نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی

2020 ,مارچ 10



ایک عورت تھی وہ زیادہ امیر نہیں تھی شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اور پنشن کے پیسوں سے گزارا کر رہی تھی۔ ایک دن اس کے گھر کے باہر ایک لڑکا آیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ عورت نے دیکھا چودہ پندرہ سال کا لڑکا جو سیلز مین تھا اور اپنی پروڈیکٹس بیچنے کے لیے آیا تھا۔ عورت کے پاس پیسے نہیں تھے تو اس نے لڑکے کو صاف کہا کہ دیکھ بیٹا میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں میں تمہیں کوئی غلط اُمید نہیں دوں گی۔ میں تمہاری چیر خرید نہں پاؤں گی لیکن تم دو منٹ کے لیے میرے گھر میں آؤ۔ عورت اس لڑکے کو کمرے میں بیٹھا کر کچن میں جاتی ہے اور دودھ کا ایک گلاس لے کر آتی ہے اور کہتی ہے کہ بیٹا مجھے لگتا ہے کہ تو بہت بھوکا ہے بہت پیاسا ہے۔ میں تیری اور کوئی مدد نہیں کر سکتی لیکن یہ دودھ کا گلاس تجھے دے سکتی ہوں۔ جس سے تیری بھوک اور پیاس دونوں مٹ جائیں گی۔ بچے دودھ کا گلاس پیتا ہے اور شکریہ کہہ کر چلا جاتا ہے۔ اس واقعہ کو پندرہ سال گزر جاتے ہیں اور یہ عورت بہت بوڑھی ہو چکی ہوتی ہے۔ ایک دن اچانک اس عورت کو ہارٹ اٹیک آتا ہے آس پڑوس کے لوگ انہیں ہسپتال ایڈمٹ کرواتے ہیں ان کی سرجری ہوتی ہے۔ سرجری کی بعد جب وہ ہوش میں آتی ہیں تو اس بوڑھی عورت کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی ایک بہت بڑی سرجری ہوئی ہے  جس پر لاکھوں کا خرچ آیا ہے۔ یہ سنتے ہی اس عورت کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے وہ رونے لگتے ہیں اور دعا کرتی ہے کہ یا اللہ تو نے مجھے کیوں بچایا۔اب میں یہ بل کیسے ادا کروں گی۔ دو تین دن وہ وہاں اداسی کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے گزارتی ہے کہ میں یہ بل کس طرح ادا کروں گی اور کس سے مدد مانگو گی۔ آخر اس کے ڈسچارج کا دن آ جاتا ہے۔ ابھی بھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے کیونکہ اس کے کوئی زیادہ رشتے دار نہیں تھے اور نہ ہی ایسے کسی انسان کو وہ جانتی تھی جو اس کی مدد کرتا۔ وہ بھاری بھاری قدموں سے چلتے ہوئے رسپشن آتی ہے اور سوچتی ہے کہ میں ان سے کیا بات کروں گی۔ آخر کار وہ رسپشن پر آ کر اپنا بل طلب کرتی ہے۔ جب وہ بل لیتی ہے تو اس کی سوچ سے کئی گنا زیادہ اس کا بل بنا ہوتا ہے۔ بل پر موجود رقم پانچ لاکھ روپے کی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بل کے نیچے لکھا ہوا تھا 

All ready paid

اور ساتھ ہی اس کے نیچے لکھا تھا

thank you for the glass of the milk

یعنی وہ لڑکا جس کو انہوں نے دودھ کا گلاس دیا تھا وہ آج بڑا ہو کر ایک ڈاکٹر بن چکا ہے ۔اور اسی کے ہسپتال میں یہ عورت ہارٹ اٹیک کے بعد لائی جاتی ہے۔ جب وہ ڈاکٹر اس عورت کو دیکھتا تو اسے یاد آ جاتا ہے کہ یہ وہی عورت ہے جب میرے پاس کچھ نہیں تھا تو انہوں نے مجھے دودھ کا ایک گلاس دیا تھا آج مجھے اس گلاس کا قرض چکانے کا موقع ملا ہے تو کیوں نہ میں وہ قرض چکاؤ۔ کیوں نا میں اپنا فرض پورا کرو۔ اور ان کا بل میں ادا کر دوں۔  

اسی لیے تو کہتے ہیں جب آپ اچھے کام کرتے ہیں ، دنیا گھول ہے وہ سب اچھے کام لوٹ کر آپ کے پاس ضرور آتے ہیں۔ اور اچھی بات یہ ہے کہ قدرت اتنی مہربان ہے ہم پر کہ جب ہم کچھ چھوڑتے ہیں تو وہ کئی گنا بڑھ کر ہمارے پاس واپس آتا ہے۔ ہم ساری زندگی دنیا کو متاثر کرنے میں گزار دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اگر متاثر کرنا ہے تو وہ صرف اوپر والے کی ذات پاک ہے۔ آپ کی سوچ کتنی بھی مثبت کیوں نہ ہو یہ دنیا آپ کی ظاہری صورت دیکھتی ہے جبکہ آپ کی ظاہری صورت کیسی بھی ہو خدا پاک آپ کی نیت اور سوچ دیکھتے ہیں ۔ اس لیے کوشش کریں کہ لوگوں میں خوشیاں بانٹیں کیونکہ جتنی خوشیاں آپ لوگوں میں بانٹیں گے وہی خوشیاں دونگی ہو کر آپ کے پاس واپس آئیں گی۔۔ کہا جاتا ہے کہ اگر اس دنیا میں کوئی شخص دکھی ہے تو آپ بھی زیادہ دیر تک خوش نہیں رہ سکتے۔ اگر دوسروں کو خوشیاں بانٹوں گے تو آپ کی زندگی خودبخود خوشیوں سے بھر جائے گی۔ اور آج کی دنیا میں کسی کے چہرے پر ایک مسکراہٹ لے آنا بھی بہت نیکی کا کام ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک اداس چہرے پر مسکراہٹ آ جائے اور اس کی وجہ تم ہو تو سمجھ لینا تم اس دنیا کے سب سے خوش قسمت انسان ہو۔

متعلقہ خبریں