کیوں نکالا مجھے

2017 ,اگست 18



کیو ں نکالا مجھے
____

آپ نے اپنے ہاتھوں سے پالا مُجھے
دے کے خُود مَسندِ شاہ بَالا مُجھے
تین عَشروں تلک کی میری پرورش
یعنی سَمجھا ہتھیلی کا چھَالا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

آپ کے ہاتھ کا تو بَٹیرا تھا میں
آپ کو عِلم تھا کہ لُٹیرا تھا میں
ھے گِلہ ہی مُجھے تو اِسی بات کا
کھانے کیوں نہ دِیا تَر نوالا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے،کیوں نِکالا مُجھے

اہلِ دانش سے مُجھ کو حقارت رہی
سو بصیرت رہی ، نہ بصارت رہی
لگ رھا ھے مُسلسل یہ جی۔ایچ۔کیو
بَنی گالہ مُجھے ، بَنی گالہ مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے،کیوں نِکالا مُجھے

پہلے تَقسیم تھی دو کی اور تین کی
پھِر پانچوں نے ووٹوں کی ' توھین' کی
کوئی '' سازش'' ھُوئی ھے یقیناً ''کہیں''
کُچھ تو لگتا ھے گَڑ بڑ گھُٹالا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

جو بھی ہونا ھو تُم ہونے دیتے نہیں
مارتے بھی ہو اور رونے دیتے نہیں
روؤں دھوؤں نہ میں تو بھلا کیا کروں
رو کے بھَرنا ھے اب ھیڈ مرالہ مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

سارے شہروں سے اُمّید ھی اُٹھ گئی
مُجھ سے تو جیسےتقدیر ھی رُٹھ گئی
واسطہ جب میں دُوں گا سری پائے کا
ووٹ ڈالے گا پھِر گوجرانوالا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

بات کرتا ھُوں تو کرنے دیتے نہیں
رنگِ مَظلُومیّت بھَرنے دیتے نہیں
اپنی ''معصومیّت'' کا مُجھے ظالمو
پَڑھنے دیتے نہیں کیوں مقالہ مُجھے؟
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

کیوں نِکالا ھے کوئی بتاتا نہیں
کیا کیا جائے کوئی سُجھاتا نہیں
جو بھی مِلتا ہے بس پُوچھتا ہوں یہی
والیُم ٹین میں کیا ھے؟ دِکھا لا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

میرے چاروں طرف یہ جو تابُوت ہیں
میرے اپنے ہی بَچّوں کے کرتُوت ہیں
جیتے جی سب نے ھی مار ڈالا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

جاؤ بھی اب میری جان بھی چھوڑ دو
جھُوٹ کی ھَنڈیا بازار میں پھوڑ دو
جھُوٹ سے اب زُباں لَڑ کھَڑانے لگی
جھوٹ کا مت اوڑھاؤ دوشالا مُجھے
کیوں نِکالا مُجھے، کیوں نِکالا مُجھے

متعلقہ خبریں