موبائل فون پر ٹیکسٹ میسج بھیجنے اور جنسی بیماریوں کے درمیان کیا تعلق ہے ؟؟؟جدید تحقیق ایسی بات بتا دی کہ سب پریشان ہو گئے

2017 ,جون 2



نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)آج کے دور میں ٹیکسٹ میسجنگ ابلاغ کا اہم ترین زریعہ بن چکا ہے لیکن یہ بات باعث تشویش ہے کہ نوجوان نسل میں اس کارجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ حد سے زیادہ ٹیکسٹ میسجنگ صرف وقت کا ضیاع ہی نہیں ہے بلکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو نوجوان ایک مخصوص حد سے زیادہ ٹیکسٹ میسجنگ کرتے ہیں ان میں جنسی بیماریوں کا خدشہ بھی زیادہ پایا جاتا ہے ۔ 
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے پہلی بار ٹیکسٹ میسجنگ کی زیادتی اور غیر محفوظ جنسی عمل و جنسی بیماریوں کے درمیان تعلق دریافت کر لیا ہے۔ اس تحقیق میں 1200 سے زائد سکول کے طالبعلموں کے جنسی رویے اور ٹیکسٹ میسجنگ کے درمیان تعلق مطالعہ کیا گیا ۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے 34.5 فیصد طالبعلموں کا کہنا تھا کہ وہ جسمانی تعلق استوار کر چکے ہیں جبکہ ان میں سے 11.7 فیصد کہنا تھا کہ انہوں نے جسمانی تعلق استوار کرتے ہوئے حفاظتی تدابیر استعمال نہیں کیں ۔یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر ایرک رائیس کا کہنا تھا کہ جو نوعمر افراد روزانہ 300 سے زائد ٹیکسٹ میسجز بھیج رہے تھے ان میں جنسی نوعیت کے میسجزکے تبادلے کی شرح دیگر افراد کی نسبت 2 گنا زیادہ تھی۔ یہ نوعمر افراد دیگر افراد کی نسبت غیر محفوظ جنسی عمل بھی زیادہ کر رہے تھے، جس کی وجہ سے ان میں جنسی بیماریوں کا خدشہ بھی زیادہ پایا گیا ہے ۔ 
پروفیسر رائیس کا کہنا تھا کہ روزانہ 300 سے زائد ٹیکسٹ میسج بھیجنے والوں میں عمومی جنسی عمل ، غیر فطری جنسی عمل، اور غیر محفوظ جنسی عمل سمیت ہر نوعیت کے جنسی عمل کی شرح زیادہ پائی گئی ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ صورتحال والدین اور اساتذہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور انہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ نوعمر افراد کو ابنارمل ٹیکسٹ میسجنگ کی جانب مائل ہونے سے بچائیں۔ اور ان کی زندگیوں کو محفوظ کریں۔۔۔

متعلقہ خبریں