مظلوم کی آہ سے جنت بھی تباہ

2019 ,اکتوبر 25



قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے بہت طاقت بخشی تھی‘ پتھروں کو تراش کر اپنے مضبوط گھر بناتی تھی۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مٹھی میں درخت کو پکڑ کر اکھیڑ لیتے تھے اس قوم کی طاقت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے۔ اس قوم میں دو بھائی تھے ایک کا نام شدید اور دوسرے کا نام شداد تھا۔ شدید بڑا تھا اور شداد چھوٹا تھا۔ شداد کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی پیدائش ایک کشتی میں ہوئی‘ دریا میں طغیانی آئی اور اس کی والدہ سمیت تمام سوار غرق ہوگئے۔ تمام سواروں میں یہ صرف اکیلا بچا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اسے سلامت رکھا اور اس کی پرورش فرمائی۔ اس کا بڑا بھائی شدید سات سو سال کے لگ بھگ حکمرانی کرکے جہنم داخل ہوا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا چھوٹا بھائی شداد تخت نشین ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ تمام روئے زمین پر اس کی حکومت تھی‘ ہزاروں کے حساب سے ملک تھے نظام سلطنت چلانے کیلئے ہر ملک میں اپنے نائب بادشاہ اور وزراء وغیرہ مقرر کررکھے تھے۔
حضرت ہود علیہ السلام نے شداد کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم سلطنت دی ہے ہر قسم کے خزانوں اور نعمتوں سے مالا مال کیا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ اور اس پر ایمان لاؤ۔ اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ تم کو جنت میں بلاحساب و کتاب داخل فرمادیں گے۔ آپ علیہ السلام نے راہ نجات کی باتیں سنائیں مگر اس ملعون پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔
جواباً کہنے لگا کہ بہشت کے بارے میں جو سن رکھا ہے میں بالکل اس جیسی اس دنیا میں بھی بنالوں گا۔چنانچہ شداد نے تمام ماتحت بادشاہوں کو احکامات جاری کیے کہ ہر قسم کا خزانہ سونا‘ چاندی‘ قیمتی جواہرات‘ کستوری اور زعفران وغیرہ اپنے اپنے ملکوں سے اکٹھے کرکے برائے تعمیر بہشت بھیجے جائیں۔ اعلیٰ قسم کے معمار بلائے گئے جنت کے ڈیزائن سے آگاہ کیا گیا۔ حکم دیا کہ چالیس گز نیچے سے زمین کھود کر اس پر سنگ مر مر کی بنیاد رکھ کر بہشت تعمیر کی جائے۔ حکم کی تعمیل پر کام شروع ہوگیا دودھ‘ شہد اور شراب کی نہریں جاری کردی گئیں۔ سونے اور چاندی کے درخت لگادئیے گئے۔ خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں بہشت میں پہنچادی گئیں۔ ہوبہو اصلی جنت کی طرز کی نقلی جنت تیار ہوگئی۔ شداد نے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جو تمام ممالک سے خزانہ جمع کرتا اور لاکر پیش کرتا تھا۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ کسی انسان کے پاس ایک درہم چاندی تک نہ رہنے دیا جائے۔ سب لاکر بہشت میں جمع کی جائے۔ ایک شہر میں ایک غریب بڑھیا رہائش پذیر تھی اس کا خاوند فوت ہوگیا تھا صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ بیٹی کے گلوبند میں ایک درہم چاندی تھی جب شداد کے اہلکاروں کو پتہ چلا تو وہ لینے آگئے۔ بڑھیا نے بڑی منت سماجت کی اور لڑکی بھی آہ وزاری کرنے لگی۔ لڑکی نے رونا اور چلانا شروع کردیا اور درخواست کی کہ اس کے پاس صرف یہی ایک درہم کی دولت ہے اور یتیم ہے معاف کیا جائے مگر شداد کے اہلکاروں کو ترس نہ آیا اور گلوبند جبراً لے لیا۔ لڑکی کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ خداوند کریم کی درگاہ میں فریاد پیش کردی۔ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوئی کہ اے اللہ تو بہت طاقت والا ہے۔ خالق کائنات ہے تو انصاف کر اور ان ظالموں سے مظلوموں کو نجات دے۔ اس مظلومہ کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ حدیث شریف میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ پرہیز کرو مظلوم کی بددعا سے‘ بیشک وہ قبول ہوتی ہے۔ علماء کرام سے یہ بھی حدیث مبارکہ سنی ہے کہ مظلوم کی آہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا۔ جونہی منہ سے نکلتی ہے قبولیت اختیار کرلیتی ہے۔
بہشت تو شداد کے حکم پر تعمیر ہوگئی مگر اس بدبخت کو دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ روزانہ ارادہ کرتا مگر کوئی نہ کوئی کام آڑے آجاتا۔ اسی طرح دس سال گزر گئے۔ آخر ایک دن اس نے جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ تقریباً دو سو گھوڑ سواروں کے ہمراہ روانہ ہوگیا جب بہشت کے باہر پہنچا تو دیکھادروازے پر ایک آدمی کھڑا ہے شداد نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں ملک الموت ہوں۔ پھر سوال کیا یہاں کس لیے آئے ہو جواب ملا تیری روح قبض کرنے آیا ہوں۔ یہ سن کر شداد کے ہوش و حواس اڑ گئے اور مخاطب ہو کر کہا کہ جنت کا نظارہ کرنے تک مہلت دی جائے مگر ملک الموت نے فرمایا کہ مہلت کسی صورت میں نہیں مل سکتی۔ شداد گھوڑے سے اترنے لگا۔ ایک پاؤں بہشت کے دروازے پر اور دوسرا رکاب میں تھا کہ ملک الموت نے روح قبض کرلی۔ شداد ملعون جہنم رسید ہوا۔ ایک فرشتہ نے آسمان کی چیخ ماری۔ شداد کے سارے ساتھی ڈھیر ہوگئے اور جہنم رسید ہوگئے۔ یہ بدبخت نہ اپنی تیار کردہ جنت سے کسی نعمت کی فائدہ اٹھا سکے اور نہ نظارہ کرسکے۔ شداد ملعون کو نہ سلطنت کام آئی اور نہ مال۔ بددعا کی قبولیت نے سب کچھ خاک میں ملا دیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پرقادر ہے اور اس کی گرفت سخت ہے

متعلقہ خبریں