اپنی برادری کو حقوق دلانے کیلئے چماری ناری ماہی میدان میں آگئی

2016 ,اکتوبر 4



انڈیا میں دلتوں کی زندگی اجیرن ہے اعلیٰ ذات کے ہندو ان کی انسان بھی نہیں سمجھتے۔اپنی برادری کو حقوق دلانے کیلئے ایک چماری ناری یعنی دلت لڑکی گلاکاری کے میدان میں آگئی ۔17 سالہ گِنی ماہی بھارت میں ذات پات کے نظام کے خلاف انوکھے انداز میں آگاہی کا کام کر رہی ہیں۔ وہ بھارت میں کم تر سمجھی جانے والی ذات ’چمار‘ کے حقوق کی چیمپیئن بن کر ابھری ہیں اور پزیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ماہی کی آواز بھارت بھر میں گونج رہی ہے اور یو ٹیوب پر جاری کی جانے والی ان کی ویڈیوز وائرل ہو گئی ہیں۔ گزشتہ ماہ یعنی ستمبر میں انہوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اپنی پہلی پرفارمنس دی۔نئی دہلی کے وسیع و عریض آڈیٹوریم میں حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے ماہی کا کہنا تھا، ”میں چاہتی ہوں کہ میری کمیونٹی کی عزت و شہرت میں اضافہ ہو اور وہ دنیا بھر میں پہچانی جائے۔“ ان کی پرفارمنس دراصل دلت کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی طرف سے ایک ریلی سے قبل رکھی گئی تھی۔ دلت برادری کو بھارت میں موجود ذات پات کے نظام میں سب سے کم تر سمجھا جاتا ہے اور چمار بھی اسی برادری کی ہی ایک ذات ہے۔ بھارت میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے قوانین موجود ہیں تاہم وہاں ان کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔حاضرین میں موجود زیادہ تر لوگوں نے ماہی کا گانا پہلی بار سنا۔ ان حاضرین کو ایک ایسی آرگنائزیشن نے مدعو کیا تھا جو مختلف دلت آرٹسٹوں کی پرفارمنس کا اہمتام کرتی رہتی ہے۔ شو کے اختتام تک ماہی لوگوں کے دلوں کو جیت چکی تھیں اور انہوں نے پورے جوش اور جذبے سے ماہی کے ساتھ مل کر ذات پات کے نظام کے خلاف نعرے لگائے۔ماہی کی یہ شہرت راتوں رات نہیں پھیلی۔ وہ رواں برس کے آغاز میں بھارت کے انگریزی زبان کے پریس اور سوشل میڈیا پر بھی نظر آئی تھیں۔ بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر میں واقع ان کے گھر کا کمرہ مختلف ایوارڈز سے بھرا ہوا ہے۔ ایوارڈز کے علاوہ اس کمرے میں دلت برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے معروف وکیل بھیم راو¿ رام جی امبیدکر کی تصاویر دیواروں پر سجی ہیں جو دراصل ماہی کے لیے اپنی برادری کے حقوق کی آواز بلند کرنے کی تحریک بنے ہیں۔بھارتی پنجاب کی ایک تہائی آبادی دلت برادری پر مشتمل ہے اور بھارت کی 29 ریاستوں میں سے کسی ایک میں اس برادری کی سب سے بڑی شرح ہے۔ ماہی کے مطابق وہ خود تو کبھی امتیازی سلوک کا شکار نہیں بنیں تاہم وہ چمار ذات سے تعلق رکھنے والوں اور عمومی طور پر دلتوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور امتیازی سلوک سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ” ہر برادری عزت چاہتی ہے۔“ماہی کو پنجاب کی فلم انڈسٹری کی طرف سے بھی گانے کی آفرز موصول ہو رہی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ بھارت میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے میگزین انڈیا ٹوڈے کی طرف سے منعقد کرائے گئے ایک شو میں ماہی نے لی جنڈ فلمسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ اسٹیج پر پرفارمنس دی۔یوں ماہی کا مستقبل بہت تابناک دکھائی دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں