مذہبی میراثی

2019 ,نومبر 1



1۔ ایک دور تھا جب نعت خواں کا ایک نام تھا اور لوگ نعت سُن کر ایمان تازہ کرتے تھے۔ البتہ اب ایک محفل میں بیٹھے تھے تو وہاں ایک نعت خواں نعت کا ایک مصرعہ پڑھ رہا تھا اور لوگ اُس پر نوٹ نچھاور کر رہے تھے۔ پیچھے سے ایک بندے نے آواز لگائی، او مذہبی میراثی، بس کر، بہت کمائی ہو گئی ہے، محفل میں سب کو سانپ سونگھ گیا۔

2۔ ایک نے اُٹھ کر کہا کہ”نعت“ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ پڑھتے اور حضورﷺ اُن کو اپنے منبر پر بٹھاتے، تو کہا کہ اُس وقت کافر حضورﷺ کی ”ہجو“ کرتے تھے اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اُن کا شاعری میں جواب دیتے، جس پر خوش ہو کر آقا دو جہاں ﷺ نے اُن کو اپنی چادر مبارک بھی دی۔

3۔ البتہ یہ نعت خواں تو کمائی کر رہے ہیں، ان سے پوچھو کہ فتاوی رضویہ میں ”عقائد اہلسنت“ کہاں لکھے ہیں تو ان کو بالکل معلوم نہیں ہو گا۔ ان سے پوچھو کہ دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف کیا ہے، ان کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوگا۔ انکادین سےکیا تعلق ہے؟

4۔ جناب احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا کہ نعت خواں اب نعتوں میں کُفریہ کلام بول جاتے ہیں، اسلئے ہمیں چاہئے کہ علماء کو بُلائیں، ان مذہبی میراثیوں کو بُلانا بند کر دیں۔

سوال: منکراتِ شرعیہ پر مشتمل میلاد کیسا ہے؟ جواب:’’ وہ پڑھناسننا جو منکراتِ شرعیہ پر مشتمل ہو، ناجائز ہے جیسے روایات باطلہ و حکایاتِ موضوعہ و اشعار خلاف شرع خصوصاََ جن میں توہینِ انبیاء و ملائکہ علیھم الصلٰوۃو السلام ہوکہ آجکل کے جاہل نعت گویوں کے کلام میں یہ بلائے عظیم بکثرت ہے حالانکہ وہ صریح کلمہ کفر ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ جلد نمبر23صفحہ722)

نتیجہ: اسلئے نعت کے رُوپ میں کُفر بھی بَک کر گناہ کمایا جا رہا ہے اورعوام کیلئے یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کونسی نعت کے اشعار کُفر پر مبنی ہیں کیونکہ عوام حقیقی اور مجازی معنوں کو نہیں سمجھتی اوربہت سی جگہوں پر علماء کرام موجود ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی زیادہ ترعوام نے علماء کرام سے پوچھنا ہوتا ہے۔

5۔ جناب احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا کہ داڑھی مُنڈا اور چھوٹی داڑھی رکھنے والے نعت خواں کو عزت دینا جائز نہیں بلکہ اس کو ذلیل کرنا چاہئے۔

سوال: مخالفِ شرع مثلاََ ڈاڑھی کترواتا یا منڈواتا ہو، تارکِ صلوۃ ہو اس سے میلاد (نعت ) پڑھوانا کیسا ہے؟ فرمایا’’افعال مذکورہ سخت کبائر ہیں اور ان کا مرتکب اشد فاسق و فاجر مستحق عذاب یزداں و غضب رحمن اور دنیا میں مستوجب ہزاراں ذلت و ہوان، خوش آوازی خواہ کسی علتِ نفسانی کے باعث اسے منبرو مسند پر کہ حقیقتہََ مسندِ حضور پُر نور سید عالم ﷺ ہے تعظیماََ بٹھانا اس سے مجلس مبارک پڑھو انا حرام ہے، فاسق (گندے) کو آگے کرنے میں اسکی تعظیم ہے حالانکہ بوجہ فسق (گناہ) لوگوں پر شرعاََ اسکی توہین(ذلیل) کرنا واجب اور ضرور ی ہے‘‘۔( جلد نمبر23صفحہ734)

نتیجہ: اسپر بھی عمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عوام معروف نعت خوانوں کی آواز پر جھومتی ہے اور کسی کو اُس کی نماز یا داڑھی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جیسے جناب مرغوب احمد ہمدانی، قاری وحید ظفر قاسمی، شہباز قمر فریدی اور ہزاروں ایسے ہیں جنہوں نے داڑھی نہیں رکھی ہوئی، کیا کوئی ان معزز ہستیوں کو ذلیل کرنے کا سوچ سکتا ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ میں لکھا ہے۔

6۔ جناب احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا جو کھانے کے لئے آتے ہیں اور جو کھانے کھلانے کے لئے ذکر ولادت کرتے ہیں، اُن کو کوئی ثواب نہیں ہے۔

سوال: ’’میلاد شریف جس کے یہاں ہو وہ پڑھنے والے کی دعوت کرے تو پڑھنے والے کو (کھانا ) چاہئے یا نہیں؟ اور اگر کھایا تو پڑھنے والے کو کچھ ثواب ملے گا یا نہیں؟‘‘ تو آپ نے فرمایا’’پڑھنے کے عوض کھانا کھلاتا ہے تو یہ کھانا نہ کھلانا چاہئے، نہ کھانا چاہئے اور اگر کھائے گا تو یہی کھانا اس کا ثواب ہو گیا اور ثواب کیا چاہتا ہے بلکہ جاہلوں میں جو یہ دستور ہے کہ پڑھنے والوں کو عام حصوں سے دو نا دیتے ہیں اور بعض احمق پڑھنے والے اگر ان کو اوروں سے دو نانہ دیا جائے تو اس پر جھگڑتے ہیں یہ زیادہ لینا دینا بھی منع ہے اور یہی اسکا ثواب ہوگیا‘‘۔(فتاوی رضویہ جلد نمبر21صفحہ نمبر662)

نتیجہ: اس فتوی پر عمل کرتے ہوئے اگر’’ لنگر کا وسیع انتظام ہے‘‘ نہ لکھا جائے ،عُمرے کے ٹکٹ نہ رکھے جائیں، نعت خوانوں کو پیسے نہ دئے جائیں (دینے کے انداز پر بھی اعتراض ہے) تو ’’میلاد‘‘ کیسے ہو گا جس کا مطلب ہے کہ کھانا، عُمرے کے ٹکٹ وغیرہ نہ ہوں تو عوام کو میلاد سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

7۔ ذکر ولادت کو دیوبندی اکابر علماء نے اپنی کتاب ”المہند“ میں سوال نمبر21صفحہ نمبر52-55 پر مستحب اور بدعت حسنہ قرار دیا ہے، اسی طرح جناب احمد رضا خاں صاحب نے فتاوی رضویہ جلد 6صفحہ587پر ”میلاد“ کو مستحب قرار دیا ہے۔

8۔ اب نعت خوانی نہیں ہونی چاہئے بلکہ دیوبندی اور بریلوی علماء کو کہنا چاہئے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلاف چار کفریہ عبارتوں پر ہے، اگر دیوبندی علماء ان کفریہ عبارتوں سے توبہ کر لیتے ہیں تو پھر بریلوی اور دیوبندی جماعتیں ایک ”اہلسنت“ کہلائیں گی۔ اُس کے بعد غیر شرعی میلاد، مزارات پر غیر شرعی حرکات کا خاتمہ ممکن ہو گا۔

9۔ ہمیں سیرت النبی کانفرنس نہیں چاہئے، ہمیں جشن عید میلاد النبیﷺ جیسے الفاظ پر زور نہیں لگانا۔ دیوبندی اور بریلوی علماء ”ذکر ولادت“ کا طریقہ سب کو سکھائیں، کر کے دکھائیں اور مذہبی میراثیوں سے ہماری جان چھڑائیں۔

دُعا: تقسیم امت سے اتحاد امت کی طرف مسلمانوں کو لانے کے لئے دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث مذہبی عوام اور علماء سے عرض ہے کہ اصولی اختلاف بتائیں تاکہ ہم توبہ کرکے اختلاف مٹائیں اور سب کو ایک مسلمان بنائیں۔ یا اللہ ہمارے مُلک پاکستان کی مساجد سے دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کے بورڈ اُتر جائیں اس پر کُن فرما دے امین۔ اس پیج پر روزانہ 7.30PM پرکسی نہ کسی ٹاپک پر پوسٹ لگائی جاتی ہے۔شکریہ

متعلقہ خبریں