے مجموعی طور پر پچیس ہزار سے زائد فلمی وغیرفلمی گیت، نغمے اور غزلوں میں آواز کا جادو جگا کر انہیں امر کردیا اور دنیا بھر میں بے مثال شہرت اور عزت پائی۔
مہدی حسن کا انتقال 13 جون 2012ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ کراچی ہی میں آسودہ خاک ہیں ۔

متعلقہ خبریں