پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیارا گھرانہ

2019 ,اکتوبر 16



ایک دفعہ قبیلہ بنو سُلَیم کا ایک بوڑھا ضعیف آدمی مسلمان ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کے ضروری احکام و مسائل بتائے اور پھر اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کچھ مال بھی ہے ...؟

اس نے کہا :
" خدا کی قسم بنی سُلَیم کے تین ہزار آدمیوں میں سب سے زیادہ غریب اور فقیر میں ہی ہوں ... "

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا :
" تم میں سے کون اس مسکین کی مدد کرے گا ... ؟ "

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا :
" یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ! میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو میں اس کو دیتا ہوں ... "

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا :
" تم میں سے کون ہے جو اب اس کا سر ڈھانک دے ... "
سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اٹھے اور اپنا عمامہ اتار کر اس اعرابی کے سر پر رکھ دیا ...

پھر حضور نے فرمایا :
" کون ہے جو اس کی خوراک کا بندوبست کرئے ...؟ "
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اعرابی کو ساتھ لیا اور اس کی خوراک کا انتظام کرنے نکلے۔ چند گھروں سے دریافت کیا لیکن وہاں سے کچھ نہ ملا۔ پھر حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
" پوچھا کون ہے ... "

انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا اور التجا کی کہ :
" اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اس مسکین کی خوراک کا بندوبست کیجیے ... "

سیدہ عَالَم نے آبدیدہ ہو کر فرمایا :
" اے سلمان رضی اللہ عنہ خدا کی قسم آج ہم سب کو تیسرا فاقہ ہے۔ دونوں بچے بھوکے سوئے ہیں لیکن سائل کوخالی ہاتھ جانے نہ دوں گی۔ جاﺅ یہ میری چادر شمعون یہودی کے پاس لے جاﺅ اور کہو فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) کی یہ چادر رکھ لو اور اس غریب انسان کو تھوڑی سی جنس دے دو ... "

سلمان اعرابی کو ساتھ لے کر یہودی کے پاس پہنچے۔ اس سے تمام کیفیت بیان کی وہ حیران رہ گیا اور پھر پکار اٹھا " اے سلمان! خدا کی قسم یہ وہی لوگ ہیں جن کی خبر توریت میں دی گئی ہے۔ گواہ رہنا کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا ... ! "

اس کے بعد کچھ غلّہ حضرت سلمان کو دیا اور چادر بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دی، وہ لے کر ان کے پاس پہنچے سیدہ نے اپنے ہاتھ سے اناج پیسا اور جلدی سے اعرابی کے لیے روٹی پکا کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو دی۔ انہوں نے کہا :
" اس میں سے کچھ بچوں کے لئے رکھ لیجیے ...! "

جواب دیا :
" سلمان جو چیز خدا کی راہ میں دے چکی، وہ میرے بچوں کے لیے جائز نہیں ...! "

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روٹی لے کر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ نے وہ روٹی اعرابی کو دی اور فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے۔ ان کے سر پر اپنا دستِ شفقت پھیرا، آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی :
" بارِ الٰہا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تیری کنیز ہے ،اس سے راضی رہنا ... "
(تذکارِ صحابیات)

متعلقہ خبریں