آوارہ منش لوگوں کو وزیر بناکے نواز شریف نے فوج و عدلیہ کیخلاف اعلانِ جنگ کردیا

2017 ,اگست 5



لاہور(فلسینان حریری)نواز شریف نے کابینہ میں عدلیہ اور فوج کے خلاف زہر افشانی کرنے والے لوگوں کو شامل کر کے ان اداروں کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا ہے۔شہباز شریف اور چودھری نثار اس میں جتنی مزاحمت کر سکتے تھے کی مگر ان کی رائے نواز شریف کے لئے صائب نہ ہوسکی۔جبکہ عاصمہ جہانگیر جیسے لوگوں کے مشورے کو میاں نواز شریف نے احسن جانا جو کہہ رہی تھیں نواز شریف لڑیں، سڑکوں پر نکلیں۔جو لوگ میاں صاحب کو پاناما کیس کے فیصلے کے آخری لمحات سے قبل یہ باور کراتے رہے کہ فیصلہ آپ کے حق میں آرہا ہے،کسی میں کیا جرا¿ت کہ منتخب اور دوتہائی اکثریت رکھنے والے وزیرِاعظم کو نااہل قرار دے۔اسی قبیل کے خوشامدی اب میاں صاحب کوطیب اردگان بننے پر اکسا رہے ہیں،جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا مشورہ اسی لئے دیا گیا۔مگر میاں صاحب کے قویٰ مضحمل شدید حبس کے اس موسم میں تین دن کے سفر کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے اس لئے موٹر وے کا آپشن بہتر نظر آیا۔
عاصمہ جہانگیر نے اس ادارے کے خلاف توہین آمیز اور مضحکہ خیز الفاظ استعما ل کئے جس کے باعث وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں اوردولت کی دیوی بھی ان پر سپریم کورٹ کا وکیل ہونے کی وجہ ہی سے مہربان ہوئی اور یہ سب کچھ پاکستان کی مرہون منت ہے۔نواز شریف نے 2013ءکے الیکشن کیلئے انکو نگران وزیراعظم بنانے کی سفارش کی تھی۔ایک کیس میں وزارت سپورٹ کو عاصمہ جہانگیر کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا،وزارت کھیل نے کہا کہ وہ ان کی بھاری فیس ادا نہیں کرسکتی تو وزیراعظم ہاﺅس کی طرف سے کہا گیا،آپ انہیں وکیل کر لیں فیس ہم دینگے۔
طلال چودھری اور دانیال عزیر کی فوج اور سپریم کورٹ کے خلاف بد زبانی سے مطمئن ہوکر ان کو کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔دانیال ڈو مور کہتے کہتے ماضی کی دھول دن گئے۔خواجہ آصف مکمل وزیر خارجہ ہونے پر فوج کا زیادہ مو¿ثر طور پر منہ چڑا سکیں گے۔جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ایک لغو اور تضحیک آمیز بیان دینے پر کابینہ سے فارغ کئے گئے مشاہداللہ کو پھر کابینہ میں بھرتی کرکے فوج کو پیغام دیا گیا ہے کہ جاﺅ جو کرنا ہے کرلو۔اسحٰق ڈار کو وزیر بنا کر سپریم کورٹ کو کیا میسج دیا گیا؟
فوج کچھ بھی غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے اور اقدام اٹھانے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی ،عدلیہ بھی اپنے کام سے کام رکھے ہوئے ہے۔کل تک بے لاگ احتساب کی ہر کوئی بات کرتا تھا اب اگر سپریم کورٹ کے فیصلے سے غرور کا سر چور چور ہواتو بغاوت بغاوت کا واویلا شروع ہوگیا۔سوال کیا جارہا ہے اقامہ کہاں سے آگیا،جہاں سے بھی اگر یہ چھپایا گیا تو کیوں؟۔پراپیگنڈا کیا جاتا ہے اس تنخواہ پر نااہل قرار دیدیا گیا جو جناب نے وصول ہی نہیں کی۔فیصلے میں لکھا ہے کہ تنخواہ میاں صاحب کے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر ہوتی رہی ہے۔میاں صاحب کے ایسے اوربھی اکاﺅنٹ ہونگے جو وہ استعمال نہیں کرتے مگر ان کی تفصیلات گوشواروں اور کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنے کے وہ پابند ہیں جو نہیں کئے تو عدالت کی نظر میں امانت دار نہیں رہے،کچھ لوگوں کی رائے میں جھوٹے اور بے ایمان قرار پائے۔بات اقامہ پر ہی ختم نہیں ہوئی انویسٹی گیشن کیلئے بہت کچھ قمر زمان چودھری کی نیب کو بھیجا گیا ہے مگر اس پر نوازشریف کے جاں نثار قمر اثر انداز نہیں ہوسکیں گے کیونکہ جسٹس اعجازالاحسن اس پر نگران مقرر کئے گئے ہیں اور وہ منگی تحقیقات کو ہیڈ کرینگے جن کے خلاف ان کااپنا محکمہ جے آئی ٹی میں انکی موجودگی کے دوران شوکاز نوٹس جاری کرتا رہا۔
اگر ایک بڑے خاندان کا احتساب ہوجاتا ہے تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ن لیگ کی توپوں کے رُخ عمران خان کی طرف ہیں،عمران خان اور ساتھیوں نے کوئی کرپشن کی ہے تو ان کو بھی احتساب کی پلصراط سے گزارا جائے مگر ن لیگ کے قائدین کے کردار کا شرمناک پہلو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی خصوصی طور پر زرداری کی کرپشن کیخلاف کوئی عدالت گیا نہ ان کی کرپشن کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔کرپشن کا ناسور ملک سے ختم ہونے کی امید نظر آئی تو ہم نے اپنے دلوں میں اسلام سے بھی زیادہ محبت سے سجائے سیاسی شخصیات کے بتوں کی پوجا شروع کردی۔بلا شبہ یہ رویہ میرا چور زندہ باد تیرا چور مردہ باد والا ہے۔
مجھے یوں نظر آتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے کرپشن کے خاتمے کے ایجنڈے کی تکمیل ہورہی ہے۔نواز لیگ ایک ولولہ انگیز فیصلے کو فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ قرار دیتی ہے اگر ایسا ہے تو بھی لوٹ مار کے کھربوں کھربوں ڈالر پاکستان آجائیں تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔یہ بھاری رقوم نواز شریف فیملی ہنڈی کے ذریعے،زرداری لانچوں کے ذریعے اورچودھری برادران سوٹ کیسوں کے ذریعے ملک سے لے گئے۔اگر یہ پیسہ باہر نہ جاتا اور ملک ہی میں سرکولیٹ کرتا اور ملکی وسائل کا حصہ ہوتا تو پٹرول 25روپے لیٹر ہونا تھا،جس کے پاس آج بائیک ہے وہ گاڑی کا مالک ہوتا۔بھارت میں سستی ترین گاڑی ڈیڑھ لاکھ کی ہے،جاپان میں ایسی گاڑیوں کی قیمت ایک لاکھ پاکستانی روپے سے کم ہے جو کتنے ہی پاکستانی افورڈ کر سکتے ہیں۔مگر ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی بھرمار نے ان گاڑیوں کو بائیک والوں کی پہنچ سے دور کررکھا ہے۔اس لوٹ مار کا ہر پاکستان پر منفی اثرپڑا ہے پھر بھی لوٹ مار کرنیوالوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ایسے حمایت کرنیوالوں پر لکھ لعنت ہے۔
اگر ن لیگ کے بقول فوج اور عدلیہ ملے ہوئے ہیں تو پھر مان لیں جنرل راحیل شریف نواز حکومت کو ٹف ٹائم دیتے رہے جبکہ جنرل باجوہ نے محض سات آٹھ ماہ میںخاموشی سے وہ کردکھایاکہ ن لیگ اب زخم سہلا رہی ہے۔یہ بھی ان کا تکبر تھا کہتے تھے جرنیلوں کو بندوقیں صاف کرنے پر لگا دیا۔ٹویٹ پر جنرل باجوہ اور جنرل غفور نے ماعافی مانگ لی ہے۔اب ڈان لیکس کیس رپورٹ بھی کھلتی نظرآتی ہے۔
خواجہ محمد سعد رفیق کے اس سلوگن ”ایک شریف جائیگا دوسرا آجائے گا“ کو ، ن لیگ نے حرز جاں بنا لیا ہے،ہرطرف یہی نعرہ گونج رہا ہے۔ذہنی غلامی اسی کا نام ہے۔ پرویز الٰہی دس مرتبہ مشرف کو وردی میں صدر منتخب کرنے کا ورد کرتے رہے۔شرم اُن کو آئی نہ اِ نکو آرہی ہے۔مریم نواز شریف کے بیانات تکبر کی انتہا ہیں،نواز شریف کو کوئی روک سکتا ہے تو روک لے۔واقعی ایسے طاقتور کو روکنا کسی انسان کے بس میں نہیں مگر اللہ سے بڑا کوئی طاقتور نہیں ہے۔

 

متعلقہ خبریں