چیف جسٹس بائے

2019 ,جنوری 11



مقدر تخت شاہی ہو یا قسمت رو سیاہی ہو، زندگی پھولوں کی سیج پر گزرے یا کانٹوںکے آنگن اور دامن میں جو انسان دنیا میں آیا ہے اس نے اس عالم کی طرف لوٹنا ہے جس سے آگے کچھ ہے نہ واپسی کا راستہ۔ انسان کے دنیا میں پہلا قدم رکھتے ہی کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع اور موت کی طرف سفر شروع ہوجاتاہے۔ جِسے ہم زندگی کی طرف سفر کہتے ہیں۔ کچھ کی زندگی میں ایسی آسائشیں کہ موت کی وادی میں اترنے تک پتہ ہی چلتا ہے زندگی کیسے کٹی‘ کچھ کی زندگی کے شب و روز ایسے، دو آروز میں کٹ گئے دو انتظارمیںاور کئی کیلئے موت کی دہلیز تک پہنچنے کا ہر لمحہ کٹھن، عتاب اور عذاب بن کر گزرتا ہے۔ اس سب کے باوجود ہر شخص کی اپنی اہمیت کے ساتھ ناگزیریت بھی ہے۔ رب کائنات نے کچھ بھی بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ انسان تو انسان کیرے مکوڑوں،چرند پرند اور نباتات و جمادات کی بھی کوئی نہ کوئی مقصدیت ہے۔ انسان کی جہاں ناگزیت ہے وہی بڑے سے بڑا شخص بھی کائنات کے لئے ناگزیر نہیں ہے۔ کسی کے بھی بغیر کائنات کی روانی میں پرِ کاہ کا بھی فرق نہیں آتا۔ انسان کے دنیا میں آنے کی طرح جس طرح جانا اٹل حقیقت ہے، اسی طرح ملازمت سے ریٹائر ہونا بھی ہوتا ہے۔ سفارشوں سے ملازمت میں توسیع در توسیع بھی بالٓاخر ریٹائرمنٹ پر منتج ہوتی ہے۔ البتہ امریکہ میں چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کیلئے عمر کی کوئی قید نہیںتاہم مرضی سے ریٹائرمنٹ لے سکتا ہے۔ 
امریکی چیف جسٹس کیلئے یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ آج جان رابرٹ امریکہ کے چیف جسٹس ہیں ان کی تعیناتی 2005ءمیں ہوئی تھی ۔ امریکہ میں عدلیہ آزاد اور کسی دباﺅ سے ماورا ہے۔ دو ماہ قبل ٹرمپ نے سیاسی پناہ کیلئے آنے والے تارکین وطن پر پابندی لگائی تو سیریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا۔ اس پر لاابالی طبیعت کی شہرت رکھنے والے صدر ٹرمپ نے شدید تنقید کی ۔ اس موقع پرجان رابرٹ نے کہا۔” ہمارے پاس اوباما، ٹرمپ، بش، کلنٹن جج نہیں۔ ہمارے ہاں غیر معمولی عزم کے حامل ججز ہیں جو مساوات پر مبنی فیصلے کرتے ہیں“۔ اس پر ٹرمپ کے پاس تلملانے کے سوا چارہ نہیں تھا۔ امریکی سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد نو ہے۔ 
ہمارے ہاں چیف جسٹس پاکستان کیلئے سینئر موسٹ جج اپنے پشرو کی ریٹائرمنٹ مقرر کیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔ 65 سال پورے ہونے میں جتنا عرصہ ہو، اس مدت کے بعد ریٹائرمنٹ۔نہ صرف چیف جسٹس بلکہ کسی بھی جج کی شہرت کردار اور فیصلوں کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری 2019ءکو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کے دور کے بہت سے فیصلوں نے ان کی شخصیت کو نمایاں کیا ہے۔ میاں نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ ان کے دور کا بہت بڑا فیصلہ تھا۔ میاں نوازشریف بھاری بھرکم سیاسی شخصیت اور عوام کے ایک حلقے میں مقبول ہیں۔ ان کی نااہلی اور بعد ازاں قید اور جرمانوں کی سزاﺅں کیخلاف اس حلقے کی طرف شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا۔ یہ حلقہ ان فیصلوں کو متنازعہ قرار دیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جوان فیصلوں کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق درست اور جرأت مندانہ قراردیتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے مختصر مدت میں بڑے بڑے فیصلے کئے۔ ڈیمز کی تعمیر کے احکامات جاری اور فنڈز کا اعلان کیا جس میں اندرون و بیرون ممالک پاکستانیوں نے جہاں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہیں ان کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں نے فنڈز کی مخالفت کی۔ جسٹس ثاقب نثار کارکردگی،کردار اور فیصلوں کے باعث تادیر پاکستانیوں کے حافظے میں رہیں گے۔ انہوں نے بہت سے سوموٹوز لئے، ان کے دوست اور خیر خواہ کچھ ماہ سے کہہ رہے تھے کہ انہوں نے جو معاملات کھولے یا ”کھلارے“ ہیں، انہیں سمیٹنے کوشش کریں۔ انہوں نے بھی ایک مرتبہ کہا کہ میں نے جو معاملات شروع کئے ان کو ختم کر کے جاﺅں گا۔ ایسا ہوا یا نہیں مگر اسکی ضرورت نہیں۔ عدلیہ کسی شخصیت کا نام نہیں،ایک نظام ہے۔ انہوں نے معاملات جہاں چھوڑے وہیں سے آگے چلانے کے لئے سسٹم موجود ہے۔ 
 پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ عدلیہ فوج اور سیاست میں بہتری ہی نہیں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے جنرل کیانی کے بعدپاک فوج کی عزت وقار اور ”اختیار“ میں اضافہ کرنے میں کردار ادا کیا جاں نشین کیلئے وہ ہائی سٹینڈرڈ چھوڑ کے جا رہے ہیں۔ جنرل باوجوہ کی کارکردگی بھی مثالی رہی۔ جنرل راحیل آخر تک دہشت گردی اور کرپشن کا گٹھ جوڑ توڑنے کیلئے کوشاں رہے جبکہ جنرل باجوہ نے یہ گٹھ جوڑ توڑ کے دکھا دیا۔ سیاست کے اعلیٰ ایوان کرپشن اور منی لانڈرنگ کے لئے شہرت پا گئے تھے۔ آج ایسی کوئی افواہ اور قیاس آرائی تک نہیں ہوتی۔ جسٹس سسٹم انور ظہر جمالی کے بعد مزید پیوری فائے اور ریفائن ہوا ہے. جسٹس میاں ثاقب نثار کے فیصلوں کی زد میں آنے والے تعصب کی تہمت باندھتے اور بہتان لگاتے ہیں مگر انکے جھکنے یا بکنے کی کسی نے بات نہیں کی۔ بدعنوان بے ایمان خائن اور چوروں لٹیروں کا کوئی ہمدرد ہے تووہ بھی اسی کیٹگری میں شامل ہوتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے پیشرو انور ظہیر جمالی عوام کواحتساب کی بتی اور فلم دکھاکر چلے گئے۔ مگرجسٹس ثاقب نثار کسی مصلحت اور دباﺅ میں نہیں آئے۔ گو ان کے کچھ فیصلوں، ریمارکس، رویوں، تقاریر اور بیانات پرتنقید ہوسکتی ہے مگرمجموعی طورپر ان کے فیصلوں سے عدلیہ اور ان کی عزت میں اضافہ ہوا۔ کچھ حلقے ان کی ریٹائرمنٹ پر شادیانے بجا رہے اور کچھ سوگ منا رہے ہیں، مگر جاں نشیں ان سے زیادہ نہیں تو کم بھی ثابت نہیں ہونگے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے بولتے چلے آئے ہیں۔ ان کے پاس محض ایک سال سے بھی کم عرصہ ہے مگر وہ اس دوران بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ لٹریری شخصیت ہیں۔ ادب و شاعری سے شغف ہے ایسے لوگ حساس اور آئیڈیلسٹ ہوتے ہیں۔ ایسی سوچ پاکستان اور ہمارے عدالتی نظام کے لئے مثالی ہوسکتی ہے۔ وہ پاکستان کو جس طرح آئیڈیل دیکھنا چاہتے ہیں اس کا اظہار اس پانچ رکنی بنچ کے فیصلے میں الگ نوٹ سے ہوسکتا ہے جس فیصلے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو علامتی سزا سنائی گئی تھی۔ جسٹس کھوسہ ہی اس پانچ رکنی بنچ کے بھی سربراہ تھے جس نے میاں نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ سنایا، اس فیصلے میں جسٹس کھوسہ نے گاڈ فادر کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلے میں الگ نوٹ میں خلیل جبران کی نظم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:
 قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں لیکن دل یقین سے خالی ہے۔ ایسے کپڑے پہنتی ہے جن کو اس نے خود نہیں بُنا۔ایسی روٹی کھاتی ہے جس کے لیے گندم اس نے خود نہیں ا±گائی،جو بڑھکیں لگانے والوں کو اپنا ہیرو بنا لیتی ہے، چمکتی تلوار لے کر آنے والوں کو اپنا داتا سمجھتی ہے۔بظاہر حالتِ خواب میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے لیکن حالتِ بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعار بنالیتی ہے۔جو جنازوں کے جلوس کے علاوہ کہیں اپنی آواز بلند نہیں کرتی اور اپنے ماضی کی یادوں کے سوا ا±س کے پاس فخر کرنے کا کوئی اور سامان نہیں۔اُ±س وقت تک آوازِ احتجاج بلند نہیں کرتی تاآنکہ اس کی گردن تلوار تلے نہ آجائے۔قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے نام نہاد سیاست دان لومڑیوں کی طرح مکار اور دھوکے باز کے سوا کچھ نہیں ہوتے جس کے دانشور محض شعبدہ باز اور مداری، جن کے فنون کا عالم یہ ہے جیسے مسخروں کی جگت بازیاں اور بھانڈوں کی نقلیں۔قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنے نئے حکمرانوں کے راستے میں ہار لیے کھڑی ہوتی ہے جب وہ اقتدار سے محروم ہوں تو ان پر آوازے کستی اور ان کا تمسخر اڑاتی ہے اور عین اس وقت بھی اس بات کے لیے آمادہ رہتی ہے کہ یہ اقتدار سے جائیں تو رکھے ہوئے بینڈ باجے بجا کر انہیں رخصت کریں۔وہ قوم جو ٹکڑوں اور قومیتوں میں بٹ چکی ہے اور جس کا ہر طبقہ اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہے۔جسٹس کھوسہ خلیل جبران سے معذرت کے ساتھ کہتے ہیں موجودہ صورتحال میں الفاظ کچھ یوں ہیں قابل رحم ہے وہ قوم جو جمہوریت کو اپنا معاشرہ کہتی ہے، ووٹ ڈالنے کے لئے قطار بنانے سے روکتی ہے جو جمہوری اقدار کی حوصلہ شکنی کرتی ہے جو احترام کو اختیار کے ساتھ نا پتی ہے،جو ایک مجرم کو ہیرو کے طور پر لیتی ہے جو قوم جو سیاسی مفادات کو آئینی حکم پر ترجیح دیتی ہے۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے مدیرعیار مفکر شعبدہ باز اور جن کے فن کا جوڑ توڑ نقالی ہو۔ قانون شکنی کر کے شہادت کی خواہش رکھتے ہیں ایسی قوم قابل رحم ہے جسے قانون کی بالا دستی کے بجائے جرم پر شرمندگی کا احساس نہ ہو۔ جو قانون کے لیے تحریک چلاتی لیکن ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے تو شور مچائے۔
 

متعلقہ خبریں