مٹی کا آتش فشاں اور بحیرہ عرب کے ہوش رُبا جلوے

2017 ,نومبر 8



زمینی سائنس کےعجائبات سے مزین بلوچستان کا وادی ہنگول، لسبیلہ، آواران اور گوادر پر 1650 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس وادی ہنگول میں قدرت کے سب نظارے موجود ہیں۔ بیک وقت سمندر، صحرا اور پہاڑ اور جنگلی حیات کا مسکن تو ہے ہی لیکن پہاڑوں سے اٹھکیلیاں کرتا اور سانپ کی طرح بل کھاتا مکران کوسٹل ہائے وے کا حسین سفر، ہنگلاج مندر کی اساطیریت، دنیا کا وسیع و بلند ترین مٹی کا آتش فشاں اور نیلے پانی کا دلفریب سمندر موجود ہے جو دنیا کے تمام غموں کو بھلانے کیلئے کافی ہے۔لہٰذا ہم بھی غم غلط کرنے کے واسطے یہاں آن پہنچے۔ کراچی سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر مکران کوسٹل ہائی وے اور کنڈ ملیر سے 30 کلو میٹر پہلے بائیں جانب کچی سڑک اس جانب کو جاتی ہے۔ باقاعدہ سڑک نہ ہونے کے سبب ہماری گاڑی دھول مٹی اُڑاتی، فراٹے بھرتی اُڑے چلے جارہی تھی۔ غلام رسول منجھا ہوا ڈرائیور ہے اور اس سے قبل بھی کئی بار وہ یہاں آچکا ہے، لہٰذا راستے کے پیچ و خم سے خوب واقف ہے۔ طلوع آفتاب کے بعد کراچی سے نکلا ہوا ہمارا قافلہ جب چندر گپ پہنچا تو پورے 12 بج رہے تھے (گھڑی میں)۔ ایئر کنڈیشنڈ گاڑی سے نکلتے ہی گرم تھپیڑوں نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ ہمارے گروپ میں فوٹوگرافرز، ماہر فلکیات اور چند ایک شوقیہ گھومنے پھرنے والے افراد شامل تھے۔

شیڈول کے مطابق ہمارا ارادہ تھا کہ دوپہر میں مٹی کے اس آتش فشاں کا مشاہدہ کیا جائے، پھر غروب آفتاب کا نظارہ سمندر کنارے کیا جائے، جبکہ رات واپس چندر گپ کے آتش فشاں کے نیچے تاروں بھری رات میں محفل جمائیں، لہٰذا ہم نے ایسی جگہ کیمپ لگایا جہاں سے سارے کام آسانی سے کرلیے جائیں، پھر کچھ ہی دیر میں ایک جگہ کچن بھی آباد ہوگیا، اور رات کو بار بی کیو کے لیے ہم راستے سے پہلے ہی بکرے لے چکے تھے تاکہ پروگرام میں کسی بھی قسم کی خرابی پیدا نہ ہو۔

آتش فشاں کے کنارے سے دھانے تک کے سفر کا آغاز ہوا جو کئی اقساط پر طے کرنا پڑا۔ 300 فٹ کی بلندی، ہانپتے کانپتے پسینے میں شرابور، پھر جب گھٹنوں کا احتجاج حد سے بڑھ جاتا تو آرام کی غرض سے وہی بیٹھ جانا ہماری مجوری ہوجاتی، بلکہ کئی جگہ سانسیں دھونکنی کی طرح چلنے لگی تو لیٹ بھی گئے۔ آس پاس نظر دوڑائی تو باقی گروپس بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار تھے، لہٰذا شرمندگی کی کوئی بات نہیں تھی۔ نصف بلندی تک پہنچے تو پانی کی ایک بوتل اوپر سے سرکتی ہوئی آئی اور ایک مٹی کے پتھر کے سہارے رک گئی، چونکہ اپنی بوتل میں پانی ختم ہوچکا تھا لہٰذا غیبی امداد سمجھ کر یہ بوتل قبول کی اور وہی بیٹھ کر دو گھونٹ ہی بھرے تھے کہ کسی نے القابات سے نوازتے ہوئے باور کرانے کی کوشش کی یہ غیبی امداد نہیں، ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر مجھ تک پہنچی ہے۔ ایسے موقع پر پانی واقعی آب حیات ہی محسوس ہوتا ہے۔

کچھ دیر میں ہم دنیا کے وسیع اور بلند ترین مٹی کے اس آتش فشاں کے دھانے پر کھڑے تھے، یہاں سے دور تک وادی ہنگول کا نظارہ ہماری نظروں کے سامنے تھا۔ یہ صرف ایک آتش فشاں نہیں ہے بلکہ گرد و نواح میں لاتعداد چھوٹے بڑے آتش فشاں موجود تھے کچھ زندہ، کچھ مردہ یعنی کہیں لاوا ابلتا ہوا اور کہیں سوکھ کر ختم ہوچکا ہے۔ سامنے ہی ایسا ایک اور پہاڑی سلسلہ موجود ہے، جسے حال ہی میں کچھ نوجوانوں نے دریافت کیا ہے جبکہ اس سے قبل اُس جانب کسی کی رسائی نہ تھی۔ عقب میں دور نیلے پانی کا عکس جھلکتا ہوا دکھائی دیا، جہاں غروب آفتاب کے وقت ہمیں پہنچنا تھا۔

آتش فشاں کے دھانے سے تھوڑی تھوڑی دیر کے وقفے کے بعد لاوا اُبلتا تو مٹی کا فوارہ سا بلبلے کی صورت میں ہوا میں اچھلتا ہوا دھانے کی گولائی کے ساتھ نیچے کی جانب بہنے لگتا۔ تنگ جگہ اور ابلتے ہوئے گارے کی وجہ سے پھسلن کے باعث توازن برقرار رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ دھانے کے پاس زیادہ دیر کھڑا رہنا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، اسی لئے دھانے کی گولائی کے گرد ایک چکر لگا کر بنیادی معلومات حاصل کیں اور ابلتے ہوئے لاوے کو کیمرے میں قید کرنے کے بعد قدرے ہموار جگہ تلاش کرکے وہاں بیٹھ گئے۔

وادی ہنگول چندر گپ میں صدیوں سے موجود مٹی کے اس آتش فشاں کا شمار دنیا کے وسیع ترین اور بلند ترین جیو تھرمل مظہر (یعنی مٹی کے آتش فشانوں) میں ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ارضیاتی اصطلاح میں ”مٹی کے آتش فشاں“ کہلاتے ہیں۔ یہ پلیٹوں کے مقام اتصال میں مختلف گیسوں (میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن) کے دباﺅ، ریت، مٹی و چٹانی مادے کے جمع ہونے سے وجود میں آتے ہیں اور بے شمار اسباب سے زیرِ زمین، پریشر بڑھ جانے کے سبب جب وہاں پانی کا درجہ حرارت زیادہ ہوجاتا ہے تو وہ مختلف زمینی مرکبات کو اپنے اندر شامل کرتا ہوا گارے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ابلتا گارا پھر نکاس کے لئے اوپر زمین کی سطح کی طرف لپکتا ہے، یوں آس پاس کے ریت میں سے گرم گارا، آتشیں گیسیں اور منرلز پر مشتمل مواد بہت تیزی کے ساتھ پھوٹ کر باہر بہنے لگتا ہے۔ اس طرح کے لاوے میں نظر آنے والے بلبلے گیس کے اخراج کی نشانی ہے جوکہ اکثریت میں میتھین ہوتی ہے۔

سائنسی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہنگلاج ماتا کے سالانہ میلے میں آنے والے یاتریوں کے نزدیک یہ صرف ایک آتش فشاں ہی نہیں بلکہ ایک مقدس مقام کا درجہ بھی حاصل کرچکا ہے۔ میلہ میں آنے والے یاتری ہنگلاج ماتا سے تقریباً 21 کلومیٹر دور ریگستان میں اس مٹی کے آتش فشاں تک پہنچ کر خاص پوجا کا اہتمام کرتے ہیں۔ خصوصی اہمیت کے حامل اس پوجا کو تیرتھ یاترا کا اہم حصہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں تک پہنچنے کیلئے کڑکتی دھوپ میں کئی گھنٹے پیدل چلنا ہوتا ہے اسی لئے یاتریوں کو سب سے زیادہ مشکلات بھی اسی چندر گپ یاترا میں ہوتی ہے۔ اس کیچڑ کو اپنے جسم میں مل کر خاص قسم کی روحانی طاقت محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ کیچڑ مٹی میں کھیلنے کا کام ہم بچپن میں کافی کرچکے تھے لہٰذا ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہوا، البتہ جو معلومات ملیں وہ ہمارے لئے کافی تھیں، سو اوج ثریا سے زمین کی پستی کی جانب واپس روانہ ہوئے۔

وادیِ ہنگول میں فطرت کی عجب بازی گری ہنگلاج ماتا کے گرد و نواح میں میلوں دور تک پھیلی ہوئی ہے، نادر و ممتاز خوبصورت اشکال کی چٹانیں چھوٹی بڑی پہاڑیاں اور دریائے ہنگول کی طوالت، جس نے اس وسیع علاقے کو نباتات اور جانداروں سے آباد کیا ہوا ہے، کیا عجب سکون اس وادی میں چار جانب پھیلا ہوا ہے۔ گاڑی کا شور ہے نہ چمنیوں سے نکلتا ہوا کالا دھواں، میلوں دور تک کوئی آبادی نہیں۔ چندر گپ سے آگے چند ایک کلو میٹر تک ہی گاڑی جاسکتی ہے۔ آتش فشاں کے ساتھ عقب سے ایک راستہ سمندر کی جانب جاتا ہے لیکن تھوڑے ہی فاصلے بعد یہ راستہ بھی ریت میں ہی کہیں معدوم ہوجاتا ہے اور صحرا کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس کے بعد آف روڑ ہے سو ہم بھی گاڑی سے نیچے اُتر کر بیگ کمر پر لاد کر پیدل روانہ ہوئے۔

صحرا میں پیدل چلنا ایسا ہی ہے جیسے گھٹنوں گھٹنوں برف میں چلنا، بس تا حدِ نگاہ لق و دق صحرا ہے۔ صحرا میں درست سمت کا اندازہ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے چہار سو ریت ہی ریت اور ایک جیسا ہی منظر۔ ہر ٹیلے کی چوٹی پر پہنچنے تک یہی گمان ہوتا ہے کہ بس اس کے آگے ہی سمندر ہے لیکن یہ صرف گمان ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی صحرا میں آنکھیں دھوکہ دے جاتی ہیں۔ منزل تک پہنچنے کا جنون ہی ہوتا ہے جس کے سبب پیر خود بہ خود اٹھنے لگتے ہیں۔

درحقیقت جب صحرا سے نکل کر ساحل پر نظر پڑتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا دن بھرکی محنت ومشقت کرنے کے بعد شام کو مزدوری مل گئی ہو۔ چندر گپ کے عقب میں حسن و جمال کا ایسا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، جو نادر و ناپید ہے بلکہ جھاگ اُڑاتے نیلگوں پانی کے اس سمندر جیسا حسن آپ کو دنیا بھر میں شاید صرف یہیں ملے گا۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی حضرت انسان کے قدم یہاں بہت ہی کم ہی پڑے ہیں، البتہ اب ہمارا شمار بھی ان چند خوش نصیبوں میں ہوگیا ہے جن کہ قدم یہاں رنجہ فرما چکے ہوں۔

غروب آفتاب کا حسین منظر گویا تحت الشعور میں ثبت ہوکر رہ گیا۔ مدہم پڑتی سورج کی سنہری کرنوں نے صحرا کو گویا کندن بنا ڈالا تھا۔ بحیرہ عرب میں آدھا ڈوبا ہوا سورج، دور کشتی سے ہاتھ ہلاتا ہوا ملاحوں کا گروہ، سائبیرئین کا اڑتا ہوا غول، کیکٹروں، جیلی فش انواع و اقسام کی سمندری حیات کا نظارہ۔

گوکہ یہاں سے کچھ  فاصلے پر پاکستان کا خوبصورت ترین ساحل ”کنڈ ملیر“ بھی موجود ہے، انتہائی شفاف پانی اور صاف ستھرا ساحل، لیکن اب کراچی سے اس جانب آنے کا رجحان کافی بڑھ گیا ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا میں فعال نجی ٹور آپریٹرز نے پوری کردی ہے۔ سو زیادہ عرصے کی بات نہیں جب یہاں کا حال بھی کلفٹن کے ساحل جیسا ہوجائے گا۔

چندر گپ کے اس آتش فشاں کے پہلو میں جب رات بھرپور عشائیہ اور چائے کے بعد تاروں بھرے آسمان کا نظارہ اور فوٹو گرافی سیشن کا اختتام ہوا تو رفیق صاحب کے ہارمونیم کی آواز نے گویا چندر گپ آتش فشاں کے نیچے چھائی صدیوں کی خاموشی کو توڑ ڈالا ہو۔ نصف شب کے بعد غزل کی ایسی محفل جمی کہ دن بھر کی مہم جوئی کے بعد تھکے ہاروں کی نیندیں ہی اُڑ گئیں، سلیپنگ بیگ چھوڑ کرچٹائی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ ایک جانب رفیق صاحب ہارمونیم لئے بیٹھے تھے اور دوسری جانب غزل کی فرمائشیں تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں، کیا خوبصورت آواز پائی ہے، کمال کا حافظہ ہے۔ معلوم نہیں کب تارے رخصت ہوئے اور چاند عقب سے نکل کر سامنے آکھڑا ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں