روحیں

2019 ,اکتوبر 4



 خوابوں اور روحوں پر کئی فلمیں بنیں، کتابیں لکھی گئیں اور بے شمار مضمون قلمبند کیے گئے۔ خوابوں اور روحوں کے حوالے سے فلمیں عموماً مفروضوں پر مبنی ہیں تاہم کتابوں اور مضامین میں زیادہ تر حقائق کی عکاسی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں انگریزی فلم انسپشن دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ہیرو خواب میں دوسرے کے خواب میں داخل ہوکر راز چوری کرلیتا ہے، اس نے اپنی ٹیکنیک کو مزید بہتر بنایا اور خواب کے دوران ہی دوسروں کے دماغ میں اپنے نظریات بھی داخل کرنے لگا۔ ٹیلی پیتھی کا مطالعہ کیا جائے اور اس کے مظاہر پر نظر ڈالی جائے تو انسپشن میں جو دکھایا گیا وہ ٹیلی پیتھی یا اس سے ملتے جلتے کسی علم کی جدید شکل ہوسکتی ہے، ایک انگلش فلم ان ٹائم) IN TIME (میں وقت کو متاعِ حیات دکھایا گیا ہے، ٹائم ہی عالمی کرنسی ہے بازو پر کاؤنٹ ڈاؤن کے ساتھ ٹائم نمودار رہتا ہے جو اپنی مرضی سے کسی کو دیا جاسکتا ہے اس پر ڈکیتی بھی پڑتی ہے ٹائم آؤٹ پر موت واقع ہوجاتی ہے انسپشن کے مقابلے میں ان ٹائم مکمل طورپر مفروضہ فلم ہے،انسپشن2010ء میں ریلیز ہوئی خوابوں اور روحوں کی حقیقت پر بہت پہلے بھی لکھا جاچکا ہے اس لیے ہمارا موضوع انسپشن سے ہٹ کر خواب اور روحیں ہیں۔


روحانیت اور خواب میں ٹائم لمٹ کچھ اور ہی ہوتی ہے دو تین منٹ کی نیند میں خواب کے دوران کئی سال کا سفر طے پا جاتا ہے۔ اس کو اس مثال سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص قبرستان سے گزر رہا تھا اُس نے ایک قبر کھلی دیکھی اس کے اندر جھانکا تو ایک بزرگ تلاو ت میں مصروف تھے، نوجوان چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور ابھی سلام ہی کیا تھا کہ بزرگ نے کہا یہاں سے جلدی نکل جاؤ، تمہیں نہیں پتہ کہ تمہارے ساتھ کیا ہورہا ہے نوجوان نے تذبذب کا مظاہرہ کیا تو بزرگ نے اُسے اٹھا کر باہر پھینک دیا، جب وہ قبر سے باہر آیا تو پوری دنیا بدل چکی تھی قبرستان،  گھر کے راستے، پورا گاؤں اور یہاں تک کہ لوگ بھی یہ لوگوں کیلئے عجیب الخلقت تھا وہ جس تہذیب کی بات کر رہا تھا وہ دو سو سال قبل کی تھی گویا اُس دنیا کا وہ جزوی یا عارضی حصہ بنا تو پانچ چھ سکینڈ میں اِس دنیا کے دو سو سال بیت گئے۔
امریکی مصنف ڈاکٹر ریمنڈ اے مودی نے
(1) Life After Life 
 (2) The Light Beyond
(3) Reflection on Life After Life
 (لائف آفٹر لائف،دی لائٹ بی ہائنڈ اور دی رفلیکشن لائف آفٹر لائف) کے ناموں سے کتابیں لکھیں جن میں ایسے ساڑھے 11 سولوگوں کے مشاہدات بیان کئے ہیں جو موت کی دہلیز سے لوٹے تھے، ان کتابوں کے خلاصے وقتاً فوقتاً اردو میں شائع ہوتے رہے جن کے مطالعہ سے جسم میں ایک سنسنی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی ان کتب کے تناظر میں ”دنیا کے اس پار“ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے۔
ریمنڈ موڈی کو سب سے پہلے ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر جارج رچی کے بارے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ ڈبل نمونیا کے دوران ایک مرحلے پر وہ موت کے بالکل قریب پہنچ گیا ڈاکٹر مصنوعی تنفس وغیرہ سے ان کا سانس بحال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ صحت مند ہونے کے بعد اس نے بتایا کہ جب اسے مردہ سمجھ لیا گیا تو اس وقت عجیب و غریب مناظر کا مشاہدہ کیا۔
 ڈاکٹر مودی کا کہنا ہے کہ جن لوگوں سے انٹرویو کیا وہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے اور مختلف جگہوں کے باشندے تھے ان میں سے ہر ایک نے اپنی نظر آنے والی کیفیت کو اپنے اپنے طریقے سے بیان کیا‘ کسی نے کوئی بات زیادہ کہی کسی نے کوئی بات کم بتائی لیکن بحیثیت مجموعی جو مشترکہ باتیں ان میں سے تقریباً ہر شخص کے بیان میں موجود تھیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔ ”ایک شخص مرنے کے قریب ہے اس کی جسمانی حالت ایسی حد پر پہنچ جاتی ہے کہ وہ خود سنتا ہے کہ اس کے ڈاکٹر نے اس کے مردہ ہونے کا اعلان کر دیا اچانک اسے ایک تکلیف دہ شور سا سنائی دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ انتہائی تیز رفتاری سے ایک طویل اور اندھیری سرنگ میں جا رہا ہے اس کے بعد اچانک وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے جسم سے باہر آگیا ہے وہ اپنے ہی جسم کو فاصلے سے ایک تماشائی بن کر دیکھتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ وہ خود کسی نمایاں جگہ پر کھڑا ہے اور اس کا جسم جوں کا توں چارپائی پر ہے اور ڈاکٹر اس کے جسم پر جھکے ہوئے اس کے دل کی مالش کر رہے ہیں یا مصنوعی تنفس دینے کی کوشش میں مصروف ہیں تھوڑی دیر میں وہ اپنے حواس بحال کرنے کی کوششیں کرتا ہے تو اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی حالت میں بھی اس کا ایک جسم ہے لیکن وہ جسم اس جسم سے بالکل مختلف ہے جو وہ چھوڑ آیا ہے اس کی کیفیات بھی مختلف ہیں اور اس کو حاصل قوتیں بھی کچھ اور طرح کی ہیں اسی حالت میں کچھ دیر بعد اسے اپنے عزیز اور دوست نظر آتے ہیں جو مر چکے تھے اور پھر اسے ایک نورانی وجود Being of Light نظر آتا ہے جو اس سے یہ کہتا ہے کہ تم اپنی زندگی کا جائزہ لو‘ اس کا یہ کہنا ماورائے الفاظ ہوتا ہے اور پھر وہ خود اس کے سامنے تیزی سے اس کی زندگی کے تمام اہم واقعات لاکر ان کا نظارہ کراتا ہے۔ ایک مرحلے پر اسے اپنے سامنے کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیوی زندگی اور موت کے بعد زندگی کے درمیان ایک سرحد ہے‘ اس سرحد کے قریب پہنچ کر اسے پتہ چلتا ہے کہ اسے اب واپس جانا ہے‘ ابھی اس کی موت کا وقت نہیں آیا جس کے بعد کسی انجانے طریقے سے وہ واپس اسی جسم میں لوٹ آتا ہے جو وہ چارپائی پر چھوڑ کر گیا تھا۔
 پر اسرار کیفیت کو بیان کرنے کے لئے اکثر افراد نے مختلف الفاظ اور مختلف تعبیرات اختیار کیں اور یہ بات تقریباً ہر شخص نے کہی کہ جو کچھ ہم نے دیکھا اسے لفظوں میں تعبیرکرنا ہمارے لئے سخت مشکل ہے۔ ایک خاتون نے اپنی اس مشکل کو قدرے فلسفیانہ زبان میں اس طرح تعبیر کیا ”میں جب آپ کو یہ سب کچھ بتانا چاہتی ہوں تو میرا ایک حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ جتنے الفاظ مجھے معلوم ہیں وہ سب سے ابعادی (Three dimentional) ہیں (یعنی طول و عرض‘ عمق کے تصورات میں مقید ہیں) میں نے اب تک جیومیٹری میں یہی پڑھا تھا کہ دنیا میں صرف تین بُعد ہیں لیکن جو کچھ میں نے (مردہ قرار دیئے جانے کے بعد) دیکھا اس سے پتہ چلا کہ یہاں تین سے زیادہ ابعاد ہیں۔ اسی لئے اس کیفیت کو ٹھیک ٹھیک بتانا میرے لئے بہت مشکل ہے کیونکہ مجھے اپنے ان مشاہدات کو سہ ابعادی (تھری ڈی)الفاظ میں بیان کرنا پڑ رہا ہے۔“
بہرکیف ان مختلف افراد نے جو کیفیات بیان کیں ان میں سے چند بطور خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک تاریک سرنگ‘ دوسرے جسم سے علیحدگی‘ تیسرے مرے ہوئے رشتہ داروں اور دوستوں کو دیکھنا‘ چوتھے ایک نورانی وجود‘ پانچویں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے واقعات کا نظارہ کرنا۔ ان تمام باتوں کی جو تفصیل مختلف افراد نے بیان کی ہے اس کے چند اقتباسات دلچسپی کا باعث ہوں گے۔
تاریک سرنگ سے گزرنے کے تجربے کو کسی نے یوں تعبیر کیا ہے کہ میں ایک تاریک خلا میں تیر رہا تھا‘ کسی نے کہا کہ یہ ایک گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا اور کسی نے اسے اندھیرے غار کا نام دیا جس میں وہ  نیچے بیٹھا جا رہا تھا، کسی نے ایک کنویں سے تعبیر کیا ہے، کسی نے کہا کہ وہ ایک تاریک وادی تھی‘  کوئی کہتا ہے کہ میں اندھیرے میں اوپر اٹھتا چلا گیا، مگر یہ بات سب نے کہی ہے کہ یہ الفاظ اس کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ جس مشاہدے کو تمام افراد نے بڑی حیرت کے ساتھ بیان کیا وہ یہ تھا کہ وہ اپنے جسم سے الگ ہو گئے۔ ایک خاتون جو دل کے دورے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھیں بیان کرتی ہیں کہ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل دھڑکنا بند ہو گیا ہے اور میں اپنے جسم سے پھسل کر باہر نکل رہی ہوں‘ پہلے میں فرش پر پہنچی پھر آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگی یہاں تک کہ میں ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اڑتی ہوئی چھت سے جا لگی‘ وہاں سے میں صاف دیکھ رہی تھی کہ میرا جسم نیچے بستر پر پڑا ہوا ہے اور ڈاکٹر اور نرسیں اس پر اپنی آخری تدبیریں آزما رہے ہیں، ایک نرس نے کہا ”اوہ خدایا یہ تو گئی“ دوسری نرس نے میرے جسم کے منہ سے منہ لگا کر اسے سانس دلانے کی کوشش کی‘ مجھے اس نرس کی گدی پیچھے سے نظر آرہی تھی اور اس کے بال مجھے اب تک یاد ہیں۔

پھر وہ ایک مشین لائے جس نے میرے سینے کو جھٹکے دیئے اور میں اپنے جسم کو اچھلتا دیکھتی رہی۔ جسم سے باہر آنے کی اس حالت کو بعض افراد نے اس طرح تعبیر کیا ہے کہ ہم ایسے نئے وجود میں آگئے تھے جو جسم نہیں تھا اور بعض نے کہا ہے کہ وہ بھی ایک دوسری قسم کا جسم تھا جو دوسروں کو دیکھ سکتا تھا مگر دوسرے اسے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس حالت میں بعض افراد نے نظرآنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں سے بات کرنے کی بھی کوشش کی مگر وہ ان کی آواز نہ سن سکے ”ہم اس بے وزنی کے عالم میں نہ صرف فضا میں تیرتے رہے بلکہ اگر ہم نے کسی چیز کو چھونے کی کوشش کی تو ہمارا وجود اس شے کے آر پار ہو گیا“ بہت سوں نے یہ بھی بتایا ”اس حالت میں وقت ساکت ہو گیا تھا اور ہم یہ محسوس کر رہے تھے کہ ہم وقت کی قید سے آزاد ہو چکے ہیں۔“
اسی حالت میں کئی افراد نے اپنے مرے ہوئے عزیزوں دوستوں کو بھی دیکھا اور کچھ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے بہت سی بھٹکتی ہوئی روحوں کا مشاہدہ کیا‘ یہ بھٹکتی ہوئی روحیں انسانی شکل سے ملتی جلتی تھیں مگر انسانی صورت سے کچھ مختلف بھی تھیں ایک صاحب نے ان کی کچھ تفصیل اس طرح بتائی۔ ”ان کا سر نیچے کی طرف جھکا ہوا تھا‘ وہ بہت غمگین اور افسردہ نظر آتے تھے وہ سب آپس میں ایک دوسرے میں اس طرح پیوست معلوم ہوتے تھے جیسے زنجیروں میں بندھا ہوا کوئی گروہ ہو‘ مجھے یاد نہیں آتا کہ میں نے ان کے پاؤں کبھی دیکھے ہوں‘ مجھے معلوم نہیں وہ کیا تھے‘ ان کے رنگ اڑے ہوئے تھے وہ بالکل مست تھے اور مٹیالے نظر آتے تھے‘ ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گتھے ہوئے خلا میں چکر لگا رہے ہیں‘انہیں پتہ نہیں کہ انہیں کہاں جانا ہے...... وہ ایک طرف کو چلنا شروع کرتے پھر بائیں کو مڑ جاتے‘ چند قدم چلتے‘ پھر دائیں کو مڑ جاتے اور کسی بھی طرف جا کر کرتے کچھ نہ تھے‘ ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی چیز کی تلاش میں ہیں مگر کس چیز کی تلاش میں؟ مجھے معلوم نہیں …… ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ خود اپنے بارے میں بھی کوئی علم نہیں رکھتے کہ وہ کون اور کیا ہیں؟ ان کی کوئی شناخت نہیں تھی…… بعض اوقات ایسا بھی محسوس ہوا کہ ان میں سے کوئی کچھ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں سکتا……“ ڈاکٹر مودی نے جتنے لوگوں کا انٹرویو کیا ان کی اکثریت نے اپنے ایک تجربے کے دوران ایک نورانی وجود BeingOfLight کا بھی ضرور ذکر کیا ہے‘ ان لوگوں کا بیان ہے کہ اسے دیکھ کر یہ بات تو یقینی معلوم ہوتی تھی کہ وہ کوئی وجود ہے لیکن اس کا کوئی جسم نہیں تھا، جو  سراسر روشنی ہی روشنی تھی‘ ابتدا میں وہ روشنی ہلکی معلوم ہوتی لیکن رفتہ رفتہ تیز ہوتی چلی جاتی تاہم اپنی غیر معمولی تابانی کے باوجود اس سے آنکھیں خیرہ نہیں ہوتی تھیں۔

بہت سے لوگوں نے بتایا کہ اس نورانی وجود نے ان سے کہا کہ ”تم اپنی زندگی کا جائزہ لو“ بعض نے اس کی کچھ اور باتیں بھی نقل کیں لیکن یہ سب لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس نورانی وجود نے جو کچھ کہا وہ لفظوں اور آواز کے ذریعے نہیں کہا یعنی اس کے کوئی الفاظ انہیں سنائی نہیں دیئے‘ بلکہ یہ بالکل نرالہ انداز اظہار تھا جس کے ذریعے اس کی باتیں خود بخود ہمارے خیالات میں منتقل ہو رہی تھیں۔ جن لوگوں نے اس بے جسمی کی حالت میں ایک ”نورانی وجود“ کو دیکھنے کا ذکر کیا ہے ان میں سے اکثر کا کہنا یہ ہے کہ اس ”نورانی وجود“ نے ہم سے ہماری سابق زندگی کے بارے میں کچھ سوال کیے‘ سوال کے الفاظ مختلف لوگوں نے مختلف بیان کئے ہیں مگر مفہوم سب کا تقریباً یہ ہے ”تمہارے پاس اپنی سابق زندگی میں مجھے دکھانے کے لئے کیا چیز ہے۔“ ان لوگوں کا بیان ہے کہ اس ”نورانی وجود“ نے ہماری سابق زندگی کے واقعات ایک ایک کرکے ہمیں دکھانے شروع کئے‘ یہ واقعات کس طرح دکھائے گئے؟ اس کی تفصیل اور زیادہ دلچسپ ہے۔”جب مجھے وہ نورانی وجود نظر آیا تو اس نے سب سے پہلے مجھ سے یہ کہا کہ تمہارے پاس اپنی زندگی میں مجھے دکھانے کے لئے کیا ہے؟ اس سوال کے ساتھ ساتھ پچھلی زندگی کے مناظر مجھے نظر آنا شروع ہو گئے۔ میں سخت حیران ہوئی کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیونکہ اچانک ایسا لگا کہ میں اپنے بچپن کے بالکل ابتدائی دور میں پہنچ گئی ہوں اور پھر میری آج تک کی زندگی کے ہر سال کا نظارہ ایک ساتھ میرے سامنے آگیا۔تمام واقعات میرے سامنے اسی ترتیب سے آرہے تھے جس ترتیب سے وہ واقع ہوئے اور یہ سب واقعات انتہائی واضح نظر آرہے تھے‘ مناظر بس اس طرح تھے جیسے تم ذرا باہر نکلو اور انہیں دیکھ لو‘ اب واقعات مکمل طور پر سہ ابعادی (Three dimentional) تھے اور رنگ بھی نظر آرہے تھے ان میں حرکت تھی مثلاً جب میں نے اپنے آپ کو کھلونا توڑتے دیکھا تو میں اس کی تمام حرکتیں دیکھ سکتی تھی۔جب مجھے یہ مناظر نظر آرہے تھے اس وقت میں اس نورانی وجود کو دیکھ نہیں سکتی تھی‘ وہ یہ کہتے ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا کہ تم نے کیا کچھ کیا ہے؟ اس کے باوجود میرا احساس یہ تھا کہ وہ وہاں موجود ہے اور وہی یہ مناظر دکھا رہا ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ خود یہ معلوم کرنا چاہتا ہو کہ میں نے اپنی زندگی میں کیا کیا ہے بلکہ وہ پہلے ہی سے یہ ساری باتیں جانتا تھا لیکن یہ واقعات میرے سامنے لا کر یہ چاہتا تھا کہ میں انہیں یاد کروں۔ یہ پورا قصہ ہی بڑا عجیب تھا، میں وہاں موجود تھی میں واقعتاً یہ سب مناظر دیکھ رہی تھی اور یہ سارے مناظر انتہائی تیزی سے میرے سامنے آرہے تھے مگر تیزی کے باوجود وہ اتنے آہستہ ضرور تھے کہ ان کا بخوبی ادراک کر سکتی تھی پھر بھی وقت کا دورانیہ اتنا زیادہ نہ تھا مجھے یقین نہیں آتا، بس ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک روشنی آئی اور چلی گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ سب کچھ پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ہو گیا‘ البتہ غالباً تیس سیکنڈ سے زیادہ وقت لگا ہو گا لیکن میں آپ کو ٹھیک ٹھیک بتا ہی نہیں سکتی۔“
ایک اور صاحب نے اپنے اس مشاہدے کا ذکر اس طرح کیا ”جب میں اس طویل اندھیری جگہ سے گزر گیا تو اس سرنگ کے آخری سرے پر میرے بچپن کے تمام خیالات بلکہ میری پوری زندگی مجھے وہاں موجود نظر آئی جو میرے بالکل سامنے روشنی کی طرح چمک رہی تھی یہ بالکل تصویروں کی طرح نہیں تھی بلکہ میرا اندازہ ہے کہ وہ خیالات سے زیادہ ملتی جلتی تھی۔ میں اس کیفیت کو آپ کے سامنے بیان نہیں کرسکتا مگر یہ بات طے ہے کہ میری ساری زندگی وہاں موجود تھی۔وہ سب واقعات ایک ساتھ وہاں نظر آرہے تھے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا کہ ایک وقت میں ایک چیز نظر آئے اور دوسرے وقت دوسری بلکہ ہر چیز بیک وقت نظر آرہی تھی۔ میں وہ چھوٹے بڑے کام بھی دیکھ سکتا تھا جو میں نے کئے تھے اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ کاش میں نے یہ کام نہ کئے ہوتے اور کاش میں واپس جاکر ان کاموں کو منسوخ (undo)کرسکتا۔“ جن لوگوں نے اپنے یہ مشاہدات ڈاکٹر مودی کے سامنے بیان کئے ان میں سے بعض نے یہ بھی بتایا کہ اس مشاہدے کے آخری مرحلے پر انہوں نے کوئی ایسی چیز دیکھی جیسے کوئی رکاوٹ ہو اور یا تو کسی نے کہا یا خود بخود ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ ابھی ان کے لیے اس رکاوٹ کو عبور کرنے کا وقت نہیں آیا۔ اسی کے معاًبعد وہ دوبارہ اپنے جسم میں واپس آگئے اور معمول کی دنیاکی طرف پلٹ آئے۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ یہ رکاوٹ پانی کے ایک جسم کی سی تھی، کسی نے کہا یہ ایک مٹیالے رنگ کی دھند تھی، کسی نے اسے دروازے سے تعبیر کیا، کسی نے کہا کہ وہ اس طرح کی ایک باڑھ تھی جو کھیت کے گرد لگادی جاتی ہے اور کسی نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک لکیر تھی۔
کئی افراد نے ایک ”روشنیوں کے خوبصورت شہر“ کا ذکر کیا، بعض نے بڑے خوبصورت باغات دیکھے اور اپنے بیان میں انہیں جنت سے تعبیر کیا، بعض افراد نے صاف صاف دوزخ کے مناظر بھی بیان کئے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ میں نیچے چلتا گیا جہاں اندھیرا تھا، لوگ بری طرح چیخ چلا رہے تھے، وہاں آگ تھی۔”وہ لوگ مجھ سے پینے کے لئے پانی مانگ رہے تھے“ کسی نے کہا ”وہ سرنگ سے زیادہ بڑی چیز تھی میں تیرتا ہوا نیچے جارہا تھا“ پوچھا گیا کہ وہاں کتنے آدمی چیخ و پکار کررہے تھے؟ اور ان کے جسم پر کپڑے تھے یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اتنے تھے کہ آپ انہیں شمار نہیں کر سکتے میرے خیال میں ایک ملین ضرور ہوں گے اور ان کے جسم پر کپڑے نہیں تھے۔“ان تمام مشاہدات کی حقیقت کیا ہے؟بعض حضرات کا خیال ہے کہ مغربی ملکوں میں پر اسرار شوق ایک جنون (Craze)کی حدتک بڑھتا جارہا ہے اور یہ کتابیں اسی جنون کا شاخسانہ ہو سکتی ہیں اگرچہ اس احتمال سے بالکلیہ صرف نظر نہیں کیا جاسکتا لیکن 1975؁ء کے بعد سے جس طرح مختلف سنجیدہ حلقوں نے ان واقعات کا نوٹس لیا ہے اور بیان پر جس طرح ریسرچ کی گئی ہے اس کے پیش نظریہ احتمال خالصا بعید ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر مودی نے اس احتمال پر بھی خاصی تفصیل سے بحث کی ہے کہ جن لوگوں سے انہوں نے انٹرویو کیے وہ بے بنیاد گپ لگانے کے شوقین تو نہیں تھے لیکن بالاآخر نتیجہ یہی نکالا کہ اتنے سارے آدمیوں کا جو مختلف علاقوں اور مختلف طبقہ ہائے خیال سے تعلق رکھتے ہیں ایک ہی قسم کی گپ لگانا انتہائی بعید از قیاس ہے۔

بعض ڈاکٹروں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ بعض منشیات اور دواؤں کے استعمال سے بھی اس قسم کی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں جن میں انسان اپنے آپ کو ماحول سے الگ محسوس کرتا ہے اور بعض اوقات اس کا دماغ جھوٹے تصورات کومرئی شکل دے دیتا ہے۔ایسے میں اسے بعض پر فریب (Hallucinations)نظارے نظر آنے لگتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان افراد کو اسی قسم کی کسی کیفیت سے سابقہ پیش آیا ہو لیکن ڈاکٹر مودی نے دونوں قسم کی کیفیات کا الگ الگ تجربہ کرنے بعد یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جن لوگوں سے انہوں نے انٹرویو کیے بظاہر ان کے مشاہدات ان پرفریب نظاروں سے مختلف تھے۔ ڈاکٹر میلون مورس نے اس احتمال پر زیادہ سائنٹفک انداز میں تحقیق کرنے کے بعد اپنا حتمی نتیجہ یہ بتایا ہے کہ یہ مشاہدات (Hallucinaitons)نہیں تھے۔ انہوں نے اس احتمال پر بھی گفتگو کی ہے کہ ان لوگوں کے مذہبی تصورات ان کے ذہن پر اس طرح مسلط تھے کہ بے ہوشی یا خواب کے عالم میں وہی تصورات ایک محسوس واقعے کی شکل میں ان کے سامنے آگئے ڈاکٹر مودی نے جن لوگوں سے ملاقات کی ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو مذہب کے قائل نہ تھے یا اس سے اتنے بیگانہ تھے کہ ان پر مذہبی تصورات کی کوئی ایسی چھاپ غالب نہیں آسکتی تھی۔ روزنامہ جنگ کراچی مورخہ 28-1-98بروز بدھ کے کالم ناقابل فراموش میں ڈاکٹر سید امجد علی صاحب نے اپنا ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ ان پر 23-3-1984کو دل کا دورہ پڑا۔ وہ اس دورے کی تفصیل تحریر فرماتے ہیں کہ میں 20منٹ تک مردہ رہا۔ مرنے سے پہلے میں نے نور کا بنا ہوا ایک فرد قریب آتے ہوئے دیکھا جس کے جسم سے چھوتے ہی میرے اپنے جسم کاست نہایت تیزی کے ساتھ پاؤں کی طرف سے شروع ہوکر سر کی طرف نکل گیا اور میں مکمل روشنی کا ایک ہلکا پھلکا سا فرد بن گیا میں اس نور کے آدمی کی رفاقت میں پر سکون تھا۔ میں نے تمام وارڈ اور پھر شدید نگہداشت کے کمرے کا جائزہ لیا اور ایک کونے میں کھڑا ہوگیا یہ سب کچھ پلک جھپکنے میں ہوا۔ میں روشنی کے آدمی کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کے قریب ہی رہا اور دیکھتا رہا کہ میرے جسم کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ میرے دائیں جانب نور کا ایک سرخ ہالہ آناً فاناً بن چکا تھا میں پرسکون حالت میں سرنگ کے اس ہالہ کی روشنیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا جیسے میں اپنے آپ کو ایک اور دنیا کا فرد محسوس کرنے لگا تھااوراپنے جسم سے کئے جانے والے طبی عمل سے لاتعلق تھا۔ ہسپتال کے مختلف حصوں سے توانائی کی لہریں اوپر جارہی تھیں، مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ لوگوں کی دعائیں ہیں۔ جب مجھے ٹیلی پیتھی سے پیغام ملا کہ تمہیں واپس جاناہے تو مجھے اچھا نہیں لگا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہیں تھا۔ میں ہوا میں تیرتا ہوا اپنے خالی جسم میں حلول کرگیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ماضی میں بھی وزن کو اٹھائے ہوئے پھرتا رہا ہوں اور آئندہ بھی وقت معین تک اس بوجھ کو گھسیٹنا ہے پھر جب میری آنکھ کھلی تو میں دنیا میں واپس لوٹایا جاچکا تھا۔
روح کو کبھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کی موجودگی یا ہونے کے مظاہر سامنے آئے ہیں۔ خوابوں کے ساتھ بھی روح کا تعلق ہے۔معین باری ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ممبر قومی اسمبلی رہے فوج سے میجر ریٹائر ہوئے اور اب نوائے وقت میں کالم لکھتے ہیں۔ ان کی ایک تحریر سے خواب اور روح کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔”روح کیا ہے؟ قرآن میں ذکر ہے کہ ”روح حکم ربی ہے“۔ داتا گنج بخشؒ اپنی کتاب ”کشف المحجوب“ میں لکھتے ہیں کہ ”روح کا اپنا کثیف جسم ہوتا ہے، جب انسان مر جائے تو روح پرواز کر جاتی ہے“۔
باری صاحب نے مزید لکھا”میں نے روحوں پر کبھی تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ فرائیڈ نے لکھا تھا کہ اگر تم اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق پر زیادہ سوچنا شروع کرو گے تو پاگل ہو جاؤ گے اس لئے جو چیز سامنے پڑی ہو مثلاً کرسی، میز، چارپائی، پھول، پودے، جانور، پہاڑ، ندی نالے انہیں دیکھ کر وہیں اپنی سوچ کو روک لیا کرو۔ یہ نصیحت عام آدمی کیلئے موزوں ہو سکتی ہے محقق اور سائنس دان کیلئے نہیں۔چونکہ روح زندہ انسان کا جسمانی حصہ ہے اور اسکے ساتھ دن رات چولی دامن کا ساتھ رہتا ہے اس لئے روح کی غیبی حرکات و سکنات سے متاثر ہوئے بغیر انسان رہ نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر میں نے اپنے متبنیٰ بیٹے فلائٹ لیفٹیننٹ عبدالحسیب کی ایئر کریش موت کو 3 دن پہلے خواب میں دیکھا۔ خواب میں یہ اطلاع مجھے عالی جناب پروفیسر برکت علی ایم ایس سی پی ایچ ڈی نے دی جو برسوں قبل فوت ہو چکے تھے۔ جب وہ مجھے خواب میں مطلع کرنے آئے تو میرا جسم پسینے سے شرابور کانپنے لگا، میں اٹھ کر بیٹھ گیا یہ فجر کا وقت تھا، میں نے گھر والوں کو بلا کر یہ قصہ سنایا۔
 ملک برکت علی زرعی یونیورسٹی لائل پور میں پروفیسر تھے، نوکری چھوڑ کر جنگلوں اورصحراؤں میں اللہ کی تلاش میں پھرتے رہے۔ کبھی کبھار جب والد بزرگوار انہیں گھر لے کر آتے تو ان دنوں جوتا نہ پہنتے اور جس بستر پر ملک صاحب سوتے انکے جانے کے بعد اس بستر کو کوئی اور استعمال نہ کر سکتا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ حسیب کی موت کی پیشگی اطلاع مجھے ملک برکت علی کی روح نے دی۔ میرے والد محترم میاں عبدالباری نے کیوں نہ دی؟ اسی جستجو میں ایک صاحب کشف درویش میاں عطاء الرحمن سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا کہ ”تم میں روحوں سے رابطہ کرنے کی صلاحیت ہے جسے ہومنگ ڈیوائس کہتے ہیں، یہ صلاحیت سب میں نہیں ہوتی۔ تمہارے والد مرحوم کی روح میں اتنی شکتی نہ تھی کہ تمہیں اس حادثے کی پیشگی اطلاع دے سکتے۔ باری مرحوم کی روح نے اپنے مرشد ملک برکت علی سے رابطہ کیا کہ مجھے اس سنگین حادثہ کی خبر کر دیں“۔ ایسے میرے ساتھ بہت سے واقعات پیش آئے اور میں نے سپر نیچرل حادثات و واقعات پر سٹڈی شروع کر دی۔ میں ان دنوں جی ایچ کیو میں تعینات تھا۔ میاں غلام جیلانی آرمی میوزیم کے انچارج تھے۔،ان کا تعلق شعبہ آرکیالوجی سے تھا۔ کہنے لگے ”بادشاہ قطب الدین ایبک کی لحد میں سرنگ میں نے لگائی تھی۔

ثابت کرنا تھا کہ یہ مزار واقعی بادشاہ ایبک کا ہے یا وہاں کوئی اور دفن ہے۔ جب میں نے لحد کھولی تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سیکڑوں سال پرانا کفن اسی طرح قائم ہے۔ کفن کو چھونے سے اس میں سوراخ ہو جاتے۔ میں نے ٹانگ کی ہڈی نکال کر لیبارٹری تجزیے کیلئے بھیجی تو ثابت ہو گیا کہ یہ ہڈی بادشاہ کی ہے۔ عام آدمی اور بادشاہوں کی ہڈیوں میں فرق ہوتا ہے“۔ تاریخ میں قطب الدین ایبک کو رحمدل‘ عادل اور لکھ داتا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ بادشاہ محمد غوری کا سپہ سالار رہا اور ترائن کی دوسری جنگ میں شریک تھا جہاں راجہ پرتھوی راج چوہان کو فیصلہ کن شکست ہوئی تھی۔ قطب الدین ایبک لاہور میں چوگان کھیلتا ہوا گھوڑے سے گر کر جاں بحق ہوا اور جہاں وہ گرا وہیں دفن کر دیا گیا۔ اب اس کا خوبصورت مزار انار کلی بازار کے قریب ہے۔ جب کوئی صاحب کشف درویش شہنشاہ جہانگیر کے مقبرہ پر گیا اسے عذاب میں پایا۔ میں نے پوچھا کہ جہانگیر عادل بادشاہ تھا پھر عذاب کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اس کی سوانح عمری کا بغور مطالعہ کیاتو منکشف ہوا کہ جہانگیر شراب و کباب کا رسیا تھا، شراب میں افیم ملا کر پیتا، ایام شہزادگی میں غصہ میں آکر نوکروں کی کھال اپنی آنکھوں کے سامنے اترواتا۔ اس پر اکبر بادشاہ نے اس کی سرزنش بھی کی تھی جس کا ابوالفضل نے اپنی تحریر میں ذکر کیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے میر منشی رجب علی کی قبر پر کوئی ایک منٹ سکون سے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ دل پر اتنی وحشت طاری ہوتی ہے کہ آنے والا مارے خوف کے چلا جاتا ہے۔ رجب علی درپردہ انگریز سے ملا ہوا تھا، اس نے جموں و کشمیر کے سودے میں راجہ گلاب سنگھ سے رشوت کھائی جس کی انکوائری ہوئی، دلی فتح ہونے کے بعد مغل بادشاہ کا خزانہ‘ ساز و سامان خچروں پر لاد کر اپنے گاؤں جگرانواں ضلع لدھیانہ لے آیا۔ مغل بادشاہ کے نوکر اور کنیزیں بھی ساتھ لایا وہاں محل نما مکان تعمیر کرایاجس کے گرد قلعہ بند دیواریں بنوائیں جو آج بھی موجود ہیں۔ جب انگریزوں نے رجب علی پر رشوت کے الزام پر انکوائری شروع کی تو موصوف نے خودکشی کر لی۔ خوابوں کی بات چلی ہے تو نسیم آہیر صاحب کی زبانی بھی ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ ان کے آباؤ اجدادنے طلہ رام کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کے بعد 1858ء میں ہریانہ گُڑ گاؤں سے ہجرت کاقصد کیا۔ اپنی جائیدادیں بیچیں، مال اسباب بیل گاڑیوں پر لادا اوراپر پنجاب جو تقسیم کے بعد پاکستان کا وسطی پنجاب کہلاتا ہے، کی طرف سفر کیا اور خوشاب میں آبسے۔ راستے میں ایک رات قافلے والے سو گئے تو چوروں نے اپنا کام دکھادیااور سارے بیل کھول کر لے گئے۔ جاگنے پر پریشان ہونا فطری امر تھا، سوچ رہے تھے کہ کیا کیاجائے! اس دوران ایک بابے نے کہا کہ اسے خواب میں ایک بزرگ نے بتایا کہ ہمارے بیل اُس جگہ بندھے ہیں۔ کسی نے بابے کے خواب کو درست کہا کسی نے محض خواب قرار دے کر مزید غور کرنے سے گریز کیا تاہم کچھ سیانوں نے کہا وہ ہمیں وہاں لے جائے جہاں اس نے بیل بندھے اور وہاں جانے کا راستہ دیکھا ہے قافلے کے لوگ دستیاب اسلحہ اٹھا کر ساتھ چل پڑے، تھوڑے فاصلے پر خواب میں دکھائی گئی ڈھاری نظر آئی اور ان کو دیکھ کر تین چار افراد وہاں سے کھسکتے دکھائی دئیے۔ بیل وہیں بندھے تھے۔ اس بابے نے مزید کہا کہ خواب میں بزرگ نے اپنا نام لال شاہ بخاری بتایا اور ایک جھاڑی کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا اس کے اندر ان کی میت پڑی ہے،اسے بھی ساتھ لے جائیں، جھاڑی قریب ہی تھی اس میں غور سے دیکھا تو بچے کی ہڈیوں کا ڈھانچہ پڑا تھا، اسے کپڑے میں لپیٹا اور قافلہ منزل کی طرف گامزن ہوگیا۔

منزل پر پہنچ کر لال شاہ بخاری کو دفنانے کی تیاریاں ہورہی تھیں، اشارہ ہوا کہ ہڈیوں کو جھولے میں ڈال کر چھت سے لٹکا دیاجائے یہ جھولا آج بھی خوشاب میں آہیر وں کے محلے میں ایک گھر کی چھت سے جھول رہا ہے جس پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں اور اگر پھول کو سونگھ کر پھینکیں تو جھولااسے اچھال کر واپس پھینک دیتاہے۔
٭٭٭
شہرت یافتہ سائنس دانوں اور ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انسانی روحوں کو دیکھا اور تصاویر بھی لیں۔ سب سے پہلی کوشش امریکہ میں مسٹر ہالینڈ نے کی۔ اس نے 16 انچ عدسہ والا کیمرہ بنایا۔ اس نے دیکھا کہ مردہ کے عین اوپر اسکی روح جس کی شکل اس جیسی تھی، روح کا جسم کے ساتھ رابطہ صرف ایک رسی (Chord) کے ذریعے تھاجو تھکی تھکی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ اس منظر کو دیکھ کر مسٹر ہالینڈ بے ہوش ہو گئے۔
1852؁ ء میں ایک صاحب ڈیوس نے اپنی کتاب DeathOfLife میں لکھا کہ اس نے بھی اسی طرح مردہ عورت پر اس کی روح دیکھی وہ جسم کی نسبت کئی درجہ زیادہ خوبصورت تھی جو بالآخر کھلے دروازے سے نکل گئی۔3۔ 1939؁ء امریکہ میں سائنسدان ہرورڈ کارنگس نے کیمروں کی مدد سے روحوں کی فوٹو گرافی کی اور اپنے رزلٹ Labortery Phenomena کو بھیجے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روشنی کا عجیب گیند مردہ جسم سے نکلتا دیکھا گیا ہے۔ اس پر مزید تحقیق کا کارینگ لیبارٹری واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی۔ انہوں نے بھی ایک روشنی کا گیند نکلتے رپورٹ کیا جس کی تفصیل فزیکل ریویو میں چھپی۔
ان کے بعد بھی کئی لوگوں نے اس طرح کی فوٹو گرافی کی ہے اور دعویٰ کیا کہ مرنے والے کے جسم سے کوئی چیز ضرور نکلتی ہے۔ بعض نے اسے Psychic فورس کا نام دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں روحوں کے متعلق اس نکتہ پر بھی تحقیق ہوئی کہ جو چیز نکلتی ہے اس کا کچھ وزن ہوتا ہے شاید ایک یا آدھا اونس، داتا گنج بخش اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ ”روح کا اپنا جسم ہوتا ہے جو پانی کی بھاپ سے زیادہ کثیف ہوتا ہے“۔ ہر کوئی روحوں کو نہیں بلا سکتا قدرت نے یہ شکتی اور قوت خاص خاص بندوں کو دی ہے۔معین باری اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔”دو ایسی مجالس میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا، جب روح بلائی گئی تو شیشے کا گلاس گھومنے لگا اور تحریر کئے الفاظ سے فقرات بنتے گئے، بعض حقیقتوں کا انکشاف ہوا۔ ایک خاتون کی روح بن بلائے آ گئی جس نے 70 سال پیشتر خودکشی کی تھی۔ مرحومہ ہمارے واقف کار کی بیوی تھی، اس کی داستان بہت ہی غمناک تھی۔ اس کے آخری الفاظ تھے۔ ”دیکھو اب بھی میرے منہ سے خون جاری ہے“۔
کاش کوئی مجذوب عالم محترمہ بینظیر بھٹو کی روح بلا کر ان کا احوال پوچھے۔ درویشوں کی رائے ہے کہ بے گناہ مقتولوں کی روحیں اِس دنیا میں اس وقت تک بھٹکتی رہتی ہیں جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا۔ یورپی رسالوں میں ایسے واقعات پڑھنے کا اتفاق ہوا جہاں مقتول کی روح نے قاتلوں کو گرفتار کروایا۔بعض محققین کی کتابوں میں لکھا ہے کہ قریبی دوست یا رشتہ دار جو وفات پا چکا ہو بہت یاد آئے تو اس کی روح تمہارے قریب ہی ہوتی ہے۔ مئی 2015ء کے Reader Digest میں مضمونThe Mystory of Past Lives شائع ہوا۔ جس میں بعض محققین نے انسانی روح کے متعلق دلچسپ انکشافات کئے ہیں۔
ایک دو سال سے کم عمر بچے نے باپ سے مسکراتے ہوئے کہا ”میں تمہارے پوتڑے بدلتا رہا ہوں“۔ باپ Ron  اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا رہا جب بچہ چند ماہ تک ایسی باتیں کرتا رہا تو Ron اور اس کی بیوی Cathy سوچنے پر مجبور ہوئے اور بچے کی باتوں سے محسوس کیا کہ وہ اپنے دادا Sam کی طرف اشارہ کر رہا ہے، یہ 18 ماہ کا بچہ پوری بات کر سکتا تھا۔ والدین نے پوچھا کہ دادا Sam تمہارے بہن بھائی تھے؟ اس نے جواب دیا اس کی ایک بہن تھی جو مچھلی بن گئی۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ دادا Sam کی بہن تھی جسے غنڈوں نے قتل کر کے سمندر میں پھینک دیا تھا۔ 
مصنفStacy Horn لکھتا ہے امریکہ میں آج 75 ملین لوگ جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے ان کو یقین ہے کہ موت کے بعد زندگی ہے، وہ زندگی کس شکل و صورت میں ہو گی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔Dr Tucker بچوں کا Psychiatrist تھا۔ اس نے اس موضوع پر مزید کھوج لگانے کیلئے UAE ٹیم بنائی۔ ٹیم نے دنیا میں کئی ممالک سے ایسے کیسز پر تشخیص کے بعد نتیجہ برآمد کیا کہ ان میں سے 2500 بچوں کو سابق زندگی کے واقعات یاد تھے۔امریکہ میں TV پروڈیوسرز نے Tuckar کی ڈیوٹی ایک 4 سال کے بچے پر لگا دی جس کانام Louisiaan تھا۔ وہ کہتا میں ورلڈ وار میں پائلٹ تھا جسے جاپانیوں نے IWO JIMA پر مارا گرایا۔ بچے کے والدین اسے رات کو چیخ مارتے، بیدار ہوتے اور شور مچاتے سنتے ”پلین کریش ہو گیا، آگ لگ گئی، اس بچے کو اس جہاز کے تمام حصوں اور پرزوں سے واقفیت تھی جو اس عمر کے بچے کو نہیں ہو سکتی۔ بچے نے کہا کہ اس دور میں اس کا نام Jawes تھا۔ تشخیص کرنے والوں نے اس کے بیان کو درست قرار دیا۔ بچے کے والدین نے کتابSoul Survivor لکھی۔مسٹر Tucker کی کتاب Journey Through Reaven نظر سے گزری جس میں لکھا تھا کہ انسان جب سو جاتا ہے تو اس کی روح Cosmos میں سیرو سیاحت کیلئے کبھی کبھار پرواز کر جاتی ہے۔ اس پر Time Space کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ بعض روحیں تو اپنی نئی قیام گاہیں ڈھونڈنے کیلئے مختلف سیاروں میں آباد شہروں میں بھی چکر لگا آتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں