جنرل راحیل نے مدد کی۔۔۔مدد نہیں کی۔۔۔جنرل مشرف کنفیوژ یا جھوٹ بول رہے ہیں؟ قوم مخمصے میں
تحریر: فضل حسین اعوان
| شائع دسمبر 26, 2016 | 17:27 شام

لاہور(مانیٹرنگ)
چند روز قبل اپنے ایک انٹرویو کے ذریعے سرخریوں کا حصہ بننے والے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک جانے کے لیے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے کبھی مدد کی درخواست نہیں کی۔ انہوں نے یہ بات ’چینل 92‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’بیرون ملک جانے کے لیے کسی نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے کسی سے رابطہ کیا، راحیل شریف نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی میں نے ان سے کوئی درخواست کی، جبکہ دنیا نیوز
سے ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔‘ مقامی سیاست میں فوجی اثر و رسوخ کے حوالے سے سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں تمام ادارے مل کر کام کرتے ہیں۔‘ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بیان کا حوالے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی واپسی کے حوالے سے ابھی کوئی وقت نہیں دے سکتے اور نہ ہی عدالتی حکم میں ان کی وطن واپسی سے متعلق کوئی حکم موجود ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نجی چینل ’دنیا نیوز‘ کے پروگرام ’ٹونائٹ وِد کامران شاہد‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان کی ’مدد‘ کی اور عدالتوں پر موجود دباؤ ختم کرنے کے لیے حکومت سے معاہدہ کیا، جس کے بعد انہیں بیرون ملک جانے دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان کا باس رہا ہوں اور میں آرمی چیف بھی رہا ہوں، تو انھوں نے میری مدد کی۔‘ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف (حکومت کی جانب سے) سیاسی کیسز بنائے گئے تھے، جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف رواں برس 18 مارچ کو ای سی ایل سے نام نکالے جانے کے بعد بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے، ان کا نام 5 اپریل 2013 کو وزارت داخلہ نے ای سی ایل میں ڈالا تھا۔ جنرل مشرف نے بیرون ملک روانگی کے وقت کہا تھا کہ 'میں ایک کمانڈو ہوں اور مجھے اپنے وطن سے پیار ہے، میں کچھ ہفتوں یا مہینوں میں واپس آ جاؤں گا۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ واپس پاکستان آ کر تمام مقدمات کا سامنا کرنے کے علاوہ سیاست میں متحرک کردار بھی ادا کریں گے۔