سب کچھ تیرا۔۔۔۔ پھر بھی کچھ نہیں تیرا

2017 ,مئی 4



کل فیصلے کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا

دو نے کہا یہ چور ہے، اور تین بولے رک جا ذرا

سب جو وہاں موجود تھے، ناچا کئیے، گایا کئیے

گلوّ تیرا، بلوّ تیرا، احسن تیرا، خواجہ تیرا

عزت کی تو بس خیر ہے، آتی ہے یہ، جاتی ہے یہ

اس فیصلے سے جو بھی ہوا، بس بچ گیا عہدہ تیرا

تجھ پر قلم پھیرا نہیں، باقی کسی کو گھیرا نہیں

کیسے بچا سمدھی تیرا، بیٹی تیری، بیٹا تیرا

جے آئ ٹی بھی ڈھونڈھ لے، قبر پہ جا کر پوچھ لے

باقی کسی کا کیا گناہ، بس پھنس گیا باوا تیرا

عامر بڑا "ممنون" ہے، کیسا عجب قانون ہے

مل بھی تیری، وِل بھی تیری، پھر بھی نہ اک پیسہ تیرا

متعلقہ خبریں