دفتر میں ایک شخص نے عورت کی ایسا کام کرتے ہوئے ویڈیو بنا لی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

2017 ,جون 30



کیپ ٹاﺅن (مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کو بازاروں اور دفاتر جیسی جگہوں پر تو ہراساں کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے تعلیمی مراکزاور خصوصاً یونیورسٹیوںجیسی بظاہر انتہائی باوقار اور محفوظ جگہوں پر بھی ان کی عزت محفوظ نہیں۔ جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف کیپ ٹاﺅن میں فرائض سرانجام دینے والی ایک خاتون کے ساتھ ایک ساتھی مرد کی بے حیائی اور بدمعاشی اس افسوسناک صورتحال کی تازہ ترین مثال ہے۔ 

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق خاتون 13 جون کے روز یونیورسٹی میں اپنے پرائیویٹ کمرے کے اندر جا کر اپنا دودھ بوتل میں منتقل کر رہی تھی تاکہ اسے فریج میں محفوظ کر کے بعد میں اپنے ننھے بچے کو پلا سکے لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے ایک مرد نے وہاں کیمرہ لگا رکھا تھا اور اس کی ویڈیو فیس بک پر دنیا لائیو دیکھ رہی تھی۔ 
خاتون نے اس شرمناک واقعے کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا ” میں اپنا غصہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی کیونکہ میں جو کام اپنے بچے کو غذا فراہم کرنے کیلئے کر رہی تھی اسے دنیا کے سامنے ایک جنسی عمل کے طور پر پیش کیا گیا۔ مجھے یہ سوچ کر کراہت محسوس ہوتی ہے کہ میںا یک ایسی دنیا میں رہتی ہوں جہاں ایک ماں کا اپنے بچے کو غذا فراہم کرنا لوگوں کی جنسی تفریح کا سبب بن سکتا ہے۔ “ 
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی ویڈیو فیس بک پر لائیو نشر کرنے والے 38 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے ۔

متعلقہ خبریں