دو نفل نماز

2019 ,اکتوبر 26



کھاؤ قسم کے مجھے کبھی نہیں پکارو گی، کوئی رابطہ کوئی تعلق نہیں رکھو گی، چاھے کچھ بھی ہو جائے اب تم پلٹ کر نہیں دیکھو گی ۔۔۔۔۔ 
میں نے اسکا ھاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھتے ہوئے اس سے قسم لینا چاہا ، مگر وہ اپنا ہاتھ میرے سر سے ہٹاتے ہوئے بولی "نہیں میں کوئی قسم نہیں کھاؤں گی، قسم کھا لی تومجبور ہو جاؤں گی اور میں کوئی بھی فیصلہ محض مجبوری کے تحت نہیں کرنا چاہتی ،جب اللہ کے لئے کچھ قربان کیا جاتا ہے تو مجبور ہو کر نہیں بلکہ راضی خوشی اللہ کی راہ میں اپنی عزیز ترین شہ کی ملکیت سے دستبردار ہوا جاتا ہے، ھم بھی ایک دوسرے کو اللہ کی رضا لیے چھوڑ رہے ہیں نہ کہ کسی مجبوری کے تحت ،اس فیصلہ کے لئے قسم نہیں نیک ارادہ کی ضرورت ہے، بس اللہ ھماری اس قربانی کو قبول فرمائے ،" میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے جب وہ مجھ سے مخاطب تھی تب اسکی آنکھوں میں نمی کیساتھ ساتھ اپنے مستحکم ارادہ کی چمک بھی تھی ،
"بیشک اللہ عزیز ترین شہ کی قربانی پسند و قبول فرماتا ہے"
میں نے بھی اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامتے ھوے اسی اعتماد کےساتھ جواب دیا ،،،
چند لمحے مجھے حسرت سے دیکھنے کے بعد اسنے بےچینی کی سی کیفیت میں اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا ، جو زرہ دیر پہلے اسقدر پر اعتماد لہجے میں مخاطب تھی ،اب بچوں کیطرح بلک بلک کر رونے لگی ،،جیسے کےاسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہو ، ا سکے آنسوں میرا شانہ ہی نہیں میری روح تک کو بھگو رہے تھے، اپنے جذبات پر لگے پہروں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے میں نے اسے خود سے الگ کیا ،
"سنو! ھمیں کمزور نہیں پڑنا، تمہی نے تو ابھی کہا کہ یہ قربانی ھمیں خوشی خوشی دینی ہے، "
"مگر میں تمہیں کیسے بھول۔۔۔۔"
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی، میں نے اپنا ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے کہا ،،،،،، "اللہ کو یاد رکھو گی تو مجھے بھول جاؤ گی، بیشک آزمائش آسان نہیں ہوتی، جب بھی میری یاد ستائے تو بجائے ماضی کی بھول بھلیوں میں کھونے کے دو نفل نماز ادا کرنا، تمہیں مستقبل کے تمام راستے صاف دکھائی دینے لگیں گے، بیشک نماز میں ہی سکون ہے۔۔۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد ایک لمبا عرصہ میں اس احساس میں گھلتا رہا کہ کیا خبر وہ پگلی سی لڑکی مجھے بھول بھی پائی ہوگی کے نہیں ، سو کبھی کبھار آنے والے اس خیال کے میں زندگی میں بہت آگے نکل چکا تھا، جب کبھی یاد آتی تو ایک ہلکی سی مسکراہٹ بن کر ہونٹوں پر بکھر جاتی، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج برسوں بعد اسے ایک ادبی محفل میں دیکھا ، پہلے سے کہیں زیادہ پروقار شخصیت کیساتھ وہ مجھ سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی تھی، میرے آگے بڑھ کر پکارنے پر اسنے پلٹ کر دیکھا تو لمحہ بھر کو لگا جیسے برسوں پہلے گزرا زمانہ پلٹ آیا ھو،
"کیسی ہو"
بالکل ٹھیک ،الحمدللہ !
میرے مختصر سے سوال کا جواب اسنے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ مختصر سا دیا،،،
بیشک وہ بہت مطمئین اور خوش دکھائی دے رھی تھی، سو میں نے بھی چند رسمی باتوں کے علاوہ اس سے کچھ ایسا نہیں کہا جو مجھے اور اسے ماضی کی یاد دلاتا، میرے لیے یہی اطمینان کافی تھا کہ وہ مجھے بھلا کر زندگی میں آگے بڑھ چکی تھی ،
محفل اور ماحول کے متعلق کچھ باتیں کرنے کے بعد اسنے اجازت چاہی تو دل میں خیال آیا کہ پوچھوں "کتنی مشکل پیش آئی مجھے بھلانے میں اس پگلی کو جو بچھڑتے وقت بچوں کی طرح رو رو کر پوچھ رہی تھی "بھلا کیسے بھول پاؤں گی تمہیں "
سنو! ایک بات بتاؤ، کیا کبھی میری ،،،،،،،،،،،،،
چلو رہنے دو، بس ہمیشہ ایسے ہی خوش رھو، ،،، میں نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی،
وہ، جو جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ، میری ادھوری بات سن کر دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی جیسے کہ وہ میری مکمل بات سمجھ چکی ھو،
"جنہیں اللہ کی رضا کے لئے چھوڑا جاتا ہے انکی یاد بھی خوشی کا باعث ھوتی ھے،
بیشک آپ اسکی رضا کےلیے اگر ایک خوشی بھی قربان کرتے ھو تو وہ اپنے بندے کی اس ایک خوشی کو ستر سے ضرب دے کر واپس لوٹا دیتا ہے، میری نگاہوں میں بغور جھانکتے ہوئے وہ ایک لمحے کے تواقف سے دوبارہ مخاطب ھوئی، "مگر آج بھی میں پانچ وقت کی نماز کے علاوہ وہ دو نفل نماز بھی باقاعدگی سے ادا کرتی ھوں، "
اپنی بات کے اختتام پر اسکی آنکھوں میں اترتی نمی کو اسنے بہت ہی خوبصورتی سے ہلکی سی مسکراہٹ میں چھپا لیا.

متعلقہ خبریں