لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

2017 ,جولائی 29



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): لگتا ہے مشرف ’’جھیت‘‘ سے سپریم کورٹ کی سماعت کارروائی اور فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔ ابھی وزیراعظم ہائوس میں اس فیصلے پر اشک رواں تھے کہ مشرف نے پاکستان واپس آنے کا اعلان کردیا۔ تاہم یقین دلایا کہ وہ پاکستان کی سیاست میں کوئی منفی کردار ادا نہیں کرنے آرہے تو پھر عالی جاہ کیاکرنے آرہے ہیں۔ پہلے بھی ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا ‘‘کے مترادف جال میں پھنس چکے ہیں۔ آپ مشرف بہ جیل ہوتے تاہم جمہو ری حکومت کی دم پر بوٹ پڑا تو چک شہزاد میں آپ کے محل کو جیل قرار دے دیا گیا مگر ہر بار شاید ایسا ہونا ممکن نہ ہو۔ اب ایک طاقتور خاندان کے ساتھ جو کچھ انصاف کے ادارے کر رہے ہیں بادی النظر میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ذرا دھیرے دھیرے سوچ کر سمجھ کر پاکستان واپس آئیں۔ آپ کے آنے سے سیاست میں ہلچل نہیں مچ سکتی ‘ کیا طوفان مچے گا‘ کنکر پھینکنے سے تالاب میں طغیانی نہیں آجاتی، ایک درخت کے ہلنے سے گلشن میں طوفان برپا نہیں ہوتا تاہم جیل یاترا سے انگ انگ دُکھتا ہے‘ چُک پڑ جاتی ہے پھر بیرون ملک علاج کی دہائی دی جاتی ہے۔ بیماریاں بھی ایسی جو ’’ڈانس تھراپی‘‘ مساج رقص سے دور ہوتی ہیں۔

چودھری نثار کو بھی چُک پڑی تھی ان سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا کہتے ہیں کہ بیٹھ جائوں تو اٹھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ وزیر داخلہ ہیں مشرف کے بھاگ جانے میں ان کا بھی ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ کچھ ناہنجار کہتے ہیں چودھری صاحب کو سیاسی چُک پڑتی ہے تاہم چودھری صاحب بعض معاملوں میں ’’پھٹے چُک‘‘ دینے کی بھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی پریس کانفرنس سے لگتا ہے ان کو بھنک پڑگئی تھی کہ کل کس کے ’’پھٹے چُکے‘‘ جائینگے۔ مشرف آتے ہیں تو دیکھیں وزارت داخلہ ان کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ چودھری نثار وزیر داخلہ ہوئے اور چُک بھی چمٹی رہی تو خطرہ بھانپ کر ان کے اٹھنے سے قبل ہی مشرف واپسی کی راہ نہ لے لیں۔

مشرف کے انکشاف نے چونکا دیا ہے۔ جاپانی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں‘ 2001ء میں بھارت کیخلاف ایٹمی حملے پر غور کیا‘ کئی راتیں جاگ کر گزاریں‘ خود سے سوال پوچھتا رہا۔ مشرف آج بتا رہے ہیں‘ وہ بھی اپنی نہیں‘ جاپانی قوم کو کہ انہوں2001ء میں بھارت کیخلاف ایٹمی حملے پر غور کیا تھا۔ کاش وہ اپنے اس فیصلے پر عمل بھی کرلیتے تو آج پاکستان کو بدترین دہشت گردی کا سامنا ہوتا نہ بچے کچے بھارت کو پاکستان کیخلاف سازشیں کرنے کی جرأت ہوتی۔ وہ 2001ء میں کئی راتیں جاگ کر بھارت کیخلاف ایٹمی حملے کے حوالے سے خود سے تو سوال پوچھتے رہے کہ حملہ کروں یا نہ کروں‘ انکے دور حکومت میں جب بھارت لائن آف کنٹرول پر باڑ لگا رہا تھا‘ اس وقت بھی یہ حضرت خاموش تھے‘ شاید خود سے یہ سوال پوچھ رہے ہوں کہ اسے روکوں یا نہ روکوں۔ البتہ امریکہ کے ایک سوال ’’تم ہمارے ساتھ ہو یا دہشت گردوں کے‘‘ کا ایسا جواب دیا جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ وہ اپنی نہ سہی‘ جاپانی قوم سے ہی اظہار افسوس کرلیں کہ وہ اپنے اس فیصلے پر پاکستانی قوم سے شرمندہ ہیں۔وہ قوم کو دہشت گردی کے جس دلدل میں وہ دھکیل گئے ہیں‘ اس بارے میں آج تک انکے ضمیر میں یہ سوال نہیں جاگا کہ انہوں نے پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ کیا کیا؟ بہرحال وہ نام کے ایسے مشرف نہیں جس پر قوم کو فخر ہو‘ یہ انہی کو شرف حاصل ہے کہ پاکستان آج اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اسے بدترین دہشتگردی کا سامنا ہے۔ بہرحال اس معاملہ میں وہ واقعی ’’مشرف‘‘ ہیں۔

متعلقہ خبریں