سپریم کورٹ کے وہ تین سوالات جن کو سن کر وزیراعظم نے سر پکڑ لیا

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 06, 2016 | 12:57 شام

اسلام آباد(مانیٹنگ) وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومتی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے 3 سوالات اٹھاتے ہوئے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔تحریک انصاف کی جانب سے نعیم بخاری اور و

زیراعظم نواز شریف کی جانب سے سلمان اسلم بٹ پیش ہوئے، اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور پارٹی رہنماؤں سمیت حکومتی وزراء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے 3 سوالات اٹھائے گئے:

وزیراعظم کے بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں؟

زیر کفالت ہونے کا معاملہ کیا ہے ؟

وزیراعظم کی تقریروں میں سچ بتایا گیا ہے یا نہیں؟

اس سے قبل سماعت کے آغاز پر جماعت اسلامی کے وکیل نے ايک بار پھر کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی تھی، جس پر چيف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے تو ضرور کمیشن بنائیں گے، تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔چيف جسٹس نے کہا کہ کہیں کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو عدالت عظمی نے معاملہ ٹیک اَپ کیا۔