"تمہیں پتہ ہے محبت میں یقین کتنا ضروری ہے؟ "

2019 ,اکتوبر 9



"تمہیں پتہ ہے محبت میں یقین کتنا ضروری ہے؟ "

اندر سے یا باہر سے جانے کہاں سے آواز ابھری تھی.. جوابا کچھ بھی کہے بنا وہ خاموشی سے ساکت جھیل میں گاہے بگاہے بارش کے گرتے چند قطروں .. ہلکے لرزاں کبھی ٹھہرے ہوئے پانی میں .. چاند کے جھلمل کرتے عکس میں آسمان سے رب کے کن سے فیکون ہوتے .. سجدہ کرتےبارش کے قطروں کو جھیل کی پیشانی میں اپنے بوسے کا لمس دان کرتی بارش کو تکتی رہی .. اسی خامشی سے پانی کو پانی میں ضم ہوتا .. دوئ کو یکجا ہوتا .. پانی کو دائرے بناتا دیکھتی رہی .. پھر جیسے وہی آواز آہستگی سے گویا ہوئ ...

" یقین .. جیسے زندگی کو روح کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی محبت کو یقین کی ضرورت ہوتی ہے .. اسکے بنا محبت .. محبت نہیں .. انا کا ایسا لاشہ ہے .. جسے نہ دفن کیا جا سکتا ہے .. اور نہ ہی جسکا بوجھ سہا جاتا ہے .... جو محبت کی راہ میں یقین کی راہ پر چلتا ہے اسکے لئیے آگ گلزار کر دی جاتی ہے .. اور جو وسوسوں میں بہک جاتا ہے اسکے قدموں سے مخملیں زمیں بھی خارزار کر دی جاتی ہے.."

وہ اس سرگوشی پر حیران ہوئ تھی..چونک کر دیکھا .. وہ تو چاند بارش جھیل خنک ہوا خاموش رات کے ساتھ اکیلی تھی..یہ روح کے دریچے وا کرتی کس کی صدا تھی ..

" اسی لئیے اللہ نے فرمایا بھروسہ کرنے والے تو اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں..!"

آس پاس کوئ نہیں تھا .. وہ اکیلی تھی .. سرگوشی اب کسی تحفے کی صورت اسکی روح میں اپنا ایقان اتار رہی تھی.. وہ لب بستہ ساکت بیٹھی اپنے ہونے سے نہ ہونے اس صدا میں اپنا آپ سمونے کے سفر سے گزر رہی تھی..

"یقین نتیجے سے اخذ نہیں ہوتا .. یقین تو آزمائشوں میں سنورتا ہے .. مشکلوں میں نکھرتا ہے .. اندھیروں میں جھلملاتا ہے .. یقین وجود نہیں .. یقین تو روح کی زندگی ہے .. یقین ہی تو آنسو میں مسکان اور اندھیروں میں روشنی بنتا ہے .. یقین ہی تو مایوسی کو امید دیتا ہے .. تمہیں اس سفر میں خود یقین ہونا ہے..!
کہ "بھروسہ کرنے والے" تو محبت پر ہی بھروسہ کرتے ہیں.. اور تم بھول گئیں .. "اللہ بھروسہ کرنے توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے..!"

تو کیا تم اللہ کے لئیے بھروسہ نہیں کرو گی..؟ ایک لمحہ لگا تھا .. اسکے دل نے محبت کے تیقن کو روح میں اتار لیا تھا .. اسے زندہ ہونا تھا .. وہ زندہ کر دی گئی تھی..!

متعلقہ خبریں