ننکانہ صاحب میں مسلم لیگ ن کی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی؟

2016 ,اکتوبر 23

میاں فیضان امجد

میاں فیضان امجد

فیضانِ عالم

mianfaizanamjad@gmail.com



 

 

میاں فیضان امجد

 

 

image could not load

سال 2013 میں ہونے والے الیکشن کے موقع پر مسلم لیگ ن نے ننکانہ صاحب میں کلین سوئیپ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اس کامیابی کے بعد کچھ عرصے تک تو تمام اراکین اسمبلی باہم شیر و شکر ہو کر اپنے اپنے حلقوں کی تعمیر و ترقی میں مصروف رہے تاہم اب جوں جوں نئے الیکشن قریب آ رہے ہیں ان میں اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

جب سے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری طارق محمود باجوہ نے آئندہ الیکشن میں صوبائی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اور وفاقی وزیر چوہدری برجیس طاہر کے مابین سرد جنگ شروع ہو گئی ہے۔

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شذرہ منصب اور رکن صوبائی اسمبلی رانا جمیل عرف گڈ خان کے حامی بھی ایک دوسرے کا ماضی کھنگال رہے ہیں۔

ڈاکٹر شذرہ کے کزن اور ان کی سیاسی رابطہ مہم میں پیش پیش رہنے والے رائے محمد عثمان کھرل نے تین ماہ قبل جون میں اس سلسلے کا آغاز کیا۔

انہوں نے اپنی فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے رانا جمیل کو بنک ڈیفالٹر قرار دیتے ہوئے ان کے جلد نااہل ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔

image could not load

بعد ازاں انہوں نے رانا جمیل کا تحریک انصاف کے رہنما بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ سے تعلق جوڑتے ہوئے دعوی کیا کہ وہ جلد تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔

رائے عثمان نے اپنی ایک اور پوسٹ میں رانا جمیل کے بارے میں لکھا کہ ’آپ زرعی ترقیاتی بنک میں کلرک تھے۔ ایم پی اے بننے کے بعد اتنی دولت کہاں سے اکٹھی کی اور آپ نے چار ٹھیکے داروں کو اپنے ساتھ کیوں رکھا ہوا ہے۔‘

اس کے جواب میں رانا جمیل کے سپورٹر اور خود کو مسلم لیگ ن کی صوبائی کونسل کا رکن لکھنے والے مقامی ٹھیکے دار رائے نواز خان کھرل میدان میں آ گئے اور انہوں نے فیس بک پر رائے عثمان کے بارے میں لکھنا شروع کر دیا۔

انہوں نے رائے عثمان کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کے والد محترم ایک بنک میں بطور ڈاکیا ملازمت کرتے تھے۔ آپ کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی ہے۔‘

ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’چند ماہ پہلے آپ کے بھائی عمر فاروق سیالکوٹ ایئر پورٹ پر سونا سمگل کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔‘

نچلی سطح پر یہ بیان بازی جاری تھی کہ یوم آزادی پر سپورٹس جمنزیم میں ہونے والی تقریب میں تقریر کے موقع پر رانا جمیل خان نے کسی کا نام لئے بغیر تمام اراکان اسمبلی اور سرکاری افسروں پر کرپٹ ہونے کا الزام لگا دیا۔

image could not load

بعد ازاں یہ سیاسی بیان بازی بڑھتے بڑھتے ذاتیات پر آ گئی اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے حسب نسب اور ماضی پر باتیں شروع ہو گئیں۔

گزشتہ ہفتے اچانک رائے عثمان نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ماضی میں اپنے روئیے کی معذرت کرتے ہوئے رانا جمیل کو مسلم لیگ ن کا وفادار ورکر ہونے اور ایمانداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا۔

ان کے الفاظ تھے کہ ’رانا جمیل حسن مسلم لیگ ن کے وفادار ورکر ہیں جو انتہائی ایمانداری اور جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔‘

رائے عثمان نے سجاگ کو بتایا کہ ’میں نے یہ اقدام اپنی بہن شذرہ منصب اور دوستوں سے مشاورت کے بعد کیا ہے۔ ماضی میں میری جانب سے رانا جمیل کے بارے میں جو بیانات جاری ہوئے میں انہیں واپس لیتا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کسی کی کرپشن کو ثابت کرنا اداروں کا کام ہے وہ اس حوالے سے کسی بات کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں۔

رائے نواز کہتے ہیں کہ ’رائے عثمان نے میرے دوست کے خلاف جو من گھڑت باتیں کی تھیں میں نے صرف ان کا جواب دیا ہے۔ رانا جمیل نے کبھی کسی سے سو روپے بھی نہیں کھائے جبکہ دوسرا گروپ میرے بھائی رائے منظور سے بھی ایک ٹھیکے میں کمیشن لے چکا ہے۔‘

image could not load

اس سلسلے میں جب سجاگ نے ایم پی اے رانا جمیل سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بارے میں علاقے کے عوام بہتر جانتے ہیں اور شذرہ منصب گروپ کے بارے میں بھی پورے ضلع کو پتہ ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رائے عثمان جیسا بندہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس کی کسی بات کا جواب دیں۔

’ہماری نہ ان سے لڑائی تھی اور نہ ہی اب صلح ہوئی ہے۔ انہوں نے جھوٹ پر مبنی بیان دیئے اور پھر شرمندگی ہونے پر خود ہی ان الزامات کو واپس لے لیا۔‘

رانا جمیل کے مطابق وہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ضلع میں جاری بد عنوانی اور اراکین اسمبلی کے کردار کے بارے میں آگاہ کر چکے ہیں۔

’اگر مالی طور پر خوش حال سیاست دان کرپشن کریں گے تو سرکاری افسروں کو کیا گناہ ہے؟ وزیر اعلی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس حوالے سے ضرور کارروائی کریں گے۔‘

 

 

پنجاب یونیورسٹی سے کمیونیکیشن سٹڈیز میں ماسٹر کر چُکے ہیں۔ سماجی مسائل، تعلیم اور صحافت جیسے موضوعات پر قلم اُٹھاتے ہی

متعلقہ خبریں