ملک عطا محمد جب ڈگری لینے گئے تو انہیں سٹیج پر جانے سے کیوں روکا گیا؟ جانئے اس خبر میں

2020 ,فروری 17



 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ملک عطا بہترین نیزے باز، گھڑ سوار تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر 1990ء میں پنجاب اسمبلی کے ممبرمنتخب ہوئے۔ اسی اتحاد کے بطن سے مسلم لیگ ن نے جنم لیا اور یہی وہ اتحاد تھا جس کی جیت یقینی بنانے کیلئے فوج پر رقوم کی تقسیم کاالزام ہے۔ رقوم ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر میجر جنرل محمود درانی کے توسط سے تقسیم کی گئیں۔ میاں نواز شریف کے حصے میں مبینہ طور پر 35 لاکھ روپے آئے۔ بات ملک عطاء محمد کی ہو رہی تھی۔ آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ ڈگری لینے گئے ملکہ الزبتھ مہمان خصوصی تھیں۔ بوسکی کی قمیض اور ویسٹ کوٹ زیبِ تن ہونے پرسکیورٹی نے سٹیج پر جانے سے روک دیا ۔ یہ تو خاص قابلِ اعتراض نہیں تھا، اعتراض انکے تہبند پر تھا۔ ان کا نام پکارا گیا وہ حاضرین میں بیٹھے ، وہیں سے گویا ہوئے مجھے سٹیج پر آنے سے روک دیا گیا ہے۔ ملکہ نے انکے پاس آ کر ڈگری تفویض فرمائی ۔ ملکہ دو مرتبہ پاکستان آئیں ہربار ان سے ملیں۔ ملک صاحب کو اداکاری کا شوق تھا۔ دو سال قبل فلم ورنہ میں گورنر کا کردار ادا کیا۔الفا بریوو چالرلی ڈرامے میں بھی کام کیا۔اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور بیل رکھنے کا شوق، بیل دوڑ بھی کراتے۔نیزے بازی میں ویسٹ کوٹ کے ساتھ ’’طرلے والا پگڑ‘‘ انکی شخصیت کو مزید باوقار بنا دیتا۔ نواب کالاباغ سے بھی بڑی مونچھیں تھیں۔ ملک عطا نواب کالا باغ کے داماد تھے۔

متعلقہ خبریں