حضرت علاؤالدین احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اور کرامات پر ایک نظر

2017 ,فروری 23



لاہور(مہرماہ رپورٹ):حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ گیارہ ربیع الاول ۵۹۲ہجری میں افغانستان کے شہر ہرات میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ تھا جو بڑے متقی ،صاحب دل اور با فیض بزرگ تھے آپ کی والدہ ماجدہ بی بی ہاجرہ رحمتہ اللہ علیہ حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی سگی بہن تھی۔ آپ  کے والد  کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ  آپ کو لے کر ہرات سے اجودھن (پاکپتن شریف) میں حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت با با فرید رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد کرتے ہوئے فرما یا کہ اب اس بچے کی پرورش و تربیت آپ کریں ۔حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے بچے کی صورت دیکھتے ہی فرمایا یہ بچہ بڑا ہو کر اولیاء وقت میں سے ہو گا اور ایک دنیا اس سے فیض یاب ہو گی با با فرید رحمتہ اللہ علیہ نے خود آپ کو تعلیم دینا شروع کی آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذہانت کا کمال تھا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تین سال کے اندر ہی تمام علوم ظاہری حاصل کر لئے ، تین برس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ  بھائی سے یہ کہہ کر ہرات واپس چلی گئیں کہ اب بھانجے کو علوم باطنی میں بھی کامل کر دیجئے اور کوئی تکلیف نہ ہونے دیجئے گا حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو بہن سے بہت محبت تھی حضرت با با فرید رحمتہ اللہ علیہ نے بہن کے سامنے ہی بھانجے کومرید کر کے تقسیم لنگر کا کام حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد کر دیاحضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی عمر گو کہ کم تھی مگر پھر بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ اہم کام نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا ایک عرصے کے بعد جب آپ کی والدہ ماجدہ  نے واپس آ کر آپ  کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑے آپ رحمتہ اللہ علیہ سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے۔ بھائی سے جاکر شکوہ کیا تو حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ے فرمایا کہ تم خود گواہ ہو کہ تمہارے سامنے ہی میں نے تقسیم لنگر کی خدمت اس کے سپرد کی تھی۔حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا گیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا آپ نے تقسیم لنگر ہی کا مجھے حکم دیا تھا یہ کب فرمایا تھا کہ اس میں سے کھا بھی لینا یہ جواب سن کر ماموں پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شفقت سے فرمایا '' علائوالدین صابر است '' اور اسی وقت سینے سے لگا کر خدا جانے کیا کیا عطا فرما دیا اس کے علاوہ بھی آپ کے مجاہدے اور کرامتیں اس درجہ شدید صبر آزما تھیں کہ انہیں سن کر حیرت ہوتی ہے....۔۔۔

کثرت مجاہدہ اور فاقوں سے آپ کی طبیعت میں بہت ہی قہر و جلال پیدا کر دیا تھا۔ایک دن حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ نے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کوآپ رحمتہ اللہ علیہ کی بیٹی سے علائوالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی شادی کی بات کی توبا با فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ علائوالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کو شادی اور بیوی کا ہوش نہیں ہے لیکن بہن نہیں مانیں اور بھائی سے رشتے پر اصرار کرتی رہیں آخر با با فرید رحمتہ اللہ علیہ نے بہن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی بیٹی خدیجہ بیگم کے ساتھ حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کا نکاح پڑھا دیا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دلہن کو اپنے حجرہ میں دیکھا تودریافت کیاتم کون ہو۔خدیجہ بیگم نے جواب دیا آپ کی بیوی ہوں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جب ہم خدا کے ہو چکے تو پھر ہمیں غیر کی کیا ضرورت رہی اور جب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ان پر نظر ڈالی تو دلہن کے جسم میں آگ لگ گئی صبح کو ماں آئی تو بہو کو راکھ دیکھ کر غصے میں کہا کہ میں تمھارے ماموں کو کیا جواب دونگی انہیں بھی فورا بخار آگیا اور کچھ روز بعد وصال فرماگئیں۔اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ جو حجرے میں داخل ہوئے تو پورے نو سال اندر ہی رہے اور باہر نہیں نکلے نہ کچھ کھا یا پیا نو برس کے بعد حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرؒ رحمتہ اللہ علیہ جب حضرت مخدوم رحمتہ اللہ علیہ کے حجرے میں صبح کے وقت گئے تو دیکھا کہ آپ استغراق کے عالم میں بے حس و حرکت بیٹھے ہیں آپ کے کان میں سات مرتبہ الا اللہ بلندآواز سے کہا توہوش میں آ گئے اور مرشد کو سامنے دیکھ کر قدم چومے اور آداب بجا لائے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرؒ رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو با ہر لا کر خرقہ خلافت عطا کیا اور سند لکھی اور اسم اعظم کی تعلیم دی۔حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دہلی کے لئے متعین کیا اور فر ما یا پہلے ہانسی جا کر اپنے بھائی جمال سے اس پر مہر ثبت کرا لینا جب آپ رحمتہ اللہ علیہ سند لے کر ہانسی پہنچے تو حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت محبت اور احترام سے آپ کی مہمان نوازی فرمائی اور پیر روشن ضمیر با با فرید الدین مسعودگنج شکررحمتہ اللہ علیہ کے حالات صحت اور معلومات کی متعلق گفتگو کرتے رہے اسی دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے دہلی کی خلافت کے لئے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکررحمتہ اللہ علیہ کی سند خلافت حضرت جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کو پیش کی اور فر ما یا کہ آپ اس پر مہر ثبت کر دیجئے اسی وقت چراغ گل ہو گیا تو جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ نے فر ما یا بھائی چراغ گل ہو گیا ہے۔ صبح مہر ثبت کردونگا لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں دوسرا چراغ منگوا کر اسی وقت مہر لگا دیجئے جمال الدین ہانسوی نے دوسرا چراغ منگوایا ابھی آپ مہر لگوانا ہی چاہتے تھے کہ دوسرا چراغ بھی گل ہو گیا اب آپ صبح مہر لگوا لینا۔اسی وقت حضرت علاؤالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی انگلی پر دم کیا تو انگلی روشن ہو گئی آپ نے جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا اب آپ مہر ثبت کر دیجئے حضرت جمال الدین ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ رنگ دیکھاتو حضرت علاؤالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی سند چاک کر دی اور فرمایا تمہارے دم مارنے کی تاب دہلی میں کہاں تم تو ایک دم مارتے ہی دہلی کو جلا کر خاک کر دو گے۔ جواباً حضرت مخدوم علاؤالدین صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے حالت جلال میں فرمایا کہ آپ نے میری سند خلافت چاک کی ہے میں نے آپ کا سلسلہ چاک کردیا اور اجودھن جا کر حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکررحمتہ اللہ علیہ کو ساری تفصیل گوش گزار کی۔حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے دوسری سند لکھ کر فرمایا میں کلیر شریف کاعلاقہ تمہارے سپرد کرتا ہوں وہاں تکبرو غرور اور گمراہی کا ایک طوفان عظیم برپا ہے وہاں پہنچ کر خلق خدا کو ہدایت کرو اور اسلام کو تقویت پہنچائو کلیر اس عہد میں عظیم الشان با رونق شہر تھا امیر کلیر نے آپ کو شاہ ولایت تسلیم کر لیا مگر قاضی شہر نے ورغلایا کہ یہ جادو گر ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سن کر فرمایا اس طرح آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس فقیر عاصی کے حق میں تازہ ہو ئی ہے یہ فرما کر وہاں سے واپس چلے آئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو خط ارسال کیا یہاں تو میں اطمینان قلب نماز اول کے ثواب سے بھی محروم ہو گیا ہوں حضرت با با فرید الدین رحمتہ اللہ علیہ نے صبر کی تلقین فرمائی لیکن علماء و امراء کے غرور و تکبر کاوہی حال رہا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مرشدحق کو خط بھیجا حضرت با با فرید رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو لکھا کہ شہر کلیر تمہاری بکری ہے تمھیں اختیار ہے خواہ اس کا دودھ پیو یا اس کا گوشت کھائو یہ جواب پا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں گئے امراء شہر نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو مسجد سے نکال دیا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے غضب ناک ہو کر فرما یا ظالمو تم اللہ کے گھر میں بھی امتیازات پیدا کرتے ہو اور یہاں بھی بندہ بن کر نہیں آتے ہو لیکن کسی نے پرواہ نہیں کی آخر امام نے جب خطبہ ختم کیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جلا ل میں آ کر مسجد کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ اب تو بھی سجدہ کر لے یہ فرماتے ہی عظیم الشان مسجد فورا ہی زمین بوس ہو گئی اہل کلیر گھبرائے ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا میں تو اللہ سے ویرانی کلیر کی دعا مانگ چکا ہوں اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔بہت سے افراد تو جامع مسجد میں دب کر ہلاک ہو گئے اس کے بعد شہر میں طاعون پھیل گیا جس نے تمام شہر کو ویران کر دیا ہزاروں مر گئے اور جو بچے وہ جنگلوں اور پہاڑوں پر بھاگ گئے آپ نور العارفین حضرت با با فرید مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین تھے اور صابری سلسلہ آپ ہی سے جاری ہے حضرت شیخ علاؤالدین علی احمد صابر رحمتہ اللہ علیہ کو سماع کا بہت ذوق تھا اور وہ اکثر سے سنا کر تے تھے یہاں تک کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کاوصال بھی عین حالت سماع ہی میں ہوا آپ میں جذبہ الہی حد سے زیادہ تھا زبان مبارک سے جو بھی نکل جاتا وہ پورا ہو جاتا دنیا اور دنیا والوں سے انہیں کوئی غرض نہ تھی ان سے وہ دور بھاگتے تھے اور ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے مریدوں میں سے ایک شخص حضرت علائوالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بو لا کہ آپ نے حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ کس کو اپنا مرید اور خلیفہ نہیں بنا یا اور میرے پیر و مرشد حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے آسمان پر ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنے مرید بنائے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ میرا شمس (رحمتہ اللہ علیہ) ہی کافی ہے جو اللہ کے فضل سے سارے ستاروں پر غالب ہے وہ شخص خاموش رہا اور دہلی آ کر اس نے حضرت شیخ المشائخ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ واقعہ بیان کیاحضرت شیخ المشائخ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تم نے حضرت (رحمتہ اللہ علیہ )کو کیوں رنجیدہ کیا آئندہ ایسی حرکت نہیں ہونی چاہئے بے شک انہوں نے جو کچھ فرمایا صحیح ہے وہ مقرب بارگاہ ربانی ہیں۔حضرت علائوالدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ ربیع الاول ۶۶۴ہجری کوعین حالت سماع اور وجد میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آخری قیام گاہ کلیر شریف میں ہے۔

متعلقہ خبریں