کروڑوں کے اثاثے بنانے والا کسٹم اہلکار نیب نے دھر لیا۔

2017 ,جون 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): نیب اگر کارروائی نہیں کرتا تو بڑے بڑے عہدیداروں کو بھی چھوڑ دیتا ہے اور کارروائی کرنے پر آئے تو معمولی اہلکاروں کو بھی دھر لیتا ہے۔ اس کسٹم اہلکار سے برآمد کیا ہوا ہے؟ بنک سے چند لاکھ روپے ملے ہیں جو شاید کروڑ سے ایک دو ہزار کم ہوں۔ اسکے نام ڈی ایچ اے میں ساڑھے 14 کنال زمین ہے اسکے مرلے یہی کوئی 280 بنتے ہیں۔ ایک مرلے کی قیمت زیادہ سے زیادہ دس لاکھ ہو گی۔ جوہر ٹائون میں ایک اور ادھر ہی کہیں 12 تیرہ کنال کا پلاٹ ہے۔ باقی جائیداد ابھی دریافت ہونی ہے۔ نیب نے ایک شریف آدمی کو پکڑ لیا اب رگڑ بھی رہے ہوں گے۔ پہلے پتہ تو کر لیتے کہ شاید اس نے ابا جی کی وراثت میں آنے والی ’’ہٹی‘‘ کے حصے سے یہ جائیداد خریدی ہو۔ ملازم عموماً کہتے سنتے جاتے ہیں ہماری گائوں میں زمینیں ہیں۔ پودینے کے باغات ہیں۔ ایسا ہی ایک ملازم شیخی مار رہا تھا جو کم ہی گائوں گیا تھا کہ میرا دوست امرود کے درخت پر چڑھ کر امرود توڑ رہا تھا میں ٹماٹر کے درخت پر بیٹھا تھا۔ ساتھ بیٹھے دوست نے کہا اور آپ کے ابا جی دھنیے کے درخت پر بیٹھے کنوں کھا رہے تھے۔ جو ملازم پکڑا گیا وہ سرے محل، وائٹ کوئین پیلس اور مے فیئر فلیٹس نہ پکڑے جانے پر سوچتا تو ہو گا اور ان کے مالکان کی قسمت پر رشک کر رہا ہو گا۔ بہرحال اس نے جو کمایا اور کھایا وہ اب بڑی مشکل سے نکل رہا ہے۔ جو جتنا بھی برا ہے، طاقتور ہے، اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہے اس نے کچھ ناجائز کمایا ہے وہ نکلنا ضرور چاہئے۔

متعلقہ خبریں