نئی زندگی

2019 ,اکتوبر 21



حامد ولید
فیملی کے ہمراہ سیروتفریح ہمیشہ سے میری ترجیح رہی ہے، شائد ہی کوئی ہفتہ وار چھٹی ہو کہ ہم کہیں نہ کہیں نہ جائیں، اب تو خاندان بھر میں ہماری سیروتفریح مشہور ہو چکی ہے، اکثر رشتہ دار اتوار کے روز میرے گھر میں فون نہیں کرتے اور جب بھی رابطہ کرنا ہو ہمارے موبائل فون پر کرتے ہیں، ہم بھی اتوارکے روز ایسے شتر بے مہار بنے ہوتے ہیں کہ جدھر منہ سمایا ادھر کو نکل گئے، یعنی گھر سے نکلے ہیں ناشتہ کرنے اور پروگرام بن گیا مری میں لنچ کا تو یہ جا اور وہ جا، مزے کی بات یہ ہے کہ ہر لمبے سفر سے واپسی پر مصمم ارادہ کیا جاتا ہے آئندہ کبھی اس طرح اچانک لمبے سفر پر نہیں نکلا جائے گا لیکن جونہی کچھ ہفتے گزرتے ہیں سارے ارادے ہوا بن کر ہمارے ساتھ ساتھ اڑے جاتے ہیں۔
سفر وسیلہئ ظفر کہلاتا ہے کہ بڑے سے بڑا ڈفر بھی سفر سے ضرور کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ یوں بھی زندگی میں سفر سے مفر ممکن نہیں، سفر کے سحر کا اثر سوچ کا انداز بدل دیتا ہے، خود سوچ کو بدل دیتا ہے، سفر زمین کا ہو۔ کھلی فضا کا ہو یا پھر پانیوں کا....سفر ہی زندگی ہے بلکہ نئی زندگی ہے۔!
زندگی ہر لحظہ نئی زندگی ہی ہوتی ہے، چونکہ انسان کی اپنی سانس پر قدرت نہیں، یہ اختیار کی بات نہیں کہ اگر اختیار میں ہوتا تو کئی مجبور سانس روک کر زندگی سے جان چھڑوا لیتے۔ زندگی بیک وقت مقدر اور تدبر کے تال میل سے چلتی ہے، کہتے ہیں کہ سیبوں کے ایک باغ میں اندھا اور ایک ٹانگوں سے معذور بیٹھے ہوئے تھے، اندھے نے کہا کہ اسے سیبوں کی خوشبو آرہی ہے مگر ان تک پہنچ نہیں سکتا، ٹانگوں سے معذور شخص نے کہا کہ وہ سیب دیکھ تو سکتا ہے مگر ان تک پہنچ نہیں سکتا، اندھے نے انتہائی لاچاری سے کہا کہ کیا کریں تقدیر اندھی ہے اور تدبیر لُولی ہے، معذور شخص نے اندھے کو تجویز کیا کہ کیوں نہ تم میری تقدیر اور میں تمھاری تدبیر بن جاؤں، اندھے نے حیرانی سے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے؟ اس پر معذور شخص نے کہا کہ میں تمھارے کندھوں پر سوار ہوتا ہوں اور تمھیں راستہ بتاتا ہوں اور تم مجھے سیبوں کے درخت کے پاس لے جاؤ، چنانچہ دونوں نے ایسا ہی کیا اور سیبوں کا ذائقہ چکھا!....یوں تقدیر اور تدبیر کے تال میل سے زندگی نے امید کو جنم دیا!....یہ امید ہی ہے جو ہمیں کشاں کشاں لئے پھرتی ہے اور ہم انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں سفر پر گامزن رہتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ہمارا بیشتر سفر ایک دائرے میں ہو رہا ہوتا ہے، ہم صبح گھر سے دفتر اور شام کو دفتر سے گھر روانہ ہو جاتے ہیں، اس دائرے کو پاٹنا بعض ایک کے لئے تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے مگر کچھ سر پھرے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دائرے کو توڑ کر نئی سمتوں کو پاٹتے ہیں اور زندگی کو نت نئے معنوں، زاویوں اور تجربات سے روشناس کرواتے ہیں، یہ سر پھرے کبھی واسکوڈے گاما بن کر امریکہ دریافت کر مارتے ہیں تو کبھی بابا یحییٰ خان کے روپ میں پیار رنگ کالا، کاجل کوٹھا اور لے بابا ابابیل جیسے شاہکار تخلیق کرمارتے ہیں۔
ایسے ہی ایک اچھے موسم میں پروگرام بنا کہ دامن کوہ جایا جائے، راولپنڈی میں بیگم کے بھائی توصیف کو فون کیا جو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی NUSTٰمیں پروفیسر ہیں اور حال ہی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی بھی کرآئے ہیں، انہیں بتایا کہ اتوار کی صبح ان کے پاس پہنچیں گے اور پھر ان کی فیملی سمیت دامن کوہ لنچ کے لئے چلیں گے، انہوں نے بھی جھٹ حامی بھرلی۔ چونکہ پروگرام اچانک نہیں بنا تھا اس لئے بیگم نے بھی خوب سفری تیاری کرلی اور ضرورت کی ہر شے چمڑے کے بیگوں میں ٹھونس کر ڈگی میں رکھوا دیئے، اس کا خیال یہ تھا کہ لاہور میں تو گرمی ہے لیکن دامن کوہ کے پہاڑ پر پہنچتے ہی سردی آلے گی اس لئے پوری فیملی کے گرم کپڑے خاص طور پر رکھ لئے، اسی طرح اس نے اپنے بھائی کی فیملی کے لئے بھی کئی طرح کے تحفے خرید کر ساتھ باندھ لئے۔ ان دنوں ہمارے پاس سوزوکی کلٹس تھی جس کی ڈگی کچھ ایسی بڑی نہ تھی، اوپر سے اس میں گیس کا سلنڈر بھی نصب تھا۔ اس لئے اکثر سامان پچھلی سیٹ پر رکھا گیا اور بچوں کو اس پر سلانے کا پروگرام بنا، اس طرح کی صورت حال میں سفر کا مزا اور بھی دوبالا ہوجاتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں راستے میں جگہ جگہ رک کر پوزیشنیں تبدیل کرنے کا علیحدہ ہی لطف ہوتا ہے۔ بچے اس لئے خوشی خوشی تیار ہو جاتے ہیں کہ موٹر وے پر ہر قیام و طعام پر انہیں مزے کرنے کا  موقع میسر رہتا ہے۔

چونکہ پروگرام یہ تھا کہ ناشتہ توصیف بھائی کے ہاں کریں گے اس لئے لاہور سے اسلام آباد کے لئے صبح سویرے بلکہ پو پھٹنے سے پہلے نکل پڑے، لگ بھگ صبح تین بجے ہم میاں بیوی جاگے۔ سامان رات سونے سے قبل ہی گاڑی میں ٹھونس لیا تھا۔ بیگم نے بچوں کو بھی رات ہی سفری کپڑے پہنا کر سلا دیا تھا تاکہ صبح اٹھ کر اسی طرح گاڑی میں سوار ہوں اور سوجائیں۔ حسبِ ارادہ صبح سویرے اٹھے، سوئے بچوں کوگود میں اٹھایاا ور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور اللہ کا نام لے کر سفر پر نکل پڑے۔ چار سو اندھیرا تھا۔ خالی سڑکیں اور سڑکوں کے کنارے جلتے بجلی کے قمقمے ایک ایک کر کے ہمیں الوداع کہہ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں موٹر وے پر پہنچے اور ٹال ٹیکس سے انٹری کارڈ لے کر موٹر وے کے سینے پر فراٹے بھرنے لگے، بیچ رستے میں سورج نے آنکھ کھولی اور ایک ایک کرکے بچے جاگنے لگے۔ لگ بھگ دو گھنٹوں کی ڈرائیونگ سے میں بھی تھک چکا تھا۔ چنانچہ اگلے قیام و طعام پر گاڑی کو ریسٹ ایریا میں کھڑا کیا اور گرما گرم پراٹھوں کا آملیٹ کے ساتھ ناشتہ کیا اور اوپر سے مکسڈ چائے لی تو لطف دوبالا ہوگیا۔ جسم کو کچھ آرام ملا تو ساری تھکاوٹ دور ہوگئی اور جب بچے پوری طرح جاگے اور چھوٹی چھوٹی شرارتیں کرنے لگے تو دور کھڑی تھکاوٹ بھی رفوچکر ہو گئی اور راستہ صاف ہوتے ہی ہم نے دوبارہ سے سفر کی ٹھانی۔ اب بچے جاگے ہوئے تھے اور گاڑی میں ایک اودھم برپا تھا۔ اوپر سے گاڑی کے آڈیو پلیئر پر چلتا ہوا میوزک علیحدہ سے توجہ کھینچ رہا تھا۔ اسی کھینچا تانی میں اگلے چند گھنٹوں میں ایک آدھ بار رک کر ہم لگ بھگ دس بجے توصیف بھائی کے گھر پہنچے جہاں بھرپور ناشتے کا اہتمام تھا۔ ناشتہ کیا تو سفر کی تھکاوٹ نے آلیا اور پروگرام یہ بنا کہ دو گھنٹے آرام کے بعد دوپہر کے کھانے کے لئے دامن کوہ چلا جائے۔ چنانچہ اگلے دو گھنٹے ہم نے خوب گپیں لگائیں۔ درمیان میں کچھ اونگھ بھی لیا تاکہ تازہ دم ہو کر دامن کوہ جیسے صحت افزا مقام پر چند گھنٹے گزارے جا سکیں۔ اس دوران بچوں نے اپنے کزنوں کے ساتھ مل کر خوب ہلا گلا کیا۔ کہیں کرکٹ کھیلی گئی تو کہیں آئسکریمیں کھائی گئیں۔ اس اثناء میں روانگی کا وقت قریب آیا تو ایک اور طرح کا ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ماؤں کے لئے بچوں کو تیارکرنا کاردارد تھا۔اللہ اللہ کرکے یہ مرحلہ مکمل ہوااور دونوں فیملیاں اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر عازم سفر ہوئے۔ 
تھوڑی ہی دیر میں بارش نے آلیا۔ موسم پہلے ہی سہانا ہو رہا تھا۔ بادلوں سے اٹا آسمان انتہائی جاذب نظر تھا اور دور سے دامن کوہ کا پہاڑ انہی بادلوں میں گم ہوتا دکھائی دیتا تھا۔لگاتار رم جھم نے ہمیں گاڑیوں کی رفتار کم کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ ہم بھی موسم کالطف لیتے ہوئے آگے
 بڑھ رہے تھے کیونکہ کسی قسم کی کوئی عجلت ہمیں درکار نہ تھی۔ بالآخر ہم دامن کوہ کی بلندیوں کو چھونے والی سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک پر آہی گئے، دامنِ کوہ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے آپ کو ایک خاص طرح کی ڈرائیونگ میں مہارت ہونی چاہئے۔ اس کے بغیر آپ غریب کی ناک کی طرح اونچی اس چوٹی کو سر نہیں کر سکتے، میرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ اس سروقد پہاڑ پر کلٹس سوزوکی کو لے کر چڑھ جاتا۔ اس سے قبل جب بھی گئے تو ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور ہوتا تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ گاڑی کو چھوٹے گیئر میں رکھ کر میں آسانی سے اس گھاٹی کو سر کرلوں گا۔ بچوں کا شوق علیحدہ سے دیدنی تھا۔ میرے آگے آگے توصیف کی گاڑی فراٹے بھر رہی تھی۔ شائد وہ بھی گیس پر تھی لیکن اس کے باوجود یا تو اس گاڑی کی پِک زبردست تھی یا پھر توصیف بھائی مجھ سے بہتر ڈرائیور تھے۔ بل کھاتی سڑک پر وہ گاڑی کو یوں بھگا رہے تھے جیسے بچوں کی کمپیوٹر گیم میں گاڑی بھاگی جاتی ہے۔ جونہی توصیف کی گاڑی ہم سے ذرا دور نکلی بچوں نے شور مچایا کہ ہماری گاڑی کو ان سے آگے نکلنا چاہئے۔ میں نے فرط جذبات میں گاڑی کو تیسرے گیئر میں ڈالا اور ایکسیلیٹر کو دبایا۔ گاڑی نے سپیڈ پکڑی مگر فوراً ہی موڑ آگیا اور مجھے سپیڈ کم کرنا پڑی لیکن یہ سپیڈ اس قدر کم ہو گئی کہ گاڑی نے پہلے تو جوں کی رفتاراختیار کی اور پھر اوپر جانے کے بجائے پیچھے کو چل پڑی۔ میں نے بریک لگائی مگر بے سود۔ صورت حال اس قدر اچانک رونما ہوئی کہ میرے ہوش و حواس اڑگئے۔ بریک سے پاؤں اٹھاتا تو گاڑی پیچھے چل پڑتی اور بریک دباتا تو گاڑی رکے ہونے کے باوجود پیچھے کو سرک رہی تھی۔ بچوں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو کھائی کو قریب پا کر چیخنے لگے۔ میں نے فوراً ہینڈ بریک کھینچی مگر وہ بھی اس قدر کارگر دکھائی نہ پڑتی تھی۔ یہ الگ بات کہ گاڑی ایک لمحے کو اپنی جگہ پر جم سی گئی۔ میں نے فوراً بچوں سے کہا کہ وہ گاڑی سے اترجائیں لیکن وہ نیچے اترنے سے گھبرا رہے تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ گاڑی کو میں نے سنبھالا ہوا ہے اس لئے ہمت کرو اور اتر جاؤ لیکن وہ مجھے چھوڑکر گاڑی سے اترنے کے لئے تیار نہ تھے۔ عجیب مخمصے کی حالت تھی۔ مجھے خطرہ تھا کہ اگر میں خود پہلے اترا تو کہیں گاڑی کی بریک بے کار نہ ثابت ہو اور خدانخواستہ گاڑی کسی کھائی میں نہ جا گرے۔ یہ صورت حال انتہائی ہوش مندی کا تقاضا کر رہی تھی۔ بچوں کی چیخ و پکار سن کر بیگم کی گود میں لیٹا ہوا شیرخوار بیٹا بھی جاگ گیا اور اس نے سب سے بڑھ کر شور مچانا شروع کردیا۔ بیگم کی پریشان صورت علیحدہ سے اوسان خطا کر رہی تھی۔ میں نے فوراً توصیف کو موبائل پر کال کرنے کی کوشش کی مگر آواز بار بار کٹ رہی تھی۔ بالآخر کال ملی تو میں نے توصیف کو بتایا کہ میں کس خطرناک صورت حال میں گھر گیا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں پہنچتا ہوں۔ آپ گاڑی کو سنبھالے رکھیں۔ فون بند کرکے میں نے بچوں سے کہا کہ نیچے اترجائیں مگر بیگم نے کہا کہ اس خطرناک چڑھائی پر کسی بچے کا اکیلے اترنا خطرے سے خالی نہ ہوگا۔ اس دوران گاڑی گیلی سڑک پر آہستہ آہستہ پھسل رہی تھی۔ میں نے ہینڈ بریک کو پورے زور سے اوپر کھینچا اورکر گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی کوشش کی مگر جونہی بریک سے پاؤں ہٹا گاڑی ہلکے سے جھٹکے سے پیچھے کو سرکی۔ بچوں کی چیخ سن کر میں نے دوبارہ سے بریک پر پوری قوت سے پاؤں ٹکالیا اور دورازہ بند کرلیا۔ صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اب خود میرے ہوش اڑنے لگے تھے۔ کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ کیا کیا جائے۔ اس اثنا میں توصیف موڑ کے اس طرف سے پیدل نمودار ہوا۔ اس نے ہماری گاڑی کی حالت دیکھی تو پریشان ہوگیا کیونکہ گاڑی تقریباً ترچھی ہو چکی تھی اور خطرہ یہ تھا کہ زیادہ اچھل کود اسے کئی قلابازیاں کھانے پر مجبور کرسکتی ہے۔ توصیف نے بھاگ کر سڑک کنارے پڑے ہوئے پتھر گاڑی کے پچھلے پہیوں کے نیچے دبائے۔ اسی طرح اس نے مزید بھاری پتھر اٹھا کر گاڑی کے اگلے پہیوں کے پیچھے بھی دھر دیئے۔ میں نے اللہ کا نام لے بریک سے پاؤں اٹھایا تو گاڑی ساکن رہی، توصیف سے کہا کہ وہ بچوں کو گاڑی سے نکالے۔ اس نے ایک ایک کرکے بچوں کو باہر نکالا۔ بیگم کے ہاتھ سے شیرخوار بچے کو لیا اور سب کو بحفاظت سڑک کنارے محفوظ چٹان کی اوٹ میں کھڑا کیا۔ پھر ہم دونوں نے غور شروع کیا کہ گاڑی پِک کیوں نہیں پکڑ رہی۔ معلوم ہوا چونکہ گاڑی سی این جی پر تھی اس لئے انجن کو وہ متوقع پِک نہیں مل رہی تھی جو دامن کوہ جیسے پہاڑ کو سر کرنے کے لئے درکار تھی، اس نے کہا کہ گاڑی کو فوراً پٹرول پر کردیا جائے۔ چنانچہ گاڑی سٹارٹ کرکے پہلے آئل سوئچ کو نیوٹرل کیا تاکہ پائپوں سے گیس اچھی طرح خشک ہو جائے اور پٹرول کی روانی یقینی ہو سکے۔ اللہ اللہ کرکے گاڑی پٹرول پر ہوئی تو گاڑی آگے بڑھی۔ بچوں کو دوبارہ سے سوار کیا اور پھر گاڑی کو توصیف کی گاڑی سے آگے رکھ کر ہم لوگ دامن کوہ کی چوٹی تک پہنچے۔ لیکن بقیہ کے سفر میں بچے بری طرح خوفزدہ رہے۔ خود میری پریشانی بھی بڑھی ہوئی تھی مگر ہمت نہ ہارنے کا عزم بہرحال ہمیں آگے بڑھائے جارہا تھا۔ 
یہ واقعہ میری زندگی میں واقعی ایک نئی زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کے بعد سے میں نے کبھی گاڑی میں سی این جی استعمال نہیں کی اور پٹرول کو ہی ترجیح دی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے پہاڑوں کے سفر میں کمی کردی ہے۔ 
٭٭٭
شبیر بٹ خالق ناول”پشپا“ مقیم مانچسٹر برطانیہ
میں نے 71ء کی جنگ لڑی۔ سکول میں ٹیم آئی جو میٹرک کے صحت مند طلباء کو بھرتی کر کے لے گئی، 6 ہفتے کیمبل پور میں ٹریننگ ہوئی۔ میری تعیناتی کشمیر میں فارورڈ کہوٹہ سے آگے پہاڑی پر ہوئی۔فارورڈ کہوٹہ بانڈی عباس پور سے آگے ہے، یہ پہاڑی آج کی کنٹرول لائن پر ہے۔ مجھے سگنل کور میں رکھا گیا، یہ کور جنگ اور امن کے دنوں میں کمیونیکیشن رابطے قائم کرتی اور بحال رکھتی ہے، پہاڑی کے اوپر ہمارا عارضی کیمپ تھا، ان دنوں چابی والے فیلڈ فون سیٹ ہوا کرتے تھے، ان کا رابطہ تاروں کے ذریعے ہوتا جو فیلڈ میں میلوں پھیلی ہوتی تھیں۔ پہاڑی کئی سو میٹر اونچی ہے۔سیدھی اوپر کو جاتی ہوئی پہاڑی چڑھنے کیلئے زگ زیگ راستہ ہے۔ کہیں کھلا اور کہیں اتنا تنگ کہ صرف ایک پاؤں ہی آسکے۔ ان دنوں نئی نئی برف باری شروع ہوئی تھی۔ مجھے ایک تار مرمت کرنے کیلئے پہاڑی سے نیچے بھیجا گیا۔ سردیوں میں برفباری سے راستے بھی برف سے ڈھک جاتے ہیں۔ میں نے چابی والا فون کندھے سے لٹکایا اور تار مرمت کرنے کیلئے چل پڑا۔ پہاڑی پر چڑھنے کیلئے 4 گھنٹے لگتے ہیں جبکہ اترے کیلئے کم وقت چاہیے۔ برف کے دنوں میں اترنا بھی دشوار ہوتا ہے، میں بڑا سنبھل کے اتر رہا تھا۔ ایک جگہ پر صرف پاؤں رکھنے کی گنجائش تھی۔ جہاں پوری احتیاط سے قدم رکھا تو صحیح طریقے سے جم نہ سکا اس دوران دوسرا پاؤں اٹھایا ہی تھا کہ پہلا پاؤں پھسل گیا اور میں لڑھکنے لگا۔ پہاڑی پر چڑھنے اور اترنے کے لئے زِگ زیگ راستہ ہے انسان گرے تو رولنگ کرتانیچے آتا ہے۔نیچے آنے تک انسان کا زندہ رہنا درکنار،پوراجسم بکھر چکاہوتا ہے۔امیں لُڑھکا تو موت نظر آ رہی تھی۔ نیچے کی طرف جاتے ہوئے اِدھر اُدھر ہاتھ مارا تو ایک شیشم کے درخت کی جڑ کو ہاتھ پڑ گیا۔ اس پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ اب میں اس جڑ کو پکڑہوئے ہوا میں معلق تھا۔ مدد کیلئے کوئی موجود نہیں تھا۔ میں نے ہمت کی جڑ کے ذریعے اوپر آنے کی کوشش کی۔ ایک ہاتھ سے تھوڑی برف ہٹائی تو دوسری جڑ بھی نظر آ گئی۔ اس کو پکڑ کر اوپر آیا۔ اگر جڑ ہاتھ میں نہ آتی یا جڑ کمزور ہوتی تو جان کاجانا یقینی تھا۔
 اسی پوسٹنگ دوران مجھے پہاڑی سے نیچے ذرا فاصلے پرجا کر تاریں مرمت کرنے کیلئے بھیجاگیا۔ موسم بہتر ہو چکا تھا۔ میں نے ایک کندھے سے چابی والا فون دوسرے سے بندوق لٹکائی اور پہاڑی سے اترنے لگا۔ راستے میں ایک تیس40 فٹ چوڑا نالہ تھا۔ اس میں شفاف پانی ایک دلفریب گنگناہٹ کے ساتھ بہہ رہا تھا۔اس میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بڑے بڑے پتھر پڑے تھے۔ ان پر پاؤں رکھ کر نالہ پار کیا۔ جہاں پہاڑوں میں ایسے پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔ بعض اوقات پانی کی ساں ساں کی آواز اتنی اونچی ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ کھڑے دو افراد کو بات کرنے کیلئے پورا زور لگا کر بولنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگ اپنے تجربے کی بناء پر بتاتے ہیں کہ نالے، ندیاں اور نہریں پار کرتے وقت جدھر سے پانی آ رہا ہو اُس طرف دیکھیں۔ پانی جدھر بہہ کر جا رہا ہے اُدھر دیکھنے سے چکر آنے لگتے ہیں۔
میں نے پہاڑی کے نیچے جا کر ٹوٹی تاریں جوڑیں۔ اپنے فون کی تاریں ان جوڑوں سے کنکٹ کیں۔ اس کی چابی گھمائی۔ جہاں سے چلا تھا وہاں رابطہ ہوا۔ میں نے اپنا کام مکمل کرنے کی اطلاع دی اور واپس چل پڑا۔دو گھنٹے بعدنالے تک پہنچا تو صورت حال خوفناک ہو چکی تھی۔ آتے ہوئے پانی ڈیڑھ فٹ، اب ساڑھے تین چار فٹ تھا۔ ا پانی کے بہاؤ کی آواز میں ترنم نہیں بادلوں کے گرجنے جیسی آواز تھی۔ میں ایک کنارے پر کھڑا دوسرا کنارے پر پہنچنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا۔ اس پانی میں اگر گھوڑا گِر جائے تواس طرح بہا کے لے جاتا کہ اس کی کھریاں بھی سلامت نہیں رہتیں۔ پانی شفاف تھا جو بڑے بڑے پتھروں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔پانی کے اندر پتھر نظر آ رہے تھے۔ میں بسم اللہ پڑھ کر ان پر پاؤں رکھ کر گزرنے لگا۔اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ تیسرے چوتھے پتھر پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ میں اگلے لمحے پانی کے اندر تھا۔ اتنے تیز پانی میں سنبھلنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ میرا فون کہاں اور بندوق کہاں ہے۔ اس کا کوئی ہوش نہ رہا۔ میں پانی کے بہاؤ کے ساتھ کبھی قلا بازی کھارہا اور کبھی رولنگ کر رہا تھا۔ اس دوران ایک پتھر کے قریب سے گزرتے ہوئے میرے ہاتھ اس پتھر پر پڑ گئے۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھے وہ پتھر پکڑا دیا ہے۔ میں اس کے ساتھ لپٹ گیا۔ تھوڑے حواس بحال ہوئے تو اس کے اوپر کھڑا ہو گیا۔ اب کنارہ محض پانچ فٹ دور تھا۔ میں نے پوری قوت جمع کر کے چھلانگ لگائی اور”موت کی کھائی“ پار کر لی۔ اس کے بعد جوں جوں میں اپنی کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا شام کے سائے ڈھلتے جا رہے تھے۔ رات ہو گئی تو میری تلاش شروع ہو گئی۔ دور سے دو ٹارچوں کی روشنی نظر آئی تو میں دُبک گیا کہ یہ کہیں دشمن کے لوگ نہ ہوں۔ مجھے ان کی آواز آئی تو پہچان لیا۔ یہ میرے ساتھی تھے۔ میں نے ان کو آواز دی تو مجھے ساتھ لے گئے۔ سب لوگ میرے لاپتہ ہونے پر پریشان تھے۔ مجھے اپنے اندر پا کر بڑے خوش ہوئے۔ کیپٹن صاحب کو سب کچھ بتایا بندوق کے نالے میں گرنے کی اطلاع دی۔انہوں نے کہا اس کی فکر نہ کرو تم بچ گئے ہو بس یہ بہت ہے۔ میں سوچتا ہوں اگر میں نالے میں بہہ جاتا تو۔۔۔
………………………………………………………………
اسمار احمد لیکچرار
میں لاہور میں مسلم ٹاؤن موڑ پر سروس روڈ پر تیز رفتاری سے جا رہا تھا، اس دوران ایک گلی سے پجارو نکلی، جس کے ساتھ میری موٹر سائیکل پوری سپیڈ اوردھماکے سے ٹکرا گئی۔ میری بائیک سمیت قلا بازی لگی، میں گرا  اور فٹ پاتھ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا جبکہ گاڑی کے دروازے کے ساتھ کندھا پہلے ٹکرا چکا تھا۔ اس دو تین سیکنڈ کے ایکشن کے دوران میں نے سمجھا میں مر گیا ہوں تاہم فوراً اٹھ کھڑا ہوا، کپڑے جھاڑے خود کو دیکھا تو بالکل محفوظ تھا البتہ کندھے اور جسم میں کھچاؤ ضرور محسوس ہو رہا تھا۔ گاڑی والا میرے اس طرح گرنے اور محفوظ رہنے پر ہکا بکا تھا۔ ہیلمٹ کی وجہ سے سر چوٹوں سے محفوظ رہا۔
 ایک مرتبہ میں گوجرانوالہ میں سرکٹ ہاؤس میں تھا۔ سردیاں تھیں۔ گیس گیزر کا پائلٹ کام نہیں کر رہا تھا۔ میں نے اس کے پائلٹ کا بٹن دبا کر اس پر پتھر رکھ دیا۔ رات کو کسی وقت گیس بند ہوئی اور دوبارہ آئی تو گیزر کے اندر اس نے جمع ہونا ہی تھا۔ صبح پانی گرم نہ دیکھ کر میں ماچس لے کر گیزر کی طرف گیا۔ بے دھیانی میں اس کے گیٹ کے سامنے بیٹھ کر ماچس چلائی جیسے ہی اسے پائلٹ کی طرف لے جانے لگا تو ایک نیلا شعلہ بجلی کی سی تیزی سے باہر لپکا۔ میں نے بنیان پہن رکھی تھی۔ شعلے نے مجھے مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گلے اور بازوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم یہ شعلہ صرف ایک دو سیکنڈز میں ختم ہو گیا۔ میں اس موقع پر بھی سمجھا کہ میری جان گئی۔ اللہ نے محفوظ رکھا۔ گردن اور بازو کے زخم آہستہ آہستہ مندمل ہو گئے۔ مگر دونوں واقعات بھولے نہیں بھولتے۔
٭٭٭
حافظ مظفر محسن  ادیب، کالم نگار اور سوشل سکیورٹی ڈائریکٹر
یہ 4 جولائی 2006ء کی ایک گرم اور حبس زدہ دوپہر تھی۔ میری پوسٹنگ ملتان میں تھی۔ لاہور آنے کیلئے ٹکٹ لیا۔ فوکر طیارے پر آنا تھا۔ ڈرائیور مجھے ہمیشہ خانیوال روڈ سے لے کر آتا تھا۔ اس روز ڈرائیور نے کہا۔’آج ہفتہ ہے اس روڈ پر رش ہو گا۔ اس لئے شارٹ کٹ لے کر شہر کے اندر سے چلے جاتے ہیں“۔ میں نے اس سے اتفاق کیا۔ وہ شارٹ راستے سے لے آیا۔ راستے میں غلہ منڈی کے قریب ٹرک پھنسا ہوا تھا۔ ٹریفک جام تھی۔ اس میں پھنس کرر ہ گئے تاہم جلد ٹریفک بحال ہو گئی۔ ائیرپورٹ پر جلد سے جلد پہنچنے کی کوشش کی۔ مقررہ وقت سے میں 15 منٹ لیٹ تھا تاہم جہاز نے ابھی ٹیک آف نہیں کیا تھا۔ گاڑی ائرپورٹ کی مین انٹرنس پر روکی۔ سکیورٹی والوں نے ٹکٹ طلب کیا۔ میں نے ٹکٹ انہیں دکھایا۔ انہوں نے کہا جہاز کے گیٹ تو بند ہو چکے ہیں چنانچہ لاہور جانے والے جہاز کی طرف حسرت سے دیکھنے اور واپسی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ڈرائیور سے تھوڑا ترشی سے میں کہا۔”تم نے ضرور شارٹ کٹ لینا تھا۔ میں نے ضروری کام کے سلسلے میں لاہور جانا تھا۔“ یہ کہتے ہوئے ائرپورٹ سے واپس ہو لئے۔ چند منٹ بعد راستے میں نوائے وقت ملتان آفس سے سلیم ناز کا فون آیا۔ میں نے جیسے ہی ہیلو کہا۔ انہوں نے فوراً کہا۔”خدا کا شکر ہے۔ شکر ہے شکر ہے۔ آپ بچ گئے۔“ میں نے پوچھا۔”کیا ہوا ناز صاحب کیا ہوا جو شکر ادا کررہے ہو“ ”لاہور جانیوالا فوکر کریش ہو گیا۔ اس جہاز میں مسافر اور عملے سمیت 45 افراد سو رہے تھے جو سب لوگ جاں بحق ہو گئے۔“ان کے اس جواب پر میں ششدر اور ساکت ہوکر رہ گیا۔
 یہ جہاز جیسے ہی اڑا چند منٹ بعد اس کے انجن میں آگ لگ گئی۔ پائلٹ نے جہاز واپس موڑنے کی کوشش کی تو ملتان کے علاقے سورج میانی کے قریب گر کر پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ اللہ نے بچانا تھا اس لئے گاڑی کا ٹریفک میں پھنس جانا بہانہ بن گیا۔ جاں بحق ہونیوالوں میں ہائیکورٹ کے دو جج جسٹس قدیر صدیقی، جسٹس نواز بھٹی، بریگیڈئیر فرحت، بریگیڈئیر آفتاب، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر ڈاکٹر نصیر خان اور معروف نیورو سرجن افتخار راجہ بھی شامل تھے۔
………………………………………………………………
چودھری محمد حنیف پاکپتن شریف
ہمارے گاؤں 15ایس پی میں ہر سال جھولے والے آتے تھے۔ ان کا قیام ہفتہ دس دن رہتا، بچوں کو والدین ایک بار یا دو بار پیسے دے دیتے۔ جھولا تو صبح سے رات تک چلتا، ان کو گھر سے روٹی، آٹا، گڑ چاول وغیرہ بھی لا دیتے تو جھولا مل جاتا۔ دو چار مرتبہ جھولا لے کر مزید جھولنے کو دل کرتا رہتا۔ اس دور میں یہ جھولامکمل لکڑی کا بناہوتا تھا۔ اس کی جدید شکل کو ڈولی کہتے ہیں۔ ان دنوں ڈولی کی جگہ لکڑی کے پھٹے لگے ہوتے تھے، ان کی تعداد 4 تھی ان دنوں جھولے کے گرد بچوں کا میلا لگا رہتا۔ کچھ بچے جھولے میں بیٹھے ہوتے۔ کچھ اپنی باری کا اردگرد کھڑے ہو کر انتظار کرتے اور کچھ ایک دو تین یا چار بار جھولا لے کر تماشائی بنے ہوتے۔ یہ سردیوں کے دن اور عشاء سے کچھ وقت قبل کا واقعہ ہے۔ ان دنوں گاؤں میں بجلی نہیں آئی تھی۔ جھولے کا بزنس ایک لالٹین کی مدھم روشنی میں جاری تھا۔ میں اس طرف کھڑا تھا جدھر سے جھولا اوپر جاتا تھا جبکہ جھولا چلانے والا دوسری طرف تھا۔ وہ اوپر سے نیچے آنے والے پھٹے یا اس دور کی ڈولی جو کھرلی نما تھی کو زور سے نیچے کھینچتا یوں جھولے کا ردھم اور رفتار برقرار رہتی۔ میں اوپر جاتے جھولے کو ہاتھ لگاتا۔ کبھی ہاتھ کی گرفت ذرا پکی پڑ جاتی تو ایک دو فٹ اوپر جا کر ہاتھ پھسل جاتا۔ پھر میں دونوں ہاتھ تختے پر مارنے لگا۔ میرا یہ ایکشن کسی کے نوٹس میں نہ آیا۔ ایک بار دونوں ہاتھ زیادہ مضبوطی سے پڑ گئے تو میں جھولے کے ساتھ اوپر چلا گیا یہ اونچائی بارہ تیرہ فٹ ہو گی عین اوپر یعنی پوری اونچائی پر گیا تو ہاتھ چھوڑ دیئے یا چھوٹ گئے،اس لمحے احساس ہوا کہ اب زندہ نہیں بچ پاؤں گا۔ ہاتھ چھوٹتے ہی تو دھرے کے اوپر آ گرا۔ یہ دھرا جھولے کے سنٹر ایکسل کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس پر گرنے کے بعد زمین پر آ رہا۔ یوں لگا جیسے گلہری درخت کی ایک شاخ سے نیچے دوسری شاخ پرآکر زمین پر چھلانگ لگاتی ہے۔ مجھے لگا اوپرسے کسی نے پہلے دھرے اور اس کے بعد کسی نے زمین پر پٹخ دیا ہے۔ درمیان دھرا نہ ہوتا تو میں عین نیچے والی ڈولی میں بچوں یا تختے کی سائیڈ پر گرتا۔

دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا اگر 13 فٹ سے براہ راست زمین پر آتا تو ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی۔ میں دھرے پر گرا تو اس دوران نیچے والا جھولا گزر چکا تھا اور اس کے بعد آنیوالا ابھی نیچے نہیں آیا تھا۔ میں نیچے گرا تو میرے اٹھنے تک یہ ڈولی اوپر سے گزر گئی۔ اس کے گزرتے ہی میں اٹھا اور بچوں کے درمیان سے ہوتا ہوا تھوڑا دور جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس سارے عمل میں مرا کوئی کمال نہیں۔ سارا کچھ قدرتی طور پر ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی کسی کو خبر نہ ہوئی۔ میں وہاں کھڑا کچھ دیر سوچتا رہا کہ میرے ساتھ ہوا کیاہے! میں بچ کیسے گیا!!۔ بظاہر مجھے کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔ خون نکلا نہ کسی ہڈی کو نقصان پہنچا مگر مجھ سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ گھر آ کر سو گیا دوسرے دن پورے جسم میں دردیں اٹھ رہی تھیں۔ تاہم جان بچ جانے پر حیرانی تھی اور قوت گویائی بھی واپس آ چکی تھی۔
٭٭٭
اکرام الحق علوی فورمین کنسٹرکشن کمپنی شارجہ 
1994ء میں ہم بارہ افراد دبئی سے حج کیلئے کوسٹر میں روانہ ہوئے۔ میرے پوری فیملی کے افراد:اہلیہ صائمہ اکرام، بیٹے شہباز اکرام علوی، عارف اکرام علوی اور بیٹی صبا اکرام ساتھ تھے۔ ہم نے ایک ساتھی کو ڈرائیور شو کرایا۔ کوسٹر کرائے پر لی تھی۔ سفر بڑا اچھا کٹ رہا تھا۔ان دنوں ہر پٹرول پمپ پر زائرین کی سہولت کے لئے شامیانے لگا دیئے جاتے ہیں۔ہم رات سونے کے لئے پمپس پر رُکتے رہے؛سعودی عرب اور عرب ریاستوں میں چوری، ڈکیتی، رہزنی اور قذاقی کا تصور ہی نہیں ہے، حج کے لئے جا رہے تھے اس لئے روحانی کیفیت کا طاری ہونا فطری امر تھا۔ تیسرے روزمکہ سے تین گھنٹے کی مسافت پر تھے۔ کوسٹر 135 کلومیٹر کی سپیڈ سے رواں تھی، ایک موڑ پر کوسٹر بڑے ٹرالر کو اوورٹیک کرنے لگی۔ٹرالر کی سپیڈ بھی125ایک سو تیس تھی، ٹرالر کے پاس سے گزرتے ہوئے ہوا کے دباؤ کی وجہ سے ڈرائیور کوسٹر پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا جس کے باعث کوسٹر سڑک سے نیچے لُڑھکی؛ فیسنگ کو توڑتے؛جمپ لگاتے ہوئے چیک پوائنٹ کے ساتھ اس شدت سے ٹکرائی کہ اس کی فرنٹ سائیڈ پیچھے کی طرف ہوگئی۔جمپوں کی شدت سے کوسٹر کے گیٹ کھل گئے۔ ڈرائیور کی کھڑکی سے باہرگرکر ٹانگ ٹوٹ گئی۔کوسٹر کے اگلے حصے کی بُری حالت تھی۔اسٹیئرنگ اور ڈرائیور کی سیٹ ایک دوسرے پیوست ہوچکی تھی۔ڈرائیور نہ گرتا تو اس کازندہ بچنا ممکن نہیں تھا۔

میں اگلی سیٹ پر تھاکھڑکی سے گراتو کوسٹر میرے اوپر آ گئی۔ میں ہوش میں تھا کوسٹر کا گیٹ میرے چہرے پر تھا۔ میں نے سمجھ لیا آخری وقت آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زبان سے کلمہ شہادت اَشھَدُ اَنُ لَّا اِلَہَ اِلّا اللّٰہُ۔۔ جاری ہو گیا۔ میرے جسم کا زیادہ حصہ کوسٹر کے نیچے جبکہ پاؤں باہر تھے۔ پولیس یا امدادی ٹیم کی آمد تک اس حالت میں پڑے رہ کر زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔ اِدھر ہماری کوسٹر حادثے کا شکار ہوئی اُدھر ایک ایسی ہی کوسٹر وہاں آکر رکی۔ اس میں پندرہ سولہ پٹھان سوار تھے۔ وہ فوری طور پر اتر کر اُلٹی ہوئی کوسٹر کی طرف بڑھے۔ ایک نے مجھے اس حالت میں دیکھ کر کہا یہ تو مر چکا ہے۔ ان لوگوں نے زور لگا کر کوسٹر سیدھی کر دی۔ میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ میرا جبڑا ٹوٹ گیا تھا تاہم میرے فیملی کے تمام ممبر بالکل محفوظ رہے۔ صبا شیرخوار تھی، شہباز کی عمر 5سال اورعارف کی عمر تین سال تھی، تھوڑی دیر بعد پولیس آ گئی۔ وہاں کا اصول ہے۔قانون یا روایت ہے کہ حادثے کی صورت میں زخمیوں مکہ نہیں لیجایاجاتا۔جائے وقوعہ سے آگے اور مکہ سے پہلے ہسپتال نہ ہو تو زخمیوں کو وہاں سے پیچھے موجود ہسپتال میں لے جایا جاتا ہے۔ہمیں بھی وہاں سے پیچھے لاکر ایک ڈسپنسری میں طبی امداد دی گئی۔
اس کے بعد ہمیں ایک امتحان اور آزمائش سے گزرنا پڑا، ان لوگوں کا سلوک تکلیف دہ تھا، ہمیں ہسپتال تو لیجایا گیا ساتھ ہی پولیس انکوائری بھی شروع ہو گئی، جس شخص کی ٹانگ ٹوٹی تھی اس کی دوسری ٹانگ اس کے فرار ہونے کے خطرے کے باعث باندھ دی گئی۔ دس بارہ دن بعد واپس آنے کے لئے ایمریٹس ائیرلائن کی ٹکٹیں کرائیں۔ایئر پورٹ پہنچے تو ہمیں جہاز تک جانے سے روک دیا گیا۔ ہمیں کہا گیا۔”آپ بائی روڈ آئے ہیں بائی ائیر نہیں جا سکتے۔“ یہ اطلاع پائلٹ تک پہنچی تو وہ وہاں دیگر عملے سمیت چلا آیا مگر سعودی ایئر پورٹ کے حکام نہ مانے۔پبلک ریلیشن افسر کو اس معاملے کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے ہماری مدد کی۔انہوں نے ہماری حالت دیکھتے ہوئے عملے سے کہا۔”جتنا جلد ممکن ہے انہیں جہاز میں سوار کر کے دبئی بھجوایا جائے“۔دبئی پہنچے توحکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ وی آئی پی سلوک کیا گیا۔جن کی ٹانگ ٹوٹی تھی ان کیلئے ویل چیئر جہاز میں لائی گئی جبکہ سعودی عرب میں ایئر پورٹ پر وہ ایسی ہی ویل چیئر پر بیٹھے تھے تو ایئر پورٹ عملے نے چیئر خالی کرنے کو کہاتھا تاہم ہماری منت سماجت پر وہ زخمی کو پھٹے پر ڈالنے سے باز رہے۔
سمندر پار پاکستانیوں کیلئے پیسے درختوں پر نہیں لگتے، خون پسینہ بہانا پڑتا ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ اس محنت کا معاوضہ عموماً پاکستان کی نسبت بہت بہتر ہوتا ہے، کوسٹر کرائے کی تھی۔ اس کا نقصان پورا کرنا تھا، تیسرے حصے میں مجھے 55 ہزار درہم ادا کرنا تھے، یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کی ادائیگی کیلئے بچوں کو پاکستان بھجوا دیا جہاں وہ اگلے پانچ چھ سال رہے۔ 2000ء  میں ان کو دوبارہ اپنے پاس بلایا، اس سال میں نے اہلیہ سمیت بس کے ذریعے جا کرحج ادا کیا۔
٭٭٭
پروفیسر فہمیدہ کوثر 
 پُراسراریت 

یہ 1983ء کا انوکھا واقعہ جس نے مجھے نہ صرف غم کی حقیقت کے قریب کردیا بلکہ ایک روحانی نظام سے بھی متعارف  کرادیا کہ زندگی اور موت کے درمیان حقیقتیں خدا کی وجودیت کا احساس دلاتی ہیں۔ میں اور میرے شوہر احمد حسن بہاولپور سے ملتان کی طرف کار میں روانہ ہوئے۔ شادی کو دو ماہ ہوئے تھے۔نئی زندگی نئی خوشیوں کا احساس ہمارے دلوں میں موجزن تھا۔ یکایک منیر آباد کے قریب ملتان کے ایک بہت بڑے زمیندار خالد مڑل کی کار ہماری کار سے اتنی شدت ٹکرائی کہ دونوں گاڑیاں آپس میں بری طرح ایک دوسرے میں پھنس گئیں۔ میرے شوہر کی تو موقع پر موت ہوگئی۔ میں نے شدید چوٹیں کھائیں لیکن بے ہوشی سے قبل ایک حیرت انگیز منظر جو میری نظروں کے سامنے گزرا وہ ہمیشہ کے لئے میرے دل و دماغ میں پیوست ہوگیا۔ وہ یہ تھا کہ میں نے بذات خود ان آنکھوں سے چند سفید لباس والے دیکھے وہ گلے میں بڑے بڑے موتیوں کی مالائیں پہنے ہوئے تھے۔ گاڑی کے اِردگِرد موجود تھے۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں مَیں بارہا یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ یہ کون لوگ ہیں جو یہاں موجود ہیں اور کس دنیا کے لوگ ہیں۔ میں نے بمشکل اپنے شوہر کی طرف دیکھا جن کا سر ٹوٹ کر علیحدہ ہوچکا تھا اور پسلیوں میں سٹیئرنگ گھس چکا تھا۔ میرے ذہن میں یکدم یہ بات آئی کہ میں ان سفید لباس والوں سے کہوں کہ ہماری مدد کریں۔ مجھ میں اتنی سکت ہی نہیں تھی کہ کچھ کہہ پائی۔ ہاتھ اٹھا کر بت کی طرح ساکت لوگوں سے کچھ کہنا چاہا اور ہاتھ نے ساتھ نہ دیا۔ تکلیف کی شدت سے بے ہوش ہوگئی۔

جب ہوش آیا تو منیر آباد کے لوگ ہمارے اردگرد اکٹھے ہمیں اس دھنسی ہوئی کار سے نکال رہے تھے۔ لیکن شدید زخمی حالت میں میری نظریں ان سفید کپڑے اور مالاؤں والوں کو ڈھونڈ رہی تھیں جو بے ہوشی سے قبل گاڑی کے اردگرد موجود تھے۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس واقعہ نے ہمیشہ یہی سوال میرے ذہن میں زندہ رکھا کہ وہ لوگ اتنے بڑے ایکسیڈنٹ میں میرے مددگار تھے۔ اگر نہیں تو کون تھے؟ میں آج تک سمجھ نہیں پائی ہوں۔ 
٭٭٭

جنرل راحت لطیف اپنی کتاب راحت بیتی میں لکھتے ہیں، ”گلگت میں پولو کا میچ دیکھتے ہوئے میرے اندر بھی پولو کھیلنے کی تحریک پیدا ہونا شروع ہوئی۔ گھوڑ سواری کا شوق تو تھاہی۔ کیپٹن صادق ایک گھوڑے پر نظر آتے تھے جو میری توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ گھوڑا بہت مضبوط اور تیز رفتار تھا اور یقیناً اس پر بیٹھنے والا اور اس کو سنبھالنے والا بھی مضبوط انسان ہو گا۔ اس گھوڑے کا نام ہی adjutat's Horse تھا۔ مجھے اس گھوڑے پر سواری کرنے کے شوق نے آگھیرا حالانکہ میں جانتا تھا کہ یہ گھوڑا منہ زور اور میں نیا ہوں۔
ایک روز آرمی کے تین ڈاکٹر میجر راٹھور، کیپٹن ہمدانی، کیپٹن صدیقی اور میں گھوڑوں پر سوار ہو کر لیفٹیننٹ کرنل انیس خان جو ایجنسی سرجن تھے، سے ملنے چل نکلے ارادہ یہ تھا کہ ان کو ساتھ لے کر ہم Trail Ride پر جائیں گے۔ میری آتش شوق نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس Adjutant's Horse کو آزماؤں، پیٹھ پر سوار ہو کر مجھے اپنا آپ خاصا جنگجو محسوس ہو رہا تھا۔ ایک پہاڑی ڈھلوان سے اترتے ہوئے نجانے کیا ہوا، اس کا رخ میس کی طرف تھا جہاں پر گھوڑوں کا اصطبل تھا، میں جتنی اس کی لگامیں کھینچتا وہ اتنا ہی تیز دوڑتا۔ اس کو شاید میری ناتجربہ کاری اور ناپختگی پر غصہ آ گیا تھا اور مجھے بھی معلوم ہو گیا تھا کہ اب یہ قابو میں نہیں آئے گا۔ میں آنکھیں بند کر کے اس کے گلے کے ساتھ چمٹ گیا اور پھر مجھ پر وہ مقولہ صادق آگیا کہ ہر شوق کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا اور میرے سرہانے دو ڈاکٹر موجود تھے۔ مجھے آنکھیں کھولتا دیکھ کر دونوں نے اطمینان کا سانس لیا مجھے اپنا سر اس قدر بھاری محسوس ہو رہا تھا کہ اس کو ہلانا دشوار تھا۔ ذرا سا ہلاتا تو کمرہ چکر کھانے لگ جاتا۔ 

اس سانحے کی تفصیل کچھ یوں موصول ہوئی: بے قابو گھوڑا میس کی دیوار پھلانگ کر اندر جانے لگا تو گیٹ پر کھڑے سنتری نے شاید اپنے بچاؤ کے لئے چھڑی لہرا دی، گھوڑے نے خوفزدہ ہو کر پلٹا کھایا جس سے میں جھٹکا کھا کر گرا اور میرا سر جو اس قدر بھاری محسوس ہو رہا تھا، دیوار سے ٹکرایا تھا مگر چکنا چور ہونے سے بچ گیا تھا۔ بے ہوش ہونا لازم تھا سو وہ ہم ہوئے لیکن ہوش و حواس درست ہونے کے بعد بھی مجھے دو ہفتے تک مکمل آرام میں رہنا پڑا کیونکہ جان ناتواں جگہ جگہ سے چٹخ گئی تھی۔ ایک سال کے بعد دوبارہ من میں موج اٹھی، اپنی اس درگت کے ذکر کے بعد اپنی فتح کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں۔
میرے ڈاکٹر دوستوں کا خیال تھا کہ مجھے اپنا خوف اور حادثے کی دہشت کو ذہن سے محو کرنے کیلئے دوبارہ گھوڑ سواری کرنی چاہیے۔ ان لوگوں نے مجھے ذہنی طور پر تیار کیا اور ایک اصیل گھوڑے پر بیٹھ کر پولو کھیلنے پر مجبور کیا۔ اس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور آہستہ آہستہ میری خود اعتمادی لوٹ کر آنے لگی جو ایک سپورٹس مین کیلئے بے انتہاء ضروری ہے۔ خوف کے ساتھ جینا یوں بھی میرے خیال میں ایک فوجی افسر کے شایان شان نہیں۔ میرے ذہن کی بحالی صحت اس روز مکمل ہوئی جس دن میں دوبارہ Adjutant's horse پر سوار ہوا اور پولو کھیلی، اس فتح جانفزا کا لطف صرف میں ہی جانتا ہوں، الفاظ ناکافی ہیں۔ میں نے اس سرکش کو سرنگوں کیا اور اسے محسوس کروا دیا کہ میں اب وہ پہلے والا اناڑی نہیں بلکہ ایک مشاق کھلاڑی ہوں۔ میرے غصے نے مجھے گلگت کے بہترین پولو کھلاڑیوں کی صف میں شامل کردیا۔
 Elain سے ملنے کے بعد میں نے شمالی علاقہ جات کو زیادہ محسوس کیا اور اپنے گرد و نواح کو صرف سرسری نہیں بلکہ گہری اور تجسس آمیزنظروں سے دیکھا، واقعی قدرت کے حسن سے مالا مال یہ علاقے ہیں،مجھےsector Olding میں تعینات کر دیا گیا تھا، یہ جگہ سکردو سے 84 میل دور تھی، زیادہ سڑک لیکن کچھ راستہ گھوڑوں پر سوار ہو کر طے کرنا پڑا۔ اس سیکٹر میں مزید تنہائی تھی  اس لئے اپنے آپ کو مصروف رکھنا لازمی تھا۔ میں اکثر اپنے چوٹیوں پر ڈیوٹی دیتے بہادر سپاہیوں سے ملنے چلا جاتا جو سخت ترین موسم میں بھی اپنے مورچوں میں چاک و چوبند بیٹھے رہتے تھے۔ ایک جواں سال کیپٹن کیلئے یہ دور کافی صبر آزما تھا اور حادثات سے پر بھی، فوجی زندگی میں ہر دم تیار اور ”یس سر“ کہنے کی تربیت مکمل ہو چکی تھی۔
ایک دن ہمارے کمانڈنگ افسر گلگت سے سکردو تشریف لائے، کارگل بھی اس محاذ پر ہے۔ قیام کے دوران انہوں نے Sector Olding کا دورہ بھی کرنا تھا۔ دورہ سے ایک روز پہلے میں مع اپنے عملہ بذریعہ جیپ Olding کیلئے روانہ ہو گیا۔ میرے عملہ میں میرا ڈرائیور ابراہیم، خانساماں مرزا اور کلرک کفایت شامل تھے۔ یہ 6 گھنٹے کا طویل سفر تھا۔ پہاڑ کو کاٹ کر سڑک بنائی گئی تھی۔ چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنی اس سڑک پر گاڑی کو بریک لگانا خاصا مشکل تھا کیونکہ گاڑی کے ٹائر سڑک پر جم نہیں پاتے تھے۔ ان راستوں پر چلنے والے تجربہ کار ڈرائیور خوب جانتے ہیں، ایسی صورت میں گاڑی کو کیسے چلانا ہے۔ اس روز وہیل میں نے سنبھال لیا۔ پہاڑوں میں شام بہت جلدی ہو جاتی ہے۔ سردیوں میں دوپہر کے دو بجے ہی سورج ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے اور ساڑھے تین بجے دن ڈھل جاتا ہے۔ ہم لوگ باغیچہ گاؤں کے قریب پہنچ رہے تھے۔ جہاں سے آگے سڑک جیپ کے قابل بھی نہیں رہتی تھی، اس کے بعد کا سفر گھوڑوں پر کرنا تھا۔ ہمیں یہ تمام سفر ایک ہی دن میں کرنا تھا تاکہ ہم CO کے پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچ کر ان کا استقبال کر سکیں۔خدا جانے کیا ہوا ایک بہت ہی ٹیڑھا موڑ کاٹتے ہوئے جیپ skid کر گئی۔ میں سٹیرنگ پر قابو نہ رکھ سکا اور جیپ قلا بازی کھاتی ہوئی نیچے دریا کی طرف لڑھک گئی۔ خوش قسمتی سے راستے میں ایک بڑا پتھرتھا جس کی وجہ سے وہ رک گئی مگر چھت کے بل! کچھ دیر تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ میں کہاں ہوں اور کیوں ہوں لیکن جیسے جیسے حواس واپس آئے تو میں نے اپنے آپ کو ہلا کر دیکھا۔ ہر چیز محسوس ہوئی ہاتھ پاؤں اور پھر میں نے ہلنے کی کوشش کی تو کامیابی ہوئی۔ اپنے آپ کو کھینچ کر باہر کیا، کوئی خاص چوٹ نہیں آئی تھی۔ ڈرائیور اور خانساماں پہلے ہی باہر نکل چکے تھے مگر زخمی تھے۔ خدا کا شکر ادا کیا۔ اچانک خیال آیا؛ میرا کلرک کفایت کہیں نظر نہیں آیا۔ ادھر ادھر سے آوازیں دیں مگر جواب نہ ملا، جیپ میں بھی نہیں تھا، آخر کدھر گیا۔ پھر دیکھا تو بیچارہ جیپ کے نیچے بیہوش پڑا تھا اور بیڑی کا تیزابی پانی اس کی آنکھوں میں گر رہا تھا۔ کھینچ کر تو اسے نکالا نہیں جا سکتا تھا۔ دوسرے دونوں ساتھی زخمی تھے اور جیپ کو اٹھانے میں مدد نہیں دے سکتے تھے۔ ایک دم خیال آیا کہ اگر لمبے ہینڈل کو استعمال کیا جائے تو شاید جیپ ہل سکے میں نے ہینڈل کو سامنے والے بمپر کے نیچے رکھا خدا سے مدد کی دعا کی اور پورا زور لگا کر جیپ کو اٹھانے کی کوشش کی۔ جیپ اٹھ تو گئی مگر اتنی نہیں جس سے کفایت کو باہر کھینچا جا سکتا۔ میں نے ہمت نہیں ہاری ایک اور کوشش کیلئے سوچا کہ جیک سے مدد لی جائے۔ میں نے ڈرائیور سے کہا۔”ہمت کرو، میں جیپ کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں تم جلدی سے ایک کونے میں جیک لگا دو۔“ ایک بار پھر اللہ کو یاد کیا مدد مانگی اور زور لگا دیا۔ جیپ اوپر اٹھی ڈرائیور نے جلدی سے جیک لگا دیا۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور کفایت کو گھسیٹ کر باہر نکال لیا پھر میں دوڑ کر نیچے دریا تک گیا اور دریا کا ٹھنڈا پانی کین میں بھر کر لایا تاکہ اس سے زخمی کی آنکھوں کو دھویا جائے جو تیزابی پانی پڑنے سے دھندلا رہی تھی۔ ٹھنڈے پانی نے اثر دکھایا اور کفایت کو سکون محسوس ہونا شروع ہوا۔ شام ہو چکی تھی اور شدید سردی سے ہم ٹھٹھر رہے تھے۔ میں نے اپنا بستر زمین پر بچھا کر کفایت کو لٹا دیا تھا اور رضائی اس کے چاروں طرف لپیٹ دی تھی۔ اس مرحلے کے حالات کو بھگت کر اب آگے کیلئے سوچنا شروع کیا تاکہ زخمیوں کیلئے امداد حاصل کی جائے۔ میں نے ڈرائیور کو ساتھ لیا اور نزدیک ترین ٹیلیفون کے کھمبے تک پہنچا تاکہ اپنے ایمرجنسی ٹیلی فون سیٹ کو اس کے ساتھ لگا کر مدد کیلئے پیغام دیا جا سکے۔ کھمبے تک پہنچ کر میں نے ڈرائیور کو اپنے کندھوں پر کھڑا کیا تاکہ وہ تار جوڑ سکے۔ اس بیچارے کا ایک ہاتھ زخمی تھا وہ صرف اپنے ایک ہاتھ کو استعمال کر رہا تھا۔ بہرحال کافی تگ و دو کے بعد وہ تاریں جوڑنے میں کامیاب تو ہوا لیکن ہمارا سیٹ خراب ہو چکا تھا؛ ہم آپریٹر کی آواز سن سکتے تھے، ہماری آواز ان تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ بہرحال اپنے آپ کو حالات کے حوالے کرتے ہوئے پھر خدا سے مدد کی دعا کی اور انتظار کرنے لگے کہ آخر کوئی تو ادھر سے گزرے گا مگر کب، یہ معلوم نہ تھا۔ تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی کہ ایک گھوڑ سوار آتا نظر آیا۔ میں نے بھاگ کر اسے روکا اور درخواست کی اگر وہ مجھے اپنا گھوڑا دیدے  تاکہ میں اس کو دوڑاتے ہوئے سات میل دور ڈسپنسری تک پہنچ جاؤں اور زخمیوں کیلئے طبی امداد اور ان کو لیجانے کا بندوبست بھی کروں لیکن اس نے معذرت کی اور کہنے لگا کہ وہ اسی طرف جا رہا، وہ ہمارا پیغام  وہاں پہنچا دے گا۔ اسی دوران ایک گھوڑوں کا قافلہ جو رسد کا سامان لے جا رہا تھا نظر آگیا ان کو روکا ہم باقی لوگ تو گھوڑوں پر بیٹھ کر ڈسپنسری تک پہنچ سکتے تھے مگر مسئلہ بیچارے کفایت کا تھا جسے ہلانا مشکل تھا گھوڑے پر سفر تو درکنار۔ خیر میں نے فیصلہ کر لیا اپنا اسلحہ ڈرائیور کے حوالے کیا اور خود پیدل اس قافلے کے ساتھ چل پڑا۔ ہم تقریباً ڈسپنسری کے قریب پہنچ چکے تھے کہ دور سے کسی آنے والی گاڑی کی روشنیاں ڈوبتی اور ابھرتی نظر آئیں۔ گاڑی ہمارے قریب پہنچی تو معلوم ہوا یہ ہماری ہی جیپ تھی جسے سکردو سے ہماری مدد کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ اسے سکردو میں پیغام ملا تھا کہ کیپٹن صاحب کی جیپ میں کوئی فنی خرابی پیدا ہو گئی ہے اس لئے انہیں متبادل جیپ اور کھانے کی ضرورت ہے جو ان تک پہنچایا جائے۔ہمارا مقصد حل ہو گیا۔ فنی خرابی یا ایکسیڈنٹ کے بعدمدد چاہیے تھی جو مل گئی اور ساتھ یہ بھی یقین ہو گیا:خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ہم زخمیوں تک پہنچے ان کو ساتھ لیا اور سکردو کی طرف روانہ ہو گئے۔ کفایت کی نظر بچ گئی جس کی مجھے ازحد خوشی ہوئی، آنکھیں بہت بڑی نعمت ہیں۔
حادثات زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا درس دیتے ہیں۔ موت سے ٹکرا کر جب زندگی کا لمس محسوس ہوتا ہے تو اس کی لذت ہی اور ہوتی ہے۔ ایک فوجی کی زندگی میں تو یہ جانفزا لمحے کئی بار آتے ہیں۔
ایک اور حادثے کا ذکر بھی ضمناً کرتا چلوں، جہاں سے بچ نکلنا بھی ایک معجزہ تھا۔ ہوا یوں کہ گرمیوں میں UNO کے میجر Bidgood کے ہمراہ ایک UN جیپ میں سکردو سے اولڈنگ جا رہے تھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کے واقعات کو UN Observers ہی نمٹایا کرتے تھے۔ جب ہم جیپ کیلئے بنائی گئی سڑک کے اختتام کے قریب پہنچے تو یکایک سڑک بیٹھ گئی اور جیپ قلا بازی کھاتی ہوئی نیچے دریا میں جا گری۔ دریا میں طغیانی تھی میجر Bidgood کے پاس ایک تیز دھاڑ بڑا سا چاقو تھا۔ اس نے کمال تیزی سے جیپ کی Canvas کی چھت کو پھاڑا تاکہ ہم لوگ چھت کے ذریعے باہر آ سکیں۔ ہم نے تیزی سے باہر چھلانگیں لگائیں اس سے پہلے کہ پانی کا تیز ریلا ہمیں بہا کر لے جائے۔ ارد گردکے لوگ جو ہمیشہ مدد کیلئے تیار رہتے ہیں۔ سب وہاں پہنچ گئے۔ ہم بھی بچ گئے اور جیپ بھی بچ گئی جسے گاؤں والوں نے مل کر نکال لیا۔

متعلقہ خبریں