امی مجھ سے پیار نہیں کرتی تھیں۔۔۔ ایک بیٹی کی ماں کے لیے لکھی گئی تحریر جو آپ کے آنکھیں نم کر دے

2019 ,ستمبر 21



مجھے ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی...کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد،اور جیت پھر بھائی کی...تب میں ناراض ہوتی تو اماں مجھے ہمیشہ یہی کہتیں تھیں
"بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں"
اس وقت میں سوچتی تھی کبھی اچھی بیٹی نہیں بنوں گی،بات نہیں مانوں گی،بہت ضد اور بد تمیزی کروں گی...
اور ایسا ہی ہوا میں وقت کے ساتھ بہت خودسر،ضدی،ڈھیٹ ہو گئی تھی کسی کی نہیں سنتی....اماں میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں
"اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نیچے بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں
پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی"
وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتیں تھیں میں ان سے کہتی آپ کیوں پڑھاتی ہیں؟یہ لوگ اپنی اماں کے پاس کیوں نہیں پڑھتیں ؟
تو کہتیں!
"میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی"
میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے؟
مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی
آپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہے؟اور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں؟
تو کہتیں
" الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا"
مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا میں ان سے کہتی تھی جواب کیوں نہیں دیتیں آپ لوگوں کو؟؟
اور وہ بہت تحمل سے کہتیں
"جاہلوں کی باتوں کا بہترین جواب خاموشی ہے"
تب میں بس یہ سوچتی رہتی کہ
"خموشی میں جواب کہاں ہوتا ہے"
یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر محلے کے بچوں کو کھلاتیں تھیں اس پر بھی میرا ان سے جھگڑا ہوتا تھا کہ اتنے بچوں کو گھر بولا لیتیں ہیں ہنگامہ مچ جاتا ہے انکے گھروں میں بھجوا دیا کریں نہ....
تو بہت پیار سے کہتیں
"یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھول،اس لیے انہیں کھلاتی ہوں"
وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی،ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں
اور پھر وہ بیمار ہو گئیں معلوم پڑا انھیں کینسر ہے
لاسٹ اسٹیج...........
اماں بہت کمزور ہو گئیں تھیں انکو کھلانا،پلانا،پٹی کرنا،کپڑے بدلنا سب کام کر کے جب ایک دن فارغ ہوئی تو انکو دیکھا انکی آنکھوں میں آنسو تھے
میں نے پوچھا کیا ہوا؟
تو کہتی ہیں
"شکر ادا کر رہی ہوں رب کا،،کہ بیٹی دی
اگر بیٹی نہ ہوتی تو کون سنبھلتا مجھے"
مجھے لگا میری ساری بچپن کی شکایتیں ختم ہو گئی ہوں اماں کو محبت تھی مجھ سے...
یہ محبت ہی تو تھی کہ رات بھائی کو لے کر سوتی تھیں پر صبح وہ میرے پاس سے اٹھتیں...یہ بھی تو محبت ہی تھی نا کہ بھائی کو پہلے
کھانا کھلانے کے بعد وہ پلیٹ اٹھائے میرے پیچھے پیچھے پھرتیں،نخرے اٹھاتیں میرے....
جب ابا کہتے
"رابی سے کام کروا لیا کرو تھک جاتی ہو اب"
تو کہتیں
" نہیں میری بیٹی کے ہاتھ خراب ہو جائیں گے"
یہ بھی تو محبت ہی تھی نا.....
اور پھر وہ چلی گئیں ہمیشہ کے لیے...)
انہیں سب سے زیادہ میری فکر تھی کہتیں تھیں "مجھے نیچے بیٹھنا نہیں آتا میں پتہ نہیں کیسے چلوں گی لوگوں کے ساتھ"
وہ سہی کہتیں تھیں پر
"اب وہ پارہ ختم،اب میں ہر کسی کی سن لیتی ہوں،نیچے بیٹھنا سیکھ لیا ہے میں نے اب میں لوگوں کو جواب نہیں دیتی سمجھ گئی خاموشی بہترین جواب ہے"
آپکے جانے کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئی مجھ میں...
میں جیسے پہلے ہنستی تھی اب بھی ویسے ہی ہنستی ہوں... بس اتنا ہوا ہے
"پہلے میں ہنستی تھی کیوں کے میں خوش تھی اب میں ہنستی ہوں کہ لوگ سمجھیں میں کتنی خوش ہوں"
"پہلے میں روتی تھی آپ مجھے اپنی گود میں لے لیتیں تھیں اب میں روتی ہوں تو میں تکیہ میں منہ چھپاتی ہوں"
"پہلے جب اسکول سے گھر آتی تھی آپ مجھے دروازے پے ملتی تھیں،اب دروازہ بند ملتا ہے"،،،

"پہلے آپ پانی، کھانا دیتیں تھیں اب میں خود بناتی ہوں"،

اب آپ کی بیٹی کے ہاتھ بھی خراب نہیں ہوتے،

اب سردی میں کپڑے دھو کے نکلنے پر کوئی میرے لیے چائے بنا کے نہیں رکھتا،

کوئی مجھے زبردستی انڈا بوائل کر کے نہیں کھلاتا
کوئی نہیں کہتا "ٹھنڈ ہے سن لے ماں کی بات کھا لے بیمار پر جاۓ گی "
"کوئی نہیں دودھ کا گلاس لیے میرے پیچھے پھرتا،کوئی نہیں کہتا ایسے دودھ نہیں پینا تو جام شیریں ڈال کے لا دیتی ہوں"
بس کچھ بھی تو نہیں بدلہ آپکے بعد کچھ بھی نہیں....
سانس ویسے ہی چلتی ہے
کھانا،پینا سب ویسا ہے
ہنسنا،بولنا بھی ویسا ہی ہے....
اور آپکی نند کہتی ہیں
"اس کڑی نوں کوئی دکھ نہیں ماں دا"
آپکو پتہ ہے نہ مجھے کتنا برا لگتا تھا کوئی مجھ پے ترس کھائے
مجھے اب بھی برا لگتا ہے اس لیے کسی کے سامنے نہیں روتی میں...
کسی کی فضول باتوں کا جواب بھی نہیں دیتی...
اپنے کہا تھا نہ
"جاہلوں کی باتوں کا بہترین جواب خاموشی ہے"

متعلقہ خبریں