“ساڈے سرتے وی اپنا ہتھ رکھنا مائی باپ” نواز حکومت نےاچانک ایسی شخصیت سے رابطہ کر لیاکہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 14, 2016 | 07:08 صبح

اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انکے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے رابطہ کیا ہے تاکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ اور جنوبی ایشیا کی پیچیدہ صورتحال جیسے اہم امور پر نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق ان رابطوں سے آگاہ ایک اعلیٰ افسر کا کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھا جس میں انہیں صدر منتخب ہونے کی مبارکباد دی اور پاکستانی حکومت کی طرف سے مل کر کام کرنیکی خوا

ہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان سفارتی ذرائع کے علاوہ حکومت نے غیر روایتی ذرائع اختیار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں کے ذریعے بھی بالواسطہ رابطہ کیا ہے۔ ان مشیروں میں سے ایک پاکستانی نژاد امریکی ساجد تارڑ ہیں جن سے پاکستان نے رابطہ کیا ہے۔

ساجد تارڑ اس وقت نمایاں ہو کر سامنے آئے جب انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی تحریک شروع کی جو کہ ایک جراتمندانہ اور غیرمقبول فیصلہ تھا کیونکہ پاکستانیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت ہلیری کلنٹن کی حامی تھی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ساجد تارڑ امریکہ میں نمایاں شخصیت بن کر ابھرے ہیں، وہ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے کے لیے مقرر کیے گئے 36مشیروں میں سے ایک ہیں۔ ساجد تارڑ کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے وہ 30 سال قبل امریکا گئے تھے انھیں 90 کی دہائی میں امریکی شہریت ملی، وہ اکثر پاکستان آتے رہتے ہیں اور اسلام آباد میں بھی انکا ایک گھر بھی ہے۔ انھیں ٹرمپ انتظامیہ میں اہم ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے۔

ساجد تارڑ نے گزشتہ روز فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ حکومت پاکستان نے ان سے رابطہ کیا ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ دہشتگردی کیخلاف بہت سخت موقف اختیار کرینگے، اس معاملے پر اب سیدھی بات ہوگی۔ انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنا گھر درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ دہشتگردی کے معاملے پر محض لفاظی برداشت نہیں کرے گی۔