ارشد ملک کی طرف سے نواز شریف کو دی جانے والی سزا کی حقیقت کیا ہے جانئے اس خبر میں

2020 ,جولائی 6



 لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو برطرف کیا تو اس پر میاں نواز شریف کے حامیوں اور مخالفین کی طرف سے اپنے اپنے نکتہ نظر کے مطابق ردعمل آنا ایک فطری امر تھا۔۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی زیر صدارت انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک کو برطرف کرنے کی منظوری دی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی زیر صدارت انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے سینئر سات ججز نے شرکت کی تھی۔ان میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی نے بھی شرکت کی۔ ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018ءکو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نوازشریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی اور فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے بعد 6 جولائی 2019ء کو مریم نواز ایک ویڈیو سامنے لائی تھیں جس میں الزام لگایا گیا کہ جج ارشد ملک نے دباﺅ میں آکر یہ سزا سنائی جس کی جج نے تردید کی اور ایک بیان حلفی بھی جاری کیا تھا ۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا اور ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹاکر او ایس ڈی بنایا گیا تھا جب کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔اب جبکہ برطرفی کا فیصلہ آیا جس میں کہا گیا کہ جج کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر ہٹایاگیا ہے جس کا اعتراف انہون نے خود کیا۔
 شہباز شریف نے جج ارشد ملک کی برطرفی کے لاہور ہائیکورٹ کے 7 جج صاحبان کے فیصلے پر اظہار تشکر کیا۔ شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ ”اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوں کہ اس نے ملک و قوم کی مخلصانہ خدمت کرنے والے محمد نوازشریف کی بے گناہی کو ثابت کر دیا۔“ ثابت ہو گیا کہ جج نے انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں دیا تھا اور 3 بار کے منتخب وزیراعظم کو ناحق سزا دی۔ سچائی سامنے آنے پر انصاف کا تقاضا ہے کہ محمد نوازشریف کے خلاف سزا کو ختم کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کا فیصلہ دراصل محمد نوازشریف کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔ پارٹی کارکنوں اور عوام سے اپیل ہے کہ نوازشریف کی بے گناہی ثابت ہونے پر شکرانے کے نوافل ادا کریں۔ مریم نواز نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح جج کو برطرف کیا گیا ہے اسی طرح اس کے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔ مریم نواز نے کہا ہے عدلیہ کے وقار اور انصاف کا تقاضا ہے کہ داغدار جج کے داغدار فیصلوں کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ ارشد ملک کی برطرفی کے فیصلے نے نواز شریف نہیں بلکہ عدل و انصاف کے دامن پر لگا بڑا داغ دھو دیا۔ تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے مقبول ترین سیاستدان کی بے گناہی کا بروقت فیصلہ آ گیا ہے۔ نوازشریف کے چاہنے والے رب کے حضور سجدہ شکر ادا کریں۔ اللہ کا شکر ہے جس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ نواز شریف کا صبر جیت گیا۔ ان کی استقامت جبر پر بھاری رہی۔ آئین و قانون کے احترام کا درس دینا بہت آسان ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ آپ بے قصور ہیں، جانتے ہوئے کہ ظلم اور ناانصافی ہو رہی ہے اللہ بے گناہ اور بہادر لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ فیصلہ سچ کی فتح اور جھوٹ کی شکست ہے۔ سات ججز کے فیصلے نے واضح کر دیا کہ نواز شریف کو کیسے سزائیں دی گئیں۔ اپنی شریک حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر قانون کے سامنے سر جھکا دینے کے لیے نواز شریف کا جگر اور حوصلہ چاہیے، یہ ملک کے منتخب وزیر اعظم ہیں، جو اپنا ا?پ اور اپنا خاندان بکھرتا دیکھتے ہیں، بڑے سے بڑا نقصان اٹھا لیتے ہیں مگر آئین اور قانون کو سربلند رکھتے ہیں۔شہباز شریف اور مریم نواز شریف کے کہنے پر کارکن اور پارٹی لیڈر سرسجود ہوگئے مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔شکرانے کے نوافل بھی کئی نے پڑھے ہونگے۔شہبازشریف ، مریم اور بہت سے بلکہ ہر چھوٹے بڑے لیڈر کی طرف سے میاں نواز شریف کی سزائیں فوری طور پر ختم کرنے کا پُر زور مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ مطالبہ کس سے ہے۔وزیر اعظم عمران خان سے ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہے یا پھر عدلیہ سے ہے۔غالب امکان یہی ہے کہ عدلیہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کر سکتی ہے ۔اس کیلئے کیا صرف بیان ہی کافی ہوگا یا کوئی مناسب اور مطلوبہ طریقہ ¿ کار بھی ہے جو کو فالو کرنا ہوگا۔یہ سے ہماری بات سننے اور پڑھنے والے رہنمائی کیلئے اپنے کمنٹس میں آگاہ فرمائیں ۔
لگے ہاتھوں اس کیس کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی ملاحظہ کر لیجیے۔
ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار سابق جج ارشد ملک کو لاہورہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فیصلہ سنایا۔واضح رہے کہ ارشد ملک نے اگست 2019 میں ایف آئی اے کو دیئے گئے تحریری بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز سے مدینہ منورہ کے ہوٹل اور سابق وزیراعظم نوازشریف سے جاتی امرائ اور ناصر محمود بٹ کے ہمراہ جاتی امراء میں ملاقات کی۔
اپنے بیان حلفی میں انکا کہنا تھا کہ احتساب عدالت نمبر 2 اسلام آباد میں جج کی حیثیت سے فروری 2018 میں انکی تقرری کے بعد ان سے دو واقف کاروں، مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے ملاقات کی، جس میں ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی مسلم لیگ نون کی حکومت میں ایک بااثر شخصیت سے انکی خصوصی اور ذاتی سفارش پر انہیں احتساب عدالت کا جج لگایا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انھیں معطل کرکے او ایس ڈی تعینات کر دیا جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے بطور انکوائری آفیسر ارشد ملک کو قصور وار قرار دیا تھا۔ یاد رہے ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انہیں باعزت بری کیا گیا تھا۔
قبل ازیں 6 جولائی 2019 پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز جاری کی تھیں جن کے مطابق نواز شریف کو سزا دباو? پر سنائی گئی تاہم ارشد ملک کی جانب سے پہلے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان ویڈیوز کو جعلی قرار دیا گیا تھا،7جولائی کو رجسٹرار احتساب عدالت نے جج ارشد ملک کا تردیدی بیان جاری کیا کہ ان پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباو نہیں تھا۔
ویڈیو میں ارشد ملک کو یہ کہتے ہوئے سنایا گیا کہ نواز شریف کو سزا سناکر میرا ضمیر ملامت کررہا ہے اور ڈراﺅنے خواب آتے ہیں۔ جج نے ناصر بٹ کو کہا کہ نواز شریف پر نہ کوئی الزام نہ ہی کوئی ثبوت۔ویڈیو سامنے ا?نے کے بعد جج ارشد ملک کے خلاف تحقیقات کیلئے کیس وزارت قانون کو بھیج دیا گیا تھا۔ ارشد ملک کو اسلام ا?باد کی احتساب عدالت سے فارغ کر کے انکی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دی گئیں۔

سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ 16 جولائی 2019 کو ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی،16 جولائی 2019 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ا?صف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو جج نے کیا وہ انتہائی غیر معمولی باتیں ہیں، سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دیگی تو ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس پر اثر پڑیگا۔
16 جولائی کو ہی جج ارشد ملک نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت ایف آئی اے کو درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی شقوں کے تحت ان کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا۔
23جولائی2019 کو سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کے ویڈیو کیس پر ایف ا?ئی اے کو تین ہفتوں میں مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 23 اگست کو کیس کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11جولائی کا بیان حلفی ا±ن کے خلاف فرد جرم ہے۔ 14 ستمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو او ایس ڈی کر دیا۔
جس کے بعد ا?ج لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے تمام شواہد کی روشنی میں ارشد ملک کی برطرفی کی منظوری دے دی۔یاد رہے ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انہیں باعزت بری کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں