فرائض نماز

2019 ,اکتوبر 15



نماز سے پہلے 6 شرائط یعنی طہارت، ستر عورت، قبلہ رو، نیت، وقت اورتکبیرہیں۔ نماز میں 7فرض (1)تکبیر تحریمہ یعنی اللہ اکبرکہنا (2) قیام (3) قرآت (4) رکوع (5) سجود (6) آخری قعدہ اور (7) ارادے سے نکلنا ہیں۔ ساتویں فرض ارادے سے نکلنے پر اختلاف بھی ہے۔ البتہ یہ7 فرض ہر نماز(فرض، واجب، سنت، نفل) میں فرض ہیں اور ’’ فرض‘‘ چُھوٹنے پر نہ نفل نماز ادا ہوتی ہے اور نہ ہر فرض نماز ادا ہوتی ہے۔

1۔ نمازشروع کرتے ہوئے پہلی بار(اللہ اکبر) کہنا نماز میں شرط اور فرض بھی ہے، اس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔نماز شروع کرنے سے پہلے امام بھی اللہ اکبر کہے گا اور عوام بھی کہے گی۔

2۔ نماز ہمیشہ کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں جسے ’’قیام‘‘ کہتے ہیں،بغیر مجبوری کے بیٹھ کر نماز پڑھیں گے تو نماز نہیں ہوتی البتہ ’’نفل ‘‘نماز بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں مگر ثواب کم ہو گا۔ نبی کریمﷺ نے تہجد، اشراق، چاشت وغیرہ کے ’’نفل ‘‘ کبھی بھی بیٹھ کر نہیں پڑھے البتہ عشاء کے آخری دو نفل بیٹھ کر پڑھے ہیں۔

مثال: ایک بندہ گھر میں کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے جائے گا تو تھک کر بیٹھ کر نماز پڑھے گا تواُسے گھرمیں کھڑے ہو کرنماز پڑھنا ضروری ہے۔البتہ بہت سی عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ ایک رکعت کھڑے ہو کر پڑھ لیتی ہیں اور باقی بیٹھ کر پڑھ لیتی ہیں، اس سے مسئلے کے مطابق ان کی نماز نہیں ہوتی۔

* امام رکوع میں تھا تو نمازی اللہ اکبر کہہ کر فوراً رکوع میں چلا جائے تو حدیث کے مطابق رکوع مل جانے پر رکعت مل جائے گی اور اگرگُھٹنوں تک ہاتھ جانے سے پہلے امام اٹھ گیا تو ایک رکعت چُھوٹ گئی ، اُس کو امام کے سلام کے بعد ادا کرے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدہ میں ہو ں تم بھی سجدہ کرو اور اسے شمار نہ کرو اور جس نے رکوع پالیا تو اس نے نماز (رکعت) پالی۔(أبي داود)

3۔ قیام میں قرآن کی ’’تلاوت‘‘ کرنا ضروری ہے جیسے عوام چھوٹی چھوٹی سورتیں ملاتی ہے۔کچھ لوگ نماز میں بھی قرآن پاک پڑھتے ہوئے ہونٹ نہیں ہلاتے بلکہ دل کے اندر پڑھتے ہیں ان کی نمازنہیں ہوتی کیونکہ تلاوت کے وقت میں قرآن پاک اتنی آواز میں پڑھیں کہ خود کو محسوس ہو مگر آپ کے ساتھ والے مسلمان کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

4۔ ہاتھوں کے گُھٹنوں تک پہنچ جانے کو رکوع کہتے ہیں اور رکوع کرنا فرض ہے۔

5۔ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں۔ سجدے میں عوام کی دو بڑی غلطیاں ہیں۔ جس سے سجدہ مکمل نہیں ہوتا (1)سجدے میں پیشانی تو لگا لیتے ہیں لیکن ناک کی ہڈی کو زمین کے ساتھ سختی سے نہیں لگاتے (2)سجدے میں دونوں پاؤں کی ساری انگلیاں زمین پر لگانے کی کوشش نہیں کرتے۔

6۔ قعدہ 2رکعت اور 4رکعت کی نماز میں التحیات(تشہد) کے لئے بیٹھنا۔

7۔ آخری فرض نماز سے نکلنا ہے، اسلئے سلام کرتے ہوئے نکلتے ہیں۔

مریض کی نماز: اگر بیمار تھوڑا سا کھڑا ہو سکتا ہے تو کھڑا ہو کر نمازشروع کرے، پھر بیٹھ جائے کیونکہ قیام فرض ہے۔ اگر بیمار قیام کر سکتا ہے لیکن رکوع اور سجود پورے نہیں کر سکتا تو قیام کرے اور اشارے سے نماز پڑھے یعنی رکوع کے لئے اپنے جسم کو تھوڑا جھکائے اور سجدے کے لئے رکوع سے تھوڑا زیادہ جُھکے ۔اگر کوئی دیوار وغیرہ کے سہارے سے نماز پڑھ سکتا ہے تو لیٹ کرنہیں بلکہ سہارے سے پڑھے۔ بیمار یا حاملہ عورت سجدے میں زیادہ جُھک نہیں سکتی تو آگے کوئی اونچی چیز رکھ کر اس پر سجدہ کرے۔ لیٹ کر نماز پڑھنا صرف اس کے لئے جائز ہے جو بیٹھ کر نماز ادا نہیں کر سکتا۔ ہسپتال میں بیمارکوقبلہ کی طرف بیڈ کرنے سے پریشانی ہو تو جدھر منہ ہو ادھر ہی نماز ادا کرلے۔

مسجد کی کرسی: ہراس بندے کی نماز مسجد کی کرسی پر نہیں ہوتی جو قیام ، رکوع، سجود (فرائض)پورے کر سکتا ہو مگر نماز کے یہ فرض چھوڑ دے، البتہ جو فرض ادا نہیں کر سکتا وہ چھوڑ سکتا ہے۔ ہر نمازی بیماری میں یہ ’’قانون‘‘ کو سامنے رکھ کرنماز پڑھے۔

متعلقہ خبریں