آج کے دور کی محبت

2017 ,اکتوبر 26

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



محبت میں نکامی بہاولپور کے شائن سٹار ہوٹل کمرہ نمبر 504 میں خودکشی۔۔لڑکے نے لڑکی کو پہلے فائر مارا بعد میں خود کو مار لیا۔۔ 

سچ کیاہے اللہ بہتر جانتا ہے ۔جو بھی ہوا غلط ہوا۔ہم اپنی خواہشات کے پیچھے اندھے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

محبت، محبت، محبت ۔۔۔

جہاں دیکھیں ہم اسی کا رونا ہے ۔کوئی ڈرامہ ایسا نہیں جہاں لڑکی لڑکے کے مابین بنا کسی جائز تعلق کے اس رشتے کو صحیح نہ دکھایا جارہا ہو۔ اور محبت نہ ملے تو کسی نہ کسی کو خود کشی کروا دیتے ہیں۔پھر محبت کا جھنڈا گاڑھ دیتے ہیں کہ "
واہ کیا محبت تھی یہ ہوتی ہے محبت کہ ملوں نہیں تومرجاؤ۔"

اللہ کے بندوں ہم گناہگاروں کو اور خرافات میں نہ ڈالو۔ نسلیں برباد ہورہی ہیں .
گنتی کے چند اچھے مصنف ہیں جو ایسی بےحیائی کے خلاف لکھتے ہیں باقی سب کے سب اس احساس کو رکھنے والوں کے استاد بنے بیٹھے ہیں ۔مظلومیت کی سب سے قابلِ ترس سطح پر دو پیار کرنے والے نامحرم کو رکھ کر نوجوانوں کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ کیا ہوا اگر انہوں نے محبت کر لی ۔
کوئی گناہ تو نہیں کیا ۔مگر یہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے کہ اس محبت کے نام پر کتنے گناہ ہورہے ہیں؟ 
یہ محبت جو کچھ ہی دنوں کی ملاقات و گفتگو کے بعد ہمارے سر پر چڑھ کر ناچتی ہے یہ اس طوائف کی طرح بن جاتی ہے جو مجبوری میں ہی سہی اپنا جسم نوچنے کےلئے زیورات میں سجا کر خریدار کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔

نکاح سے پہلے کی آج کی محبت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ مجبور ،بے بس طوائف کی مانند۔ 
جسکے کرنے والوں کو اور کوئی راستہ نہیں ملتا تو حرام موت کے اس کنوئیں میں کود پٍڑتے ہیں جسکی گہرائی دنیا کی ہرگہری چیز سے گہری ہے جسکا اندھیرا دنیا کی ہر اندھیری چیز سے زیادہ ہے۔
مگر ان سب باتوں کا آج کے عاشقوں کو کب اندازه ہے ۔

آج کے فتنے کے دور میں ایسی محبت جو دو نامحرم کے درمیان ہو، دوطرفہ بھی ہو اور پھر پاکیزہ بھی ہو ۔ تقریباً تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

اور اگر کسی کے درمیان ہو بھی تو پاکیزہ محبت کی اتنی مجال کہ اللہ کے حکم سے ٹکرائے اور حرام موت مر جائے ؟

پاکیزہ محبت ہے تو اللہ ناراض کیسے ہوسکتا ہے؟
پاکیزہ محبت ہو تو وہ کائنات کا ذرہ ذرہ تمھیں ملوانے میں لگا سکتا ہے ۔ جومحبتیں اللہ دلوں میں ڈالتا ہے وہ کسی کا نقصان نہیں کرتیں نہ مال کا نہ جان کا نہ عزت کا۔
اور اللہ کیسے کسی پاکیزہ رشتہ رکھنے والے کو حرام موت مرنے دے سکتا ہے؟ 
وہ تو بہت پیار کرتا ہے اپنے بندوں سے ۔

تمام محبتوں پر جو غالب آتی ہے وہ اللہ کی محبت ہے اور اللہ کی نافرمانی اسی وقت کرتا ہے۔
انسان جب اللہ سے زیادہ کسی سے محبت کرنے لگتا ہے ۔سننے میں کتنا برا لگتا ہے نا کہ استغفراللہ بھلا کوئی اللہ سے زیادہ بھی کسی سے محبت کر سکتا ہے ۔

چلیں آئیں ذرا عملی طور پر بھی جائزہ لے لیتے ہیں ۔
اگر آپ کو کسی سے محبت ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکیزہ ہے تو پہلے پاکیزہ محبت کا مفہوم سمجھ لیں۔

"پاکیزہ محبت وہ احساس ہے جس کی وجہ سے آپ کسی کے ساتھ دل سے خوشی سے خواہش سے نکاح کے پاک بندھن میں بندھنا چاہیں مگر کوئی ایسا رابطہ نہ رکھیں کہ شیطان درمیان آجائے اور کوئی ایسا عمل نہ ہو آپ سے کہ جسمیں اللہ کے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی ہو "

اگر ایسا ہے تو اسے میں "پاکیزہ احساس" مقدس خواہش "جائز تمنا " جیسے ناموں کے علاوہ آج کے دور کی زبان میں پاکیزہ محبت کہوں گی۔

ہمارے دو اہم مسئلے قابل غور ہیں
1- ہم دین کی مرضی پر نہیں چل رہے۔
( بچوں کی مرضی کے خلاف شادی۔ انکی پسند بتانے پر بجائے نکاح کرانے کے صاف انکار کر دینا )

2- ہم دین کو اپنی مرضی پر چلارہے ہیں۔
(محبت کرنا کوئی گناہ نہیں ہمارا حق ہے پسند کی شادی کرنا ماں روٹھے پھر چاہے باپ کی رسوائی ہو ۔پیار مِحبت میں تو سب جائز ہے)

بندہ پوچھے کہاں لکھا ہے قرآن میں لاؤ کوئی تو حدیث دکھاؤ کوئی تو حوالہ دو جہاں سے اس ایک زہریلے جملے کی صداقت کا ثبوت ملے کہ
"پیار میں سب جائز ہے "

کاش اسکی جگہ ہم قرآن کی آیات یاد رکھ لیں۔

حرام موت مایوسی ہے اللہ کی رحمت سے ۔
اداسی ہے کفر ہے ۔حرام موت مر کر جہنم میں ملنا ہے کیا؟

وہاں تو عذاب کی وہ شدت ہوگی کہ جسم پر کپڑے نہ ہونگے مگر کوئی کسی دوسرے کو نہیں دیکھے گا عذاب اتنا دردناک ہوگا کہ دیکھنے کی فرصت نہ ملے گی ۔نہ ہوش ہوگا پھر کیوں مرتے ہیں حرام موت؟ زندگی تکلیف دیتی ہے توجب یہاں تکلیف نہیں سہہ پارہے تم تو سوچو وہاں کی سہہ پاؤ گے؟ قیامت تک کا طویل عرصہ قبر میں رہ پاؤ گے؟. کوئی سامان ہے تیاری ہے؟ حشر کے دن میزان کے پلڑے میں کیا رکھواؤ گے؟ یہ محبت جس میں اندھے ہو کر حرام۔موت کو گلے لگالیا جاتا ہے ۔ساری محبت بس سانس تک ہوتی ہے ساری بےچینی دنیا تک ہوتی ہے قبرمیں دو ساتھ مرنے والوں کو بھی بس اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے ۔

وہ محبت ہی کیا جو محبوب جو جہنم کی آگ سے نہ بچائے ۔یہ کونسی محبت ہے جو اللہ کے بندوں کو جہنم کا ایندھن بنا رہی ہے ۔

تم کہتے ہو اللہ سے سب سے ذیادہ محبت ہے۔
مگر یہ کیسی محبت ہے کہ وہ پانچ بار بلاتا ہے تم نہیں جاتے ۔۔جاتے ہو تو سستی سے ۔ نہ جانے کی خوشی نظر آتی ہے ۔۔نہ خوشی کے آنسو. 
۔محبت ہے نا اللہ سے؟
وہ بھی سب سے زیادہ؟ 
تو جس سے محبت ہو اس سے تو خوب باتیں کی جاتی ہیں۔
آدھی آدھی رات کو جب سب سوجاتے ہیں
وہ تم سے ملاقات کا منتظر صدائیں لگاتا ہے ۔۔
تم کرتے ہو بات؟ 
اور کیا روتے ہو مل کر؟ 
جیسے محبوب سے مل کر رویا جاتا ہے ۔
اور روتے ہو تو کس کے لئے ؟
اس کے لئے یا اپنے کسیی ایسے انسان کے لئے جس کی تمھیں تمنا ہے؟

اور کتنی باتیں مانتے ہو اسکی؟ 
کوئی آپکو برتھ ڈے گفٹ دے آپ اس کا شکریہ نہ ادا کرو تعریف نہ کرو تو محبوب کتنا خفا ہوتا ہے. 
اللہ نے اتنی نعمتیں دیں بدلے میں کتنا شکر کیا،؟

اسکے کسی بندے کے لئے خود کو مار کر کیا ثابت نہیں کرتا مرنے والا کہ وہ اللہ سے زیادہ ایک نامحرم سے محبت کرتا تھا؟

اللہ ہمیں معاف کرے ۔ حرام موت وہ گناہ ہے جسکے بعد معافی اور توبہ کا بھی وقت نہیں رہتا ۔کوئی راستہ نہیں بچتا اللہ تک رسائی کا۔
یہ وہ راستہ ہے جسکی منزل جہنم ہے۔ کیوں مایوس ہوتے ہو اللہ سے ۔
جب ہر طرح سے ٹوٹ جاؤ اللہ کی باتیں اپنی زبان سے ادا کرو اُٹھا لو قرآن وہ کہتا ہے

" خدا کسی کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا"

وہ قرآن میں فرمارہا ہے

"( گھبراؤ نہیں) خدا کی مدد یقیناً بہت قریب ہے "

"وہ تو شہہ رگ سے بھی ذیادہ قریب ہے"

پھر کیوں نہیں جاتے تم اسکی طرف ۔پہلا قدم شرط ہے اور یہی وہ قدم ہے جو ہدایت کے دروازے سے نکلنے والے بے شمار ان دروازوں کو کھولتا ہے جسکے انگنت رستے تمھارے قدموں سے جا ملتے ہیں بس اس پر چلنے نہ چلنے کا اختیار پھر تمھارے پاس ہوتا ہے۔

اللہ مرنے والوں کی مغفرت فرمائے اور ہم سب گناہگاروں کو ہدایت دے 
آمین۔

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں