حضرت میاں میر کی حالاتِ زندگی , واقعات اور سکھوں سے عقیدت

2017 ,فروری 28



لاہور(مہرماہ رپورٹ): شاہی محل اداسیوں کی دھند میں نقاشی کے بےمثال  نمونے دکھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ پہرے دار سر جھکائے خاموشی کی تصویر بنے کھڑے تھے۔  امرا کبھی اندر جاتے تھے، کبھی باہر نکلتے تھے۔ ہندوستان بھر کے نامور طبیب محل میں جمع تھے۔ سلطنت مغلیہ کا بادشاہ  شاہجہاں اپنے بڑے شہزادے  کے سرہانے اُداس اور پریشان بیٹھا ہوا تھا۔

‘‘حضور، فکر مند نہ ہوں۔ معمولی سا بخار ہے، اُترجائے گا۔ آپ کی سلطنت میں بو علی سینا کے معیار کے طبیب موجود ہیں۔ شہزادہ حضور زیادہ دن بستر علالت پر نہیں رہیں گے۔’’

بادشاہ کے چہرے پر اطمینان کی لہریں اُبھریں، اس نے ایک نظر شہزادے کی طرف دیکھا اور طبیبوں کو رخصت کردیا۔ تخلیہ ہوتے ہی ملکہ ممتاز محل دیوان خانے میں آئی۔  یہ خبر اس کے لیے بھی اطمینان کا باعث تھی کہ شہزادے کو کوئی ایسی بیماری نہیں، جس کا علاج نہ ہو۔ خدام اور کنیزیں شہزادے کے ارد گرد موجود تھیں۔ شہزادہ آنکھیں بند کیے بستر پر دراز تھا۔

طبیبوں کا خیال تھا کہ معمولی سا بخار ہے، تجویز کردہ نسخے بھی برابر استعمال ہورہے تھے لیکن شہزادے کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی تھی۔ اب شاہی طبیبوں کے فکر مند ہونے کی باری تھی۔ نسخے بار بار تبدیل ہوتے رہے ، چار ماہ بیت گئے ، لیکن مرض میں افاقہ نہ ہوسکا۔ شہزادہ اس قدر نحیف ہوگیا کہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا۔

رات کسی بھیانک بلا کی طرح محل میں اتری تھی۔ شمع دان، جھاڑ فانوس روشن تھے لیکن دل میں اندھیرا ہو تو آنکھوں کی روشنی  بھی کم ہوجاتی ہے۔   شہزادے کی زندگی کا چراغ تھر تھرا رہا تھا۔ طبیبوں کے ہاتھ نبض ٹٹول رہے تھے۔ عتاب شاہی کے خوف سے ان کے ہاتھ کانپ  بھی رہے تھے۔

‘‘حضور عالی مرتبت! شاہی طبیبوں نے پوری  کوشش کی لیکن ان کی کوششیں رائگاں گئیں۔’’

‘‘تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ شہزادے کے مرض کا علاج تمہارے پاس نہیں….؟’’

‘‘ شہزادۂ معظم کو اگر کوئی ظاہری مرض لاحق ہوتا تو اس کا علاج ضرور ہماری دسترس میں ہوتا۔’’

‘‘ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر شہزادے کو کوئی مرض لاحق نہیں ہے تو اس کی حالت روز بروز بگڑتی کیوں جارہی ہے….؟’’

‘‘شہزادے پر یا توکوئی آسیب ہے یا اسے کسی کی نظرِ بد لگی ہے۔ کسی کی دعا ہی اسے صحت یاب کرسکتی ہے۔ دواؤں سے علاج نہیں ہوسکتا۔’’

طبیبوں کی اس بات پر  بادشاہ نے  دعاؤں اور خیرات کا اہتمام کیا۔ مسجدوں میں دعاؤں کے الفاظ گونجنے لگے۔ صدقات و خیرات کے لیے خزانے کے منہ کھل گئے۔ لنگر خانوں میں دیگیں چڑھ گئیں۔ محتاج و مفلس جھولیاں پھیلا پھیلا کر دعائیں مانگنے لگے۔ کل تک وہ بھیک مانگتے تھے، آج بادشاہ ان سے اپنے بیٹے کی صحت کی بھیک  مانگ رہا تھا۔

‘‘حضور، مجھے یقین ہوگیا ہے کہ شہزادۂ معظم ضرور صحت یاب ہوں گے۔’’ ایک مصاحب نے عرض کیا۔

‘‘ایک دکھی باپ کی تسلی کے لیے تم یہی تو کہہ سکتےہو۔’’

‘‘حضور عالی مقام، یہ تسلی کے دوبول نہیں۔’’

‘‘پھر ہم کیسے مان لیں ۔’’

‘‘میری ملاقات ایک مرد درویش سے ہوئی ہے۔’’ مصاحب نے عرض کیا ‘‘اس مرد درویش کی زبان میں اللہ نے ایسی تاثیر دی ہے کہ جو کہتا ہے وہ پورا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے، اس کی دعا سے شہزادہ عالی کو ضرور صحت مل جائےگی۔’’

‘‘کہاں ہے وہ درویش،  کہاں ملے ہو تم اس سے…؟ ہم خود اس سے جا کر ملیں گے۔ ہم اپنی سلطنت اسے بخش دیں گے۔  بس ہمارا بیٹا ہمیں مل جائے۔’’ بادشاہ زار و قطار رورہا تھا۔

‘‘وہ درویش لاہور میں رہتا ہے۔ آپ کو لاہورجاناہوگا۔’’

‘‘ہم شاہی کارندوں کو اس درویش کے پاس بھیجیں گے۔ وہ اسے آنکھوں پر بٹھا کر یہاں لائیں گے۔’’

‘‘آپ وقت ضائع نہ کریں۔ وہ درویش آپ کے بلانے پر شاید یہاں نہ آئے، آپ شہزادے کو لاہور لےجائیں۔’’

‘‘ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا اگر داراشکوہ کی صحت اسے طویل سفر کی اجازت دیتی۔’’

داراشکوہ کی صحت واقعی ایسی نہیں رہی تھی کہ وہ لاہور تک کا سفر  طے کرسکتا۔ شہنشاہ ہند نے برق رفتار شہسوار لاہور کی طرف دوڑا دیے۔ ان شہسواروں نے لاہور  پہنچ کر دم لیا اور درویش  کی خانقاہ تک پہنچ گئے۔

خادم نے آکر درویش سے عرض کی ‘‘شاہی کارندے آپ سے ملاقات کے متمنی ہیں۔’’

جواب ملا ‘‘جب شاہوں کو فقیروں کی ضرورت پیش آنے لگے تو فقیروں کے حق میں اچھا نہیں ہوتا۔’’

خادم نے کہا، ‘‘کسی کی بیماری کی خبر لائے ہیں، آپ سے دعا کے طالب ہیں۔’’

درویش نے کہا ‘‘ہم تو سب ہی کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔’’

‘‘وہ خصوصی دعا کے طالب ہیں۔’’

‘‘کیا عام کیا خاص، فقیر کی نگاہ میں شاہ و گدا سب برابر ہیں۔’’

اس درویش نے اپنے خادم کے ذریعے کہلا بھیجا کہ وہ شاہی کارندوں سے نہیں مل سکتا۔ جہاں تک دعا کا سوال ہے، وہ دعا کرتے  رہیں گے ۔ خادم نے یہی بات شاہی سپاہیوں  سے جاکر کہہ دی ۔  یہ  سن کر سپاہیوں کے چہرے اتر گئے۔ وہ اتنا طویل سفر طے کر کے آئے تھے، خالی ہاتھ جانے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے درویش کے خادم کے پاؤں پکڑ لیے۔ خادم نے ایک مرتبہ پھر سفارش کی اور بالآخر فقیر نے ان سپاہیوں کو طلب کرلیا۔

‘‘تمہارے بادشاہ کو مجھ سے کیا کام پڑ گیا….؟’’

‘‘شہزادہ داراشکوہ بیمار ہیں۔ کوئی دوا کارگر نہیںہوتی۔’’

‘‘بیماری کا علاج دواؤں سے ہوتا ہے۔ اپنے بادشاہ سے کہو کسی طبیب کو تلاش کرے، میں طبیب نہیںہوں۔’’

‘‘آپ تو طبیبوں کے طبیب ہیں۔ آپ کی دعا میں اثرہے۔’’

‘‘نہیں بھائی، میں تو اللہ کا ایک عام بندہ ہوں۔’’

‘‘آپ کیا ہیں، یہ تو ہم جانتے ہیں۔ آپ بس ایک نظر شہزادہ داراشکوہ کو دیکھ لیں۔’’’

‘‘کہاں ہے شہزادہ….؟’’

‘‘اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ ہم اسے آپ کے پاس لاتے، آپ خود چل کر دیکھ لیں۔’’

‘‘اگر تم سمجھتے ہو کہ ہمارا دیکھ لینا شہزادے کی صحت کے لیے مفید ہوگا تو تم شہزادے کو یہاں لےآؤ۔’’

‘‘مگر! شہزادے کی صحت….’’

‘‘اسے یہاں لے آؤ۔’’ درویش کی آواز میں اس قدر جلال تھا کہ سپاہی سر سے پاؤں تک کانپنے لگے۔

شاہی کارندے دہلی پہنچے اور بادشاہ کو درویش کی بات بتائی۔  شاہی اطبا اس کے حق میں نہیں تھے کہ شہزادہ یہ سفر کرے۔

‘‘دہلی سے لاہور تک کا سفر کھیل نہیں ہے۔ شہزادے کی صحت ہر گز اس قابل نہیں ہے۔’’

ایک مصاحب ہمت کرکے اپنی جگہ کھڑا ہوا۔  ‘‘اس درویش نے اگر کہا ہے کہ شہزادے کو لاہور آنا ہوگا تو ہمیں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ اس درویش کی دعاؤں سے شہزادہ سفر کے مصائب سے محفوظرہےگا۔’’

شہنشاہ شاہ  جہاں اور ملکہ ممتاز محل نے مصاحب کی اس رائے کو بہ غور سنا اور پھر حکم جاری کردیا کہ فوری طور پر سفر کی تیاری کی جائے۔  شہزادہ  ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکا تھا۔ اسے ایک پلنگ پر لٹا دیا گیا تھا اور اس احتیاط کے ساتھ لے جایا جا رہا تھا جیسے کوئی چراغ کو ہوا سے بچاتا ہے۔ لگتا  تھا کہ درویش کی دعا نے ہوا کو  ہی چراغ کی حفاظت پر مامور کردیا ہو ۔  کسی کو امید نہیں تھی لیکن  بہر طور شہزادہ  لاہور پہنچ گیا۔

شہنشاہ شاہجہاں کی خودنوشت ‘‘بادشاہ نامہ ’’ کے مطابق   یہ 17 شوال  1043ء  کا دن تھا جب  ہندوستان کا فرماں رواں، رعب و جلال کا پیکر ایک عام انسان کی طرح  لاہور میں ایک درویش کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔

 درویش کو بھی اس کی یہ ادا پسند آئی  چٹائی سے اُٹھ کر مصافحہ کیا اور کہا :

‘‘عادل بادشاہ کا فرض یہ ہے کہ وہ رعایا کے حالات سے آگاہ رہے۔ اپنی سلطنت کو ہر طرح کے دشمنوں سے بچائے اور سرحدوں کی نگرانی رکھے۔ اپنی تمام کوششوں کو رعایا کی بھلائی اور ملک کو آباد کرنے میں لگادے کیونکہ جب رعایا  خوش حال ہوگی تو ملک آباد رہے گا اور بادشاہ کا خزانہ پُر ہوگا اور فوج کا نظام بہترہوگا۔’’

‘‘جیسا آپ نے فرمایا ویسا ہی ہوگا۔’’ بادشاہ نے عاجزی سے کہا۔

‘‘یہ ہے شہزادہ داراشکوہ !’’ فقیر نے داراشکوہ کے پلنگ  کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

‘‘حضور! یہی میرا بیٹا ہے۔ حکیموں اور طبیبوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے لا علاج کہہ دیا ہے۔ آپ کی توجہ کا خواہاں ہوں۔’’

‘‘میں تو طبیب نہیں ہوں۔’’

‘‘میں حضور سے حسن ظن رکھتا ہوں۔’’

‘‘اچھا بھائی، حسن ظن رکھتے ہو تو ہمیں کچھ نہ کچھ کرناپڑے گا۔’’

درویش اپنی جگہ سے اٹھا اور شہزادے کے پلنگ کے قریب پہنچ گیا ‘‘آخر تم آہی گئے۔ ہمیں تمہارا ہی انتظارتھا۔’’

‘‘حضرت، میری ناتوانی کا عالم یہ ہے کہ میں آپ کے استقبال کے لیے اُٹھ بھی نہیں سکتا۔’’

‘‘شہزادے، ہمت  تو کرو۔’’

‘‘ہمت کرنے کی بھی طاقت نہیں۔’’

‘‘چلو، ہم سہارا دیتے ہیں۔ اب اٹھ کر بیٹھ جاؤ۔’’

اس درویش نے ہلکا سا سہارا دیا اور یہ حیرت ناک معجزہ ظہور میں آیا کہ شہزادہ جو کروٹ بھی نہیں بدل سکتا تھا بہ آسانی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ درویش نے اپنے مٹّی کے پیالے میں پانی بھرا، دعا پڑھی اور شہزادے کو حکم دیا کہ وہ یہ پانی پی لے۔ پانی کیا تھا آبِ حیات تھا۔ شہزادے کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ گیا۔

شاہجہاں نے درویش کی خانقاہ میں ایک ہفتے تک قیام  کیا۔ اس دوران میں فرماں روائے ہند  ایک فقیر منش درویش  کا مہمان رہا۔ کہیں سے نذر میں آیا ہوا کھانا بادشاہ کے سامنے رکھ دیا جاتا جسے وہ ذوق و شوق سے کھانے پر مجبور تھا۔

حاذق اطبا، داراشکوہ کے علاج سے عاجز آگئے تھے لیکن درویش نے پانی کا ایک پیالہ کیا پلایا کہ صرف ایک ہفتے میں شہزادہ اس طرح صحت یا ب ہوگیا کہ جیسے کبھی بیمار ہی نہیں ہوا تھا۔جب ایک ہفتہ ہوگیا اور شہزادہ صحت یاب ہوگیا تو شاہجہاں نے اس درویش کے قدموں میں سیم و زر کے انبار لگانے کی ٹھان لی لیکن درویش کو دولت دنیا سے کیا واسطہ! اس نے وہ جواب دیا جو بادشاہ کے لیے حیران کن تھا۔

‘‘یہ انعام میرے لیے بہت ہوگا کہ آپ مجھے تنہا چھوڑ دیں۔’’مغل بادشاہ نے ایک عام سے انسان کی یہ بے نیازی دیکھی اور درویش سے اجازت لے کر دہلی کی طرف عازمِ.سفر ہوگیا۔

یہ درویش لاہور کے معروف بزرگ حضرت شیخ محمد میاں میر قادری  ؒ لاہوری تھے جنہیں آج دنیا میاں میر  ؒ ،  شاہ میراور میاں جیؤؒ کے لقب سے  جانتی ہے۔  میاں میر نے ناصرف داراشکوہ کی لاعلاج بیماری کا علاج کیا بلکہ اپنے مٹی کے پیالے سے چند گھونٹ پانی پلا کر اسے معرفت کا وہ سبق پڑھایا کہ اس نے بادشاہی چھوڑ کر زندگی بھر  کے لیے فقیری اختیار کرلی۔    شہزادہ دارہ شکوہ کے علاوہ مغل بادشاہ جہانگیر، شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر بھی آپؒ کے عقیدت مندوں  میں سر فہرست رہے ۔

***

وادیٔ مہران  میں سیوستان  کے نام سے ایک بڑا شہر آباد تھا،  ٹھٹھہ اور بھکر  کے درمیان یہ علاقہ اب مختلف چھوٹے چھوٹے شہروں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ آج  یہ سیہون کے نام  سے جانا جاتا ہے۔    عہد مغلیہ میں اس سیوستان   میں  مقیم حضرت قاضی سائیں دتّہ  ؒ       علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے لحاظ سے پورے سندھ میں مشہور تھے، آپ  خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کی اولاد میں سے تھے،   آپ  کی زوجہ محترمہ بی بی فاطمہؒ  بھی  عارفہ اور ﷲ والی خاتون تھیں۔ آپؒ نے دعافرمائی تھی کہ : ‘‘اے اللہ! میں تجھ سے ایک ایسا بیٹا مانگتی ہوں جو عارف ہو  اور عبادت و ریاضت میں محور رہنے والا ہو۔ ’’

ان کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی۔    اس بچے کا نام  کا نام شیخ محمدرکھا گیا ۔ شیخ محمد کی  عُرفیت میاں میر تھی۔

حضرت میاں میرؒ  کا سن پیدائش 957ھ بمطابق 1550ء تھا، آپؒ نے ابتدائی تعلیمات اپنے والد سے حاصل کیں ، میاں میرؒ  کی عمر ابھی  12 سال کی ہی تھی کہ ان کے والد  کا انتقال ہوگیا۔ والد گرامی کے سایہ عاطفت سے محرومی کے بعد آپؒ کی تربیت کی ذمہ داری تنہا آپ کی والدہ پر آگئی، خاندان بھر میں بی بی فاطمہ کے علم و فضل کا چرچا تھا۔ اپنے بیٹے کو زیورِتعلیم سے آراستہ کیا اور  سلسلۂ قادریہ کے سلوک کی تعلیم بھی دی۔ گھر میں علوم کی تکمیل کے بعد حضرت میاں میرؒ والدہ محترمہ کے حکم پر  روحانیت کی اگلی منازل کی تکمیل کے لئے مرشد کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

نوجوان  میاں میر   گھر سے دور  کسی راہنما کی تلاش   میں چلے جارہے تھے ، شہر کی سرحد ختم ہونے کے بعد جنگل شروع  ہوگیا،  تن  تنہا  جنگل سے گزرنے  کے باوجود بھی ان  کے چہرے پر اطمینان کے آثار ہیں۔ نہ گھر سے دور ہونے کا دکھ ہے، نہ منزل تک پہنچنے کی جلدی۔ جنگل  ختم ہوا تو کوہ سیوستان کے  پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔  رات آنے کو تھی۔

اب ان اس کی آنکھیں  پڑاؤ کے لیے کسی مقام کو تلاش کر رہی تھیں کہ دور  ایک گوشے میں انہیں آگ کی روشنی نظر آئی۔ تجسس انہیں اس روشنی کے قریب لے گیا۔ یہاں  انہیں ایک تندور دکھائی دیا جس میں دھکنے والی آگ کی  روشنی  انہیں نظر آئی تھی۔  میاں میر کو تعجب ہوا کہ اس ویرانے میں یہاں روٹیاں کون پکاتا ہے۔ اس زمانے میں فقیر منش درویش اور اللہ والے بزرگ عموماً شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور جنگلوں اور ویرانوں میں ہی قیام کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہ کسی بزرگ کا ہی ٹھکانہ ہے ،  آگ دہک رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ بزرگ کہیں قریب ہی ہوں گے۔  میاں میر نے سوچا کہ ان صاحب سے ملاقات کرکے آگے چلا جائے۔

رات ایسے ہی  گزر گئی۔ دن طلوع ہوا تھا کہ انہوں  نے  ایک صاحب  کو آتے ہوئے دیکھا۔  میاں میؒر اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھے تھے۔ وہ ایسی جگہ تھے  کہ بزرگ کی نظر ان  پر نہ پڑسکی۔ وہ بزرگ آئے اور تندور کے قریب ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔ میاں میر لرزتے قدموں سے اُٹھے  اور ان کے قریب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ ‘‘السلام علیکم….!’’ آپ  نے کانپتی آواز میں سلام پیش کیا۔

‘‘وعلیکم السلام، میر محمد….!’’ ان بزرگ نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔  اس اجنبی سے اپنا نام سن کر میاں میر  حیرت زدہ رہ گئے۔  ابھی ان کی حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس ویرانے میں بزرگ کی آواز پھر گونجی۔ ‘‘میر محمد….! تم یہاں کس کے انتظار میں ٹھہرےہوئےہو….؟’’

میاں میر ؒ  نے جواب دیا ‘‘میری والدہ نے مجھے زیورِتعلیم سے آراستہ کرنے کے بعد حکم دیا تھا کہ میں سلوک کی منزلیں طے کرنے کے لیے کسی مرد معرفت کی تلاش کروں۔ میں نے حضرت خضر سیوستانی کا نام سنا ہوا تھا۔ بس انہی کی تلاش میں نکلاہوں۔ ’’

’’برخوردار! نام تو میرا بھی خضر ہے۔  اب یہ  نہیں معلوم  کہ تمہیں کس خضر کی تلاش ہے….؟’’

یہ سنتے ہی میاں میرؒ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے  اور بزرگ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا :

‘‘بس میں سمجھ گیا، میری منزل مجھے مل گئی۔ مجھے آپ ہی کی تلاش تھی۔ آپ ہی خضر سیوستانی ہیں۔   گھر سے نیت کرکے نکلا تھا کہ آپ سے ملاقات ہوگی تو حلقۂ غلامی میں شامل ہوجاؤں گا۔’’

حضرت شیخ خضر سیوستانی  ؒ  نے فرمایا ‘‘ملاقات تو طے ہوچکی تھی تو پھر تم محروم کیسے رہتے۔ ہمیں تمہارا ہی انتظار تھا اگر تم اس وقت واپس لوٹ جاتے تو یہ ملاقات پھر قیامت تک نہ ہوتی’’….

حضرت شیخ خضر سیوستانی  ؒ نے آپؒ کو شرف بیعت عطا کیا ، بیعت سے شرف یاب ہونا اگر اس مرید کے لیے سعادت کا باعث تھا تو ان  شیخ کے لیے بھی باعث مسرت تھا۔ روشن چراغ کو ایک اور چراغ  روشن  کی ضرورت تھی۔

حضرت شیخ خضرؒ سندھ  میں سلسلۂ قادریہ کے مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ حضرت شیخؒ کے صبر و قناعت اور توکل کی انتہا یہ تھی کہ ساری زندگی مال دنیا کے نام پر ایک کوڑی بھی اپنے پاس نہیں رکھی۔   حضرت شیخ خضر سیوستانیؒ نے اپنی عمر کا طویل حصہ لوگوں سے الگ تھلگ  رہ کر  گزارا۔ پھر آپ سیوستان کے باہر ایک پہاڑ میں سکونت پذیر ہوگئے ۔ حضرت خضرؒ سے بیعت ہونے کے بعد حضرت میاں میرؒ ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوگئے۔ حضرت خضرؒ نے قدم قدم پر آپ کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت میاں میرؒ اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں کتنے عرصے رہے، اس کی تفصیل کسی دستاویز میں نہیں ملتی البتہ جتنے برس  وہ رہے  ان ہی پہاڑوں کے درمیان گزرے۔

پھر حضرت شیخ خضرؒ نے آپ سے فرمایا کہ اب تم تبلیغ دین کے لیے جہاں جانا چاہو، چلے جاؤ۔ چنانچہ آپ اپنے مرشد کے حکم پر 25 سال کی عمر میں لاہور کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔

***

شہنشاہ اکبر کی سلطنت عروج پر تھی جب حضرت میاں میرؒ نے پچیس  سال کی عمر میں لاہور میں قدم رکھا۔ سلوک کی  کئی منزلیں طے ہوچکی تھیں لیکن تشنگی ابھی تک دور نہیں ہوئی تھی۔ لاہور کے علمی ماحول میں قدم رکھا تو علوم کے کئی نئے  دروازے کھلے ہوئے نظر آئے۔ لاہور پہنچ کر حضرت میاں میر مولانا سعد اللہؒ کے حلقۂ درس میں شامل ہوگئے۔ مولانا سعد اللہؒ اپنے شہر کے بے مثل عالم تھے۔ حضرت میاں میرؒ کئی سال تک حضرت  کے فضل و کمال سے فیضیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ حضرت میاں میرؒ، مفتی عبدالسلام لاہوریؒ اور مولانا نعمت اللہؒ کے حلقۂ درس میں بھی شامل ہوا کرتے تھے۔  حضرت میاں میرؒ نے تھوڑے ہی عرصے میں ان بزرگ سے معقولات اور منقولات کا علم حاصل کیا۔  یہاں تک کہ مولانا نعمت اللہؒ کے تمام پرانے شاگرد پیچھے رہ گئے اور مکتب میں داخل ہونے والا ایک نو وارد اپنے ساتھیوں پر سبقت لے گیا۔

حضرت مولانا نعمت اللہ، حضرت میاں میرؒ کے فہم و تدبر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے۔

‘‘ہم کئی سال تک شیخ محمد کو پڑھاتے رہے اور اس دوران انہوں نے ہم سے ہماراعلم لے لیا مگر اس طویل عرصے میں ہمیں ان کے اصل حالات کا علم نہیں ہوسکا۔’’  یہ حضرت میاں میرؒ کی شخصیت کی گہرائی پر ان کے استاد گرامی کی کھلی ہوئی گواہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت میاں میرؒ معرفت کے رازوں کو دوسرے لوگوں سے کس قدر پوشیدہ رکھتے تھے۔

حضرت میاں میرؒ کا یہ معمول تھا کہ آپ دن کا اکثر   وقت   شہر  سے باہر  جا کر یاد حق میں مشغول رہتے تھے۔

‘‘ایک مرتبہ ایک شخص حضرت میاں جیؤؒ (حضرت میاں میر قادریؒ) کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ میرا بیٹا نزع کی حالت میں ہے۔ یہ اُمید لے کر آیا ہوں کہ آپ توجہ فرمائیں گے۔ حضرتؒ نے جب اس کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھی تو ان پر استغراق کی کیفیت طاری ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد اس کیفیت میں کچھ کمی واقع ہوئی تو آپؒ نے پانی کا پیالہ طلب کیا۔ اس پر دعا پڑھی اور اس شخص کو دیا کہ اُسے لے جائے اور اپنے بیٹے کو پلا دے۔ جب وہ پانی اسے پلایا تو اسے شفا ہوگئی۔ پھر وہی شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ حضرتؒ کی خدمت میں حاضر ہوا  اور عرض کی کہ یہ سات سال کا ہوگیا ہے لیکن گونگا ہے، بول نہیں سکتا۔ حضرت میاں جیؤؒ نے اس لڑکے کو فرمایا :‘‘کہو! بسم اﷲ الرحمن الرحیم’’۔۔۔۔

 آپؒ  کا یہ فرمانا تھا کہ لڑکے کی زبان کھل گئی اور اس کا گونگا پن جاتا رہااور پھر یہ بھی ہوا کہ تھوڑی ہی مدت میں اس نے قرآن شریف حفظ کرلیا۔

آپ کی خدمت میں ایک شخص  نے عرض کی کہ میری شادی کو کئی سال ہوگئے ہیں لیکن ہمارے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت میاں جیؤؒ  کی خدمت میں حاضر ہو کر التماس کی کہ اس بیوی سے اولاد نہیں ہوئی ہے اس لئے کسی اور عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ‘‘خاطر جمع رکھو، اسی عورت سے بہت سے لڑکے پیدا ہوں گے’’۔  حضرت کی پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اسی عورت سے دس بچے پیدا ہوئے جو سب کے سب لڑکے تھے۔

ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ میرا  ایک عزیز تھا، وہ اپنی ہمشیرہ سے چودہ سال کی عمر میں جدا ہو کر بخارا چلا گیا تھا۔ پندرہویں سال بعد اس کی بیماری کی خبر اس طرح ملی کہ وہ اب قریبُ المرگ ہے۔ اس خبر سے اس کی ہمشیرہ سخت پریشان ہوئی، میں حضرت کی خدمت میں گیا کہ عرض حال کروں۔ اس سے پہلے کہ میں کہتا کچھ، آپ نے فرمایا کہ جس غرض سے تم یہاں آئے ہو خاطر جمع رکھو، غائب شخص صحیح و سالم ہے اور جلد ہی واپس آجائے گا، اسی راوی کا کہنا ہے کہ حضرت کے ارشاد کے بعد ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ وہ بخارا سے سلامتی کے ساتھ واپس آگیا۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت میاں میرؒ موچی دروازہ لاہور کے ایک باغ میں بیٹھے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شکاری آیا اور اس نے ایک فاختہ کا نشانہ لیا۔ نشانہ ٹھکانے پر لگا ۔ فاختہ زمین پر گرگئی۔

حضرت میاں میرؒ نے  فاختہ کو اٹھا یا اور  اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ فاختہ نے ایک دم جھر جھری سی لی اور اڑ کر درخت پر جا بیٹھی اور پھر بولنا شروع کردیا۔ شکاری سے یہ دیکھا نہ گیا۔ وہ  پھر نشانہ باندھنے لگا۔ آپ نے اسے منع کیا، روکنے کی کوشش کی لیکن شکاری نے  اپنی غلیل کو فاختہ کی طرف تان لیا۔ اسی وقت شکاری کےہاتھ میں شدید درد اٹھا۔ غلیل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرپڑی۔ حضرت میاں میرؒ  اس کے قریب پہنچے اور فرمایا ‘‘میں نے تجھے منع کیا تھا مگر تو نہ مانا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ تو اس تکلیف میں مبتلا ہے۔’’ شکاری آپ کے قدموں میں گرکر آپ سے معافی کا خواستگار ہوا۔ آپ نے سے معاف کردیا اور اس کی تکلیف جاتی رہی۔ یہ اور اس جیسی دوسری کرامات خوشبو کی طرح پھیلنےلگیں ۔

 حضرت میاں میر کچھ عرصے کے لیے سرہند میں بھی مقیم رہے ۔ سرہند سے واپس آنے کے بعد حضرت میاں میرؒ محلہ باغبانپورہ میں سکونت پذیر ہوئے۔

یہاں رہ کر حضرت میاں میرؒ نے اپنے مریدوں کی اصلاح فکر اور تہذیب نفس کرکے ایک ایسی جماعت تیار  کی جس سے رشد وہدایت کے چشمے پھوٹے، پورا پنجاب معرفت کے ان آبشاروں سے سیراب ہوا۔

حضرت میاں میرؒ بہت کم لوگوں کو اپنے حلقۂ ارادت میں شامل فرماتے تھے۔

آپؒ جس کو بھی بیعت کرتے اُسے مرید کہہ کر نہیں پکارتے بلکہ ‘‘دوست’’،  ‘‘بھائی’’ اور کبھی کبھی بےتکلفی سے ‘‘یار’’ فرمایا کرتے تھے۔

***

 اکبر کے بعد اس کا بیٹا جہانگیر تخت نشین ہوا۔ جہانگیر صوفیہ طبقے سے  برائے نام بھی عقیدت نہیں رکھتا تھا ۔

جہانگیر ایک گمراہ اور بھٹکا ہوا انسان تھا۔ وہ نہایت مغرور اور  متکبر بادشاہ تھا۔  دنیاداروں اور زرپرستوں نے بھی  اپنے اپنے مفادات کے لیے اس کی خوب چاپلوسیاں کیں اور اسے گمراہی کے راستے پر ڈالتے رہے۔  اس نے   اپنی بادشاہی کی شان بڑھانے کے لیے اپنے مصاحبین کو سجدۂ تعظیمی کے لیے کہا۔  سب دنیا دار اس کام کے لیے تیار ہوگئے لیکن  سرہند کے رہنے والے  اللہ کے ایک بندے حضرت مجدد الف ثانیؒ نے ناصرف  یہ کہ اس کام کی  پرزور مذمت کی  بلکہ نہایت تدبر سے بادشاہ کو بھی اس غلط حرکت سے  تائب کروادیا۔

یہی نور الدین جہانگیر بادشاہ اپنی زندگی کے آخری ایّام میں تبدیل آب و ہوا کے لیے کشمیر میں سکونت پذیر تھا۔ اس کے مخبر پل پل کی خبریں اس تک پہنچا  رہے تھے۔ بعض مصاحبوں  نے، اس وقت کے مشہور بزرگ شیخ عبدالحق اور مرزا احسام الدین کے خلاف بادشاہ کو اتنا بھڑکایا کہ وہ ان دونوں بزرگوں کے خلاف کارروائی کرنے پر تیار   ہوگیا۔ ان دونوں بزرگوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف سازشوں  اور بادشاہ وقت کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے میں مشغول تھے۔   مجدد الف ثانیؒ  کی کوششوں سے شہنشاہ جہانگیر نے راہ.راست اختیار کرلی تھی۔ علماء صوفیا کی قدر دانی کرنے لگا تھا لیکن وہ یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ سازشی عناصر اس کے خلاف سرگرم عمل ہوں۔ اس نے حکم جاری کیا کہ دونوں افراد کی سزا ہے کہ انہیں  ملک بدر  کیا جائے  اور یہ  دلی چھوڑ کر کابل  چلے جائیں۔’’ بادشاہ نے اپنی دانست میں رعایت کے طور پر یہ آسان ترین سزا  دی تھی  لیکن وطن سے دوری، گھربار سے جدائی کوئی معمولی اذیت نہیں ہوتی۔  شیخ عبدالحق کو فرزند کے ساتھ کابل جانے کے لیے روانہ ہونا پڑا۔  آپ لاہور پہنچے  اور  داتا گنج بخش کے مزار اقدس پر حاضر ہوئے۔ پھر  خیال آیا کہ لاہور میں حضرت میاں میرؒ بھی تو قیام فرما ہیں، ان سے بھی ملاقات کرتا چلوں۔

حضرت میاں میرؒ  اپنے وقت کے ایک عالم باعمل کو اپنی خانقاہ میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے، نہایت تپاک سے ملے  اور خادموں کو آپ کی تواضع کا حکم دیا۔ اس رسم میزبانی کے دوران حضرت میاں میرؒ نے محسوس کیا  کہ شیخ عبدالحق سخت پریشان ہیں۔  حضرت میاں میرؒ نے ان کی پریشانی کا سبب جاننا چاہا۔ شیخ عبدالحق نے کچھ تفصیل سے تمام واقعات سنادیے۔ کہ عتاب شاہی کا نشانہ بن گیا ہوں۔ حکم ہوا ہے کہ میں اور میرا بیٹا نور الحق اسی وقت ہندوستان چھوڑ کر کابل چلے جائیں۔ میں اس وقت کابل جانے کے لیے نکلا ہوں۔ دیکھیے، کب اپنا وطن دیکھنا دوبارہ نصیب ہو۔

حضرت میاں میرؒ نے کچھ دیر کے لیے سکوت اختیار  کیا پھر فرمایا  کیوں جاتے ہیں آپ کابل، نہ جائیے، دہلی میں رہیے۔

حضرت ، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ حکم شاہی ٹالنے کی تاب مجھ میں کہاں….؟

میں تو کچھ اور دیکھ رہا ہوں۔ حضرت میاں میر نےفرمایا: آپ یہیں، میرے پاس رہیے۔ آپ خود دیکھ لیں گے، کیا ظہور میں آنے والا ہے۔ اس وقت تو میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ اور آپ کے فرزند انشاء اللہ دہلی ہی میں رہیں گے۔

شیخ عبدالحق کو کچھ اطمینان ہوا  انہوں نے فی.الحال کابل جانے کا ارادہ ملتوی کردیا۔ ابھی حضرت شیخ عبدالحق لاہور میں مقیم تھے کہ شہنشاہ جہانگیر دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جب شاہ نہیں رہا تو عتاب شاہی بھی ختم ہوگیا۔ شیخ عبدالحق کو حضرت میاں.میرؒ کے اس جملےکا مطلب اب سمجھ میں آیا کہ ‘‘میں تو کچھ اور دیکھ رہا ہوں۔’’  کچھ ہفتوں بعدشیخ عبدالحق اپنے فرزند کے ساتھ واپس  دہلی روانہ ہوگئے۔

***

ایک دن حضرت میاں میرؒ لاہور ی ایک باغ کے سامنے دریا کے کنارے آرام فرما رہے تھے۔ آپ کے  مرید خاص شیخ عبدالواحد آپ کے پاؤں دبا رہے تھے۔ اچانک ایک بڑا سیاہ سانپ نمودار ہوا اور آپ کی طرف آنے لگا۔ مرید کی نظر جیسے ہی سانپ پر پڑی، خوف سے اس کا چہرہ پیلا پڑگیا۔ حضرت شیخ نے ان کے چہرے کی طرف دیکھااورفرمایا۔ عبدالواحد! کیا بات ہے..؟

حضرت! ایک سانپ ہماری طرف آرہا ہے۔

آنے دو…..اسے ہم لوگوں سے کوئی کام ہوگا۔

حضرت، سانپ کو ہم سے کیا کام ہوسکتا ہے….؟

دیکھتے جاؤ۔ شیخ عبدالواحد، مرشد کے ادب سے خاموش تو ہوگئے لیکن خوف سے دل کانپ رہا تھا۔ سانپ آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا اور حضرت میاں میرؒ کے قدموں پر اپنا پھن رکھ دیا۔

ٹھیک ہے، ایسا ہی سہی۔  سانپ کی طرٖ رخ کئے حضرت شیخ نے فرمایا۔

سانپ نے اپنا پھن اٹھایا اور حضرت شیخ کے گرد چکر لگانے لگا۔ اس نے تین چکر لگائے اور خاموشی سے جس طرف سے آیا تھا، اسی طرف چلتا ہوا نظروں سے غائب ہوگیا۔جب سانپ چلا گیا تو آپ کے مرید نے دریافت کیا سیّدی….! یہ کیا راز تھا….؟

حضرت نے فرمایا ….کوئی راز نہیں تھا۔ اس سانپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ جب بھی  مجھے دیکھے گا، میرے گرد تین چکر لگائے گا، میں نے اسے اجازت دے دی، اس نے تین چکر لگائے اور چلا گیا۔

***

حاجی علی ایک نہایت پرہیزگار انسان تھے اور حضرت میاں میرؒ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے۔  ایک مرتبہ وہ  اور ان کے ساتھی ایک قافلے کے ساتھ ایران جارہے تھے۔ راستے میں قافلے والوں کو تھکن کا احساس ہوا۔ اصفہان سے کچھ پہلے یہ لوگ خیمہ زن ہوگئے۔ حاجی علی اور ان کے ساتھی دوپہر کا کھانا پکانے میں مشغول تھے۔ حاجی علی آٹا گوندھ رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ کوئی بزرگ خیمے کی طرف آرہے ہیں۔ جب ذرا فاصلہ کم ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت میاں میرؒ تشریف لائے ہیں۔حاجی علی کو یقین نہ آیا۔   یہ کیسے ہوسکتا ہے….؟  وہ تو لاہور میں تھے، یہاں کیسےآسکتے ہیں….؟

لیکن اپنی آنکھوں کو جھٹلابھی نہیں سکتے تھے۔  یہ حضرت میاں میرؒ  ہی تھے ۔

حاجی علی اٹھے اور خیمے سے نکل کر آپ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا۔‘‘سیّدی! میں نے تو آپ کو لاہور میں چھوڑا تھا ، آپ اور یہاں….؟’’

یہ کہنے آیا ہوں کہ ابھی کچھ دیر میں یہاں سخت طوفان آنے والا ہے۔ اپنا مال و اسباب لے کر فوراً کسی اونچی جگہ منتقل ہوجاؤ۔  حضرت میاں میرؒ یہ پیغام دے کر نظروں سے اوجھل ہوگئے۔

حاجی علی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نہیں تھا۔ تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ طوفان کے آثار دور دور تک نہیں تھے لیکن پیر و مرشد کے فرمائے کو جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ آپ نے جلدی جلدی اپنا مال و اسباب جمع کرنا شروع کردیا۔ اہلِ قافلہ کو بھی مشورہ دیا کہ اپنے خیمے اکھاڑ کر بلند ی کی طرف منتقل ہوجائیں۔ اہل قافلہ نے  مذاق اڑایا کہ اس موسم میں اور طوفان کی باتیں۔

میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ طوفان آنے والا ہے۔ میری بات کا یقین کرو۔ مگر چند دوستوں کو چھوڑ کر  قافلے کے دوسرے لوگ  نہ مانے اور مزے سے اپنے اپنے خیموں میں آرام کرتے رہے۔

ابھی حاجی علی اور ان کے دوست پہار کی چوٹی تک پہنچے ہی تھے کہ  سیاہ بادل امڈ کر آیااور  تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ حاجی علی کے ساتھی جو اب تک تذبذب میں تھے، انہیں یقین آگیا کہ حاجی علی کی  بات  درست تھی۔  تھوڑی ہی دیر میں  تیز ہواؤں نے خیمے اکھاڑ دیے، اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی۔ ان لوگوں کا قیمتی اسباب کھلے آسمان تلے پڑا تھا۔ بارش اتنی تیز تھی کہ تھوڑی دیر  میں  دریا کےکنارے چھلک اٹھے۔ لوگوں نے گھبرا کر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن اب ان کے لیے یہ  ممکن نہیں تھا۔ پہاڑ کی پھسلن اور بلندی سے نشیب کی طرف آتا ہوا پانی انہیں اوپر چڑھنے سے روک رہا تھا۔

ایک دن حضرت میاں میرؒ کی مجلس میں موجود ایک عقیدت مند نے آپؒ سے دست بستہ عرض کی ‘‘شیخ! جب آپؒ  کو رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حضوری حاصل ہو تو میرا بھی خیال رکھنا’’….

حضرت میاں میرؒ نے فرمایا ‘‘ایسے وقت پر خاک!…. جس میں اللہ کے سوا مجھے کوئی دوسرا  یادآئے’’….

حضرت میاں میرؒ کی یہی طرزِفکر تھی کہ جس کی وجہ سے آپؒ ہر شئے سے بے نیاز ہوگئے تھے اور جب بندہ اللہ کے سوا ہر شئے سے بے نیاز ہوجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق…. اللہ اُس کی آنکھ، زبان اور ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا، بولتا اور پکڑتا ہے….آپؒ کا طرزِزندگی سادہ اور عام لوگوں کی طرح تھا، اُس میں کسی قسم کی نمود نمائش کا ہلکا سا تاثر بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ آپؒ  کوئی جبّہ، دستار (پگڑی) یا خرقہ وغیرہ زیب تن نہیں کرتے ہیں  بلکہ عام لباس پہنتے ۔ حضرت میاں میرؒ کی ساری زندگی سیدنا حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع سے عبارت ہے۔

***

مغل عہد کی ایک پینٹنگ جس میں حضرت میاں میرؒ ، حضرت ملا شاہ بدخشانیؒ، داراشکوہ، خواجہ حسین، خواجہ بہاری، میاں نتھا اور دیگر خدام شامل ہیں۔

جہانگیر کے بعد  شاہ جہاں تخت نشین ہوا ، شاہ جہاں  حضرت میاں میرؒ کا احسان.مند تھا کہ ان کی دعا سے اور شہزادہ داراشکوہ کو  صحت ملی تھی ، دوسری جانب حضرت میاں میرؒ کے پیالے سے پانی پینے کے بعد شہزادہ داراشکوہ کے دل میں ایسی  کشش  پیدا ہوئی کہ وہ اور  خود شہنشاہ جہانگیر کے دل میں شوقِ ملاقات کروٹ لیتی رہتی، ۔ اب یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ شہنشاہ لاہورکا رخ کرے، حضرت میاں میرؒ سے ملاقات کا ارادہ ہواور شہزادہ داراشکوہ ساتھ نہ ہو۔ پھر تو ایسا ہوا کہ داراشکوہ  مستقل ہی  میاں میر کی محفل  میں حاضر ہوتا رہا  خاموشی سے یہاں ہونے والی گفتگو سنتا رہا۔ شہزادہ داراشکوہ  پر آپؒ کی صحبت کا  ایسا اثر ہوا کہ اس کا دل تخت و تاج سے اُچاٹ ہوگیا اور  شہنشاہ کا سب سے بڑا بیٹا ہونے کے باجود اس نے تخت کے بجائے علم کو اپنایا اس اپنی پوری زندگی علم کی  جستجو اور کتابوں کی تصنیف میں گزاردی۔  حضرت میاں میر  کے حالات زندگی، تعلیمات و کرامات  کے بیشتر احوال شہزادہ کی کی تصنیف ‘‘سکینۃ الاولیاء ’’ سے ہی ہم تک پہنچے ہیں ۔

حضرت میاں میرؒ نے جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب کا عہد پایا، تینوں نے ہی کوشش کی کہ وہ آپؒ سے ہدیہ قبول فرمالیں لیکن آپؒ نے انکار کردیا۔  ایک بادشاہ کو تو آپؒ نے ڈانٹ دیا کہ  ‘‘کیا تم نے مجھے فقیر سمجھ رکھا ہے؟…. جو نقدی لے کر آئے ہو، میں فقیر نہیں ہوں میرا شمار اغنیاء میں ہوتا ہے،  جو بندے خدا سے لو لگالیتے ہیں وہ تو غنی ہوجاتے ہیں…. یہ لوگوں کا مال ہے…. کسی مستحق کو دے دو’’….۔۔۔۔۔۔

حضرت میاں میرؒ سے سکھوں کی عقیدت

حضرت میاں میر قادریؒ نے زندگی بھر انسانوں  کو اخوت و بھائی چارے کا درس دیا۔ ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنے کی تلقین کی۔

حضرت میاں میرؒ مسلمانوں، سکھوں و دیگر مذاہب میں یکساں  طور پر مقبول تھے۔    آج بھی آپؒ کا مزار دنیا بھر سے آنے والے مسلم، سکھ اور دیگر زائرین کے لئے مرجع خائق بنا  ہوا  ہے ۔  ہندو اور سکھ آکر  یہاں دئیے جلاتے ہیں ۔

حضرت میاں میر کے عقیدت مندوں میں  سکھ مت کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو(1606ء  تا 1581ء )  بھی شامل تھے۔ جنہوں نے سکھوں کی سب سے مقدس کتاب ’’ گرنتھ صاحب‘‘ مرتب کی  یہ کتاب  اس سے پہلے سینہ بہ  سینہ چلی آرہی تھی۔ گروہ ارجن کا دوسرا کار نامہ  امرتسر تالاب پر  سکھوں کے سب سے بڑے گرودوار  ‘‘گولڈن ٹیمپل’’ کی تعمیر بھی ہے۔  گروارجن دیو جی امرتسر کے تالاب میں گولڈن ٹیمپل کی بنیاد رکھنے سے پہلے  لاہور تشریف لے گئے اور مسلمان صوفی میاں میر سے درخواست کی کہ وہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھیں ،  چنانچہ حضرت میاں میر  امرتسر تشریف لے گئے اور 13 جنوری  1588 ء کو وہاں چار اینٹوں سے  سکھوں کے مشہور مقدس ترین گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھا۔  سکھوں  میں آج بھی میاں میر کو   بہت احترام کے ساتھ اعلیٰ مقام کا حامل قرار  دیا جاتا ہے۔

‘‘میاں  میر ایک  عظیم مسلمان بزرگ تھے،  انہوں نے پاکیزہ زندگی گزاری ، اللہ کے بندہ ہونے کے ناطے،  ان کے افکار کی راہ میں  ذات پات یا مذہب  و رنگ و نسل کی کوئی رکاوٹیں حائل  نہیں ہوئی۔ انہوں نے خدا سے محبت کرنے والوں سے محبت کی۔  وہ لاکھوں  مسلمانوں کے پیر تھے  ساتھ ہی  وہ سکھوں  اور ہندوؤں کے گرو ارجن کے ایک قریبی دوست  بھی تھے۔  گرو ارجن کی خواہش پر، پیر میاں میر نے امرتسر میں سکھوں کے سب سے زیادہ مقدس مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔   اس سکھ  گرودوارے کا یہ منفرد اعزاز ہے،  تاریخ میں کبھی ایسا واقع پیش نہیں آیا جہاں ایک مذہب کے سب سے مقدس ترین مقام کا سنگ ِبنیاد کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستی نے رکھا ہو۔ ’’ ۔۔۔

***

حضرت میاں میرؒ ساٹھ سال سے زیادہ عرصے تک لاہور میں مقیم رہے،  آپ کی عمر مبارک اب اٹھاسی سال کے قریب ہوچکی تھی۔ آپ بہت زیادہ ضعیف ہوگئے، بینائی اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ کوئی خط یا کتاب پڑھنے سے قاصر ہوگئے تھے۔  آپ نے باغوں میں جانا چھوڑ دیا، اکثر اوقات اپنے حجرے میں عبادت میں مشغول رہتے اور باہر نہ جاتے تھے۔   دن بھر لوگوں کا ہجوم رہتا اور لوگ آپ سے مستفید ہوتے۔

حضرت میاں میرؒ اتنے نحیف ہوچکے تھے کہ سہارے کے بغیر اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس وقت بھی آپ غنودگی کے عالم میں آنکھیں بند کیے لیٹے تھے۔ اچانک آپ کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی۔ آپ نے بلند آواز سے فرمایا

‘‘مجھے میرے دوستوں کے درمیان دفن کرنا۔’’

یہ کہنے کے بعد آپ کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی۔ آپ آہستہ آہستہ لفظ ‘‘اللہ’’ کا ورد کر رہے تھے۔ پھر یہ آواز اتنی کمزور ہوگئی کہ کوئی نہیں سن سکتا تھا۔ معرفت کا سورج غروب ہوچکا تھا۔ یہ7  ربیع الاول 1045ھ بمطابق  11 اگست 1635ء     کادن تھا۔

ہر سال عرس کے موقع پر آپ کے مزار پر بنا کسی رنگ و نسل کی تفریق کے مسلمان ، سکھ اور ہندو حاضری دیتے ہیں۔

آپ کی نماز جنازہ میں حاکم شہر کے علاوہ علما، فضلا اور صلحا اور بے شمار عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے جنازے کو ہاشم پور یا دھرمپورہ  کے مقام پر لے جایا گیا۔ (آج کل یہ آبادی میاں میرؒ کے نام سے مشہور ہے) یہاں آپ کے کئی دوست  یعنی مرید دفن تھے، یہیں آپ کی وصیت تھی لہٰذا اسی مقام پر آپ کی تدفین کی گئی۔

آج حضرت شیخ میاں میر ؒ کے وصال کو 392 سال کا طویل عرصہ گزر چکا  ہے۔

ہر سال آپ ؒکا عرس مبارک 7 ربیع الاول  کو منایا جاتا ہے، جہاں ملک کے کونے کونے  سے بڑی تعداد میں ہر رنگ و نسل کے زائرین  عرس میں شرکت کر کے روحانی فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔

علامہ اقبال ؒ   نے حضرت  میاں میر کے بارے فارسی تصنیف ‘‘اسرار و رموز ’’میں فرمایا ہے۔

حضرت شیخ میاں میر ولی
 ہر خفی از نور جان او جلی
بر طریق مصطفی محکم پئی 
نغمہ ی عشق و محبت را نئی
تربتش ایمان خاک شہر ما 
مشعل نور ہدایت بہر ما

(ترجمہ: حضرت شیخ میاں میر ؒ وہ بزرگ تھے جن کی نوری نفس سے  معرفت حق کا ہر چھپا ہوا راز ظاہر ہوا، آپ رسول اللہﷺ کی سنت پر مضبوطی سے قائم تھے اور آپ ایسی بانسری تھے جس میں عشق و محبت کے نغمے نکلتے تھے۔ ہمارے شہر کی خاک میں  ایمان  آپ کے مزار  کی وجہ سے ہے اور وہ  ہمارے لیے نورِ ہدایت کی مشعل ہیں۔)

متعلقہ خبریں