درویش خدا مست و عظیم صوفی شاعر حضرت مادھو لا ل ،حسینؒ لا ہوری

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع مارچ 25, 2017 | 08:49 صبح

لاہور(مہرماہ رپورٹ ): عظیم صوفی شاعر و درویش کامل حضرت مادھول لال شاہ حسینؒ لاہوری کا عرس مبارک ہر سال مارچ کے آخری ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ یہ ”میلہ چراغاں“ کے نام سے بھی مشہور ہے اور ہمارے پنجاب کی ثقافت کا بھی علمبردار ہے۔ لوگ اسے موسم بہار کی علامت بھی سمجھتے ہیں۔ عرس کے دوران لوگ ڈھول کی تھاپ پر جب عظیم صوفی شاعر کی کافیاں گاتے ہیں اور ملنگ ڈھول کی تھاپ پر دھمالیں ڈالتے ہیں۔ تو ایک عجیب سا روحانی سماں بندھ جاتا ہے جس کو نہ صرف ملکی سطح پذیرائی حاصل ہوتی ہے بلکہ بیرون ملک سے بھ

ی لوگ اس کو بہت پسند کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بہت محفوظ ہوتے ہیں ”میلہ چراغاں“ کے بارے میں یونس ادیب نے بھی کیا خوب تصویر کشی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”شاہ حسینؒ کے میلہ چراغاں کی خوشبوئیں اور روایات موسمی بھی ہیں اس وقت پنجاب میں بہار کا موسم ہوتا ہے اور پنجاب کی فصلیں پک کر تیار ہو چکی ہوتی ہیں۔ لاہور میں بہار کی ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اسے لاہورمیں گلابی موسم کہا جاتا ہے۔ پہلے لاہور میں قدم قدم پر مٹھائی اور بیسن کے قتلمے تیار کرنے والی دکانوں پر شامیانے لگ جاتے تھے اور کاریگر دن رات مٹھائیوں کی تیاریوں میں لگے رہتے تھے تیس چالیس برس قبل یہ میلہ شاہ حسینؒ کے مزار سے شالا مار باغ کے اندر لگتا تھا اور مارچ کے مہینے کے آخری ہفتے کی پہلی اتوار کو لگتا تھا ہفتے کی شام سے پہلے ہی لاہوریوں کی ٹولیاں دریاں اور دوسرے سامان لے کر شالامار باغ پہنچ جاتے اور پکوان پکنے لگتے۔ اس روز شہر کے سارے راستے باغبانپورہ کی طرف جاتے تھے۔ عید بقر عید کی طرح چراغوں کے میلے پر بھی نئے کپڑے اور جوتے خریدے جاتے، اہل لاہور رنگین پھولوں والی دھوتیاں، لاچے، چکن اور بوسکی کے کرتے اور تیلے کی جوتیاں شوق سے پہنا کرتے۔ ہفتے کی شام تک دھلی دروازے سے شالا مار باغ تک میلے کی طرح جلوس پھیلا ہوتا تانگوں اور بیل گاڑیوں پر باغبانپورہ تک جانا پڑتا۔ شاہ حسینؒ کے مزار کے وسیع و عریض احاطے میں ملنگوں، درویشوں اور فنکاروں کے کیمپ لگے ہوتے تھے۔ چاروں کے جلوس میں ڈھول کی تھاپ پر دھمالیں ڈالی جاتی تھیں اور چراغ روشن ہونے لگتے تھے۔ گمنام راگی، روایتی سازوں پر شاہ حسینؒ کا کلام گاتے۔ سرخ چغوں اور سرخ ٹیکوں والے ملنگ گھومتے پھرتے نظر آتے۔ جب رات بھیگ جاتی تو آخری دھمال کی تیاریاں ہونے لگتیں اور جب باہر ڈھولچی میدان میں آ جاتے تو پوری فضا رقص کرتی ہوئی مستی کی لہریں پھیل جاتیں۔ اس وقت لاہور کے آس پاس کے دیہاتوں سے میلہ دیکھنے والوں کی ٹولیاں بھی پہنچ چکی ہوتیں۔ دوسرے دن چراغوں کا میلہ صرف عورتوں کیلئے مخصوص ہوتا۔ الغرض چراغوں کا میلہ لاہور کی ثقافتی زندگی کا رنگین ترین حصہ تھا اور اب بھی کسی حد تک ہے۔ اگرچہ وہ پہلے والی رونقیں نہیں رہیں لیکن پھر بھی بہار کے اس موسم میں لاہور اور نواحی دیہات کے لوگ میلہ چراغاں کی برسوں پرانی روایات کو نہایت خوبصورتی سے نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔
حضرت مادھو لال کو اپنے شیخ حضرت شاہ حسینؒ سے بہت زیادہ عقیدت محبت اور لگاﺅ تھا ان کو اپنے مرشد شاہ حسینؒ کے انتقال سے بہت صدمہ پہنچا۔ گھنٹوں اپنے مرشد کی قبر مبارک سے بغل گیر رہتے۔ اسی دوران انہیں خواب میں حکم ہوا کہ وہ دوبارہ راجہ کی ملازمت اختیار کر لیں۔ چنانچہ بعد ازاں انہوں نے 12 سال راجہ کی ملازمت کی اور راجہ کے مرنے کے بعد واپس لاہور آ گئے اور حضرت شاہ حسینؒ کے مزار پر مستقل رہائش اختیار کی۔ اسی اثناءمیں دریائے راوی میں سیلاب آ گیا اور پانی شاہ حسینؒ کے مزار تک چڑھ آیا۔ باہمی مشاورت سے دوستوں نے جب قبر مبارک کو کھولا تو قبر درمیان سے خالی نکلی۔ حضرت مادھوؒ و دیگر دوست حیرت اور پریشانی میں جب واپس ہونے لگے تو قبر مبارک سے آواز آئی اور قبر سے ایک نور تابہ آسمان نظر آیا۔ ایک مرید کے القا ہوا کہ قبر کے اندر جا کر دیکھو وہ جب قبر مبارک میں داخل ہوئے تو انہیں ایک گلدستہ نظر آیا اور ان لوگوں کو حضرت شاہ حسینؒ کی آواز سنائی دی کہ اللہ کی مہربانی سے میرا جسم گلدستہ بن گیا اور یہی گلدستہ ہمارا جسم مبارک ہے اس کو لے جاﺅ مگر اس کو کوئی نہ سونگھے اور یہ راز کسی اور پر ظاہر نہ کرنا۔ اس کو یہاں سے جلد لے جاﺅ اور بابو پورہ موجودہ باغبانپورہ میں دفن کر دو جس کو مجھے دیکھنے کی خواہش ہو وہ مادھو کو دیکھے مجھ میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جب شاہ حسینؒ کو فوت ہوئے 13 سال گزر گئے تو حضرت مادھوؒ شاہ حسینؒ کے لاڈلے سجادہ نشین بنے۔
قدرت الٰہی سے اس وقت تک مادھو لال شاہ حسینؒ کے ہم شکل بن گئے۔ شاہ حسینؒ کے قدیمی دوست بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ شاہ حسینؒ نے دوبارہ جنم لیا ہے۔ 1646ءمیں مادھولال کی وفات ہوئی اور شاہ حسینؒ کے حکم کے مطابق مادھولالؒ کو ان کے بغل میں سپرد خاک کیا گیا ۔۔۔(تحقیق کتاب حضرت شاہ حسینؒ حیات آثار تعلیمات)

شاہ حسین کی کافیاں
 
عملاں اپر ہوگ نبیڑا، کیا صوفی کیا بھنگی
جو رب بھاوے سوای تھیسی، سواری بات ہے چنگی
آپے ایک اینک کہاوے آپے ہے بیرنگی
کہے حسین سہاگن سوای شوہ دے رنگ جو رنگی
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھم چرخریاءتیری کتن والی جیوے
بڈھا ہوتیوں شاہ حسینا وندیں جھیراں پیاں
اٹھ سویرے ڈھونڈن لگوں سنجھ دیاں جوگیاں
ہر دم نام سمال سائیں داتا توں استھر تھیویں
چرخا بولے سائیں، باتڑے بولے توں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیادے لال کیا بھروسہ دم دا
اڈیا بھور تھیا پردیسی، اگتے راہ اگم دا
کوڑی دنیا کوڑ پساراءجیون موتی شبنم دا
جہاں میرا شوہ بجھایا تنہاہ نئیں بھور جم دا
کہے حسین فقیر سائیں دا چھوڑ سریرر بھسم دا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راہ عشق سوئی دا نکہ، دھاگہ ہوئیں نا جاتیں
باہر پاک اندر آلودہ کیا تو شیخ کہلائیں
دنیا جیون چار دہاڑے کون کسی نال رُسے
جس دن ونجاں موت تنے دل،جیون کوئی نہ رُسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائے نی میں کہنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال
دھواں دھکھے مرے مرشد والا جاں پھولاں تاں لال
سولاں مار دیوانی کیتی برہوں پیا ساڈے لال
دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن، آہیں دا بالن بال
جنگل بیلے پھرے ڈھونڈیندی اجے نہ پائھو لال
کہے حسین فقیر نمانا شوہ ملے تاں تھیواں نہال