ہر انسان ایک تاریخ ہے

2021 ,دسمبر 27



ہرانسان اپنے آپ میں ایک انجمن ہے ، خودتاریخ ہے، تاریخ گراورمورخ بھی ہے۔خواہ کتنا ہی معمولی، غیر معروف بے اہمیت ہو ہر انسان کی ایک تاریخ جسے ہسٹری کہتے ہیں ضرور ہوتی ہے۔تاریخ ہے کیا؟زندگی کا ہر لمحہ ماضی کے سانچے میں ڈھلتے ہی تاریخ بن جاتا ہے۔اپنے کام اور کارکردگی کے باعث ہی انسان کا تاریخ میں مقام متعین ہوتا ہے۔کسی کے باپ دادا نے خاندان کیلئے کوئی بڑا کام کیا ہے تواس خاندان کی نسلوں تک کام کی اہمیت کے حوالے سے جانا جائے گا۔قومی اور بین الاقوامی طور پر کسی کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے تو ایسے شخص کے خاندان کی کئی نسلوں کے وقار میں اضافہ ہوتارہتا ہے۔اسی طرح اگر کسی نے کچھ ایسا کردیا جس سے اسے منفی شہرت ملی تو اس کے ایسے کام کی نوعیت کے مطابق نسلوں کو ملامت کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ایک ہی کام کو ایک طبقہ ملامت کی نظر سے دیکھتاہے تو ایک اور حلقہ اس کی پزیرائی کرتا ہے۔بارڈر پر لڑ کر مرنے والا اپنے ملک کا ہیرو جبکہ دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔میر جعفر اور شکیل آفریدی جیسے لوگ ملت کے ماتھے پر کلنک جبکہ جن کیلئے کام کام کرتے ہیںانکی آنکھ کا تارابن جاتے ہیں۔انکے پاس دولت کے انبار تو آسکتے ہیں مگر نسلوں کو قیامت تک نفرت اور تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اپنے گرد نظر دوڑائیں،دوستوں عزیزوں اور ان کے خاندانوں کا جائزہ لیں تو ان میں سے خدا ترس اور سنگدل آپ کو نظر آجائیں گے۔ہم اگر کوئی قومی و عالمی سطح کا کام نہیں کر سکتے تو جو کچھ بھی اچھائی ممکن ہے ضرور کر سکتے ہیں۔آپ جو بھی مثبت و منفی کرتے ہیں اس کی کسی نہ کسی سطح پر مانیٹرنگ ضرور ہوتی ہے اور اسی سے کردار کا تعین ہوتااور تاریخ میں نام بنتا ہے۔سوچئے آپ نے کیا ایسا کیا ہے جس سے تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد رکھے جائیں۔اگر پہلے کچھ نہیں کیا تو اب کرسکتے ہیں ۔زندگی کے آخری لمحے تک آپ کے پاس وقت ہے۔آخری لمحہ کب آنا ہے؟ موت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔کوئی نہیں کہتا کہ کبھی نہیں مرنا مگر یہ سوچ ضرور کسی نہاں خانے میں رہتی ہے کہ ابھی نہیں مرنا۔ہمارے اخلاق درست ہوجائیں تو اس سے بھی تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد رکھا جائے گا۔ ( تصور شمیم برمنگھم یو کے)

متعلقہ خبریں