خویشگی کا قتل اور عالمی بساط

2018 ,اکتوبر 22



 یہ منظم عالمی قتل ہے جمال خویشگی آل سعود کا مشیر تھا شطرنج کاایسا کھلاڑی تھا جو شاہی خاندان کی بچھائی بساط پر آل سعود کے مخالفین کو شہ مات دیتا رہااسامہ بن لادن سے لےکر ملا عمر تک سب اس کے منتظر رہتے تھے وہ 7 سٹار صحافی تھا امریکہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ جمال میرا دوست تھا رابطے میں رہتا تھا جمال خویشگی پہلے واشنگٹن کے قونصل خانے گیا تھا وہاں سے اسے ترکی کی راہ دکھائی گئی اسے آل سعود کا “غدار” قرار دے کر قتل کی سزا سنائی گئی جس پر درندگی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بوٹی بوٹی کردیا گیا یہ صحافی نہیں ایک گہرے اور قیمتی راز کا قتل ہے۔ مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والے ترکی النسل جمال خشوگی کا قتل سعودی شاہی خاندان کے اندر پڑی پھوٹ کا نکتہ آغاز ہے جو اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ اسامہ بن دلان اور شاہی خاندان میں مصالحت کرانے، انٹیلی جنس کرنے اور شاہی خاندان کا فرد نہ ہونے کے باوجود اندر کے راز جاننے والا خشوگی آل سعود کے لئے گھر کا چراغ ثابت ہوا ہے۔ جمال خشوگی چیختا چلاتا، دردناک سلوک سے گزر کر اگلے جہان چلاگیا۔ محمد بن سلمان نے اپنے ظلم کی آری ’بدتمیز‘ صحافی کے زندہ جسم پر نہیں چلائی، اپنی سلطنت کے ٹکڑے کرلئے ہیں۔ دنیا پر ثابت ہوا کہ آل سعود کتنی جھوٹی، ظالم اور عیار ہے۔ ولی عہد نے جن 18 ’غلاموں‘ کے ذریعے ایک ’بدتمیز‘صحافی کے ٹکڑے کرائے، وہ گرفتار ہیں۔ بیٹے کو بچانے کے لئے اب ’شاہ‘ خود میدان میں آگیا ہے لیکن صاف نظرآرہا ہے کہ یہ ظلم اس ظالم حکومت کو نگل کر رہے گا۔ انصاف پسند حکمران ہوتا تو سب سے پہلے اپنے ولی عہد کو معطل اور گرفتار کراتا۔ دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے سے سفاکی کا جو کھیل جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے سے شروع ہوا تھا، مسلسل انکار اور جھوٹ بولتے سعودی حکمرانوں کو آخر کار پوری دنیا میں اٹھنے والے شور کے سامنے مجبور ہوکر اعتراف جرم کرتے ہی بنی۔ 20اکتوبر کو شاہی بیان جاری ہوا جس میں ’رعایتی اور ارزاں نرخوں‘ پر دستیاب اسلامی دنیا کو اپنا حامی بناکر پیش کیاگیا اور پھر ’برخوردار‘ کو بچانے کی آڑ میں ’شاہی فرامین‘ جاری کئے گئے۔ اسلامی مہینہ صفر ویسے بھی بلاؤں اور آفات کے نزول کا مہینہ کہاجاتا ہے۔ یہ صفر آل سعود کے لئے بالکل ایسا ہی ثابت ہوا ہے۔ بیان دیکھئے ”عرب اور مسلم رہنماؤں نے سعودی صحافی جمال خَشوگی کی موت کے اعلان کے بعد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے جاری کردہ فرامین کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔“ بیان میں بتایاگیا کہ ”متحدہ عرب امارات نے خَشوگی کیس کے حوالے سے خادم الحرمین الشریفین کے احکامات اور فیصلو ں کو سراہا ہے۔ وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید آل نہیان نے خشوگی قتل کیس سے متعلق سچائی جاننے کے لیے شاہ سلمان کی کوششوں اور دلچسپی کو سراہا ہے اور منصفانہ اور قانونی احتساب پر زور دیا ہے۔ مملکت سعودی عرب کی نمائندگی اس کی قیادت کرتی ہے اور یہ انصاف اور شفافیت پر مبنی اداروں کی ریاست ہے۔ خشوگی کیس کی تحقیقات کے بعد شاہی فرامین اور اقدامات قانون اور انصاف کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اقدار اور اصولوں کی تائید کرتے ہیں۔“ ”بحرین نے سرکاری بیان میں سعودی شاہ کے فرامین اور فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب بدستور انصاف ، اصولوں اور اخلاقی قدروں کی ریاست رہے گا۔“ ”مصر نے بھی شاہ سلمان کے فیصلہ کن اور دلیرانہ اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات سے سچ سامنے آئے گا۔“ ”فلسطین، جیبوتی“ اور ”یمن“ کے یتیموں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔ سعودی سرمایہ سے جاری ”رابطہ عالمِ اسلامی“، امت کے مسائل میں کہیں لاپتہ ہوجانے والی اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) بھی شاہی فرمان کی مالاجپنے میں پیچھے نہ رہی۔ ”شاہی فرامین“ کے عنوان سے سامنے آنے والے اقدامات میں بتایاگیا کہ ”سعودی پراسیکیوٹر نے جمعہ کو ابتدائی تحقیقات کے بعد جمال خشوگی کی موت کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ ترکی کے شہر استنبول میں دو ہفتے قبل ہاتھا پائی اور تشدد کے نتیجے میں ان کی موت ہوئی تھی۔اس واقعے میں 18 سعودی شہریوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ یہ تمام افراد اس وقت زیر حراست ہیں۔انھیں جمال خَشوگی کی موت اور اس کو چھپانے کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔“ ”اس اعلان کے بعد شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی اور انٹیلی جنس کے نائب سربراہ جنرل احمد العسیری کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر نگرانی جنرل انٹیلی جنس ایجنسی کی کمان کی تنظیم نو کا حکم دیا ہے اور شاہی فرمان کے ذریعے انٹیلی جنس ایجنسی میں کام کرنے والے متعدد افسروں کو برطرف کردیا ہے۔“ سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے بیان میں کہا کہ ”عدالتوں کو جمال خشوگی کیس کی سماعت میں مکمل آزادی ہوگی۔تمام ضروری ضابطوں کی تکمیل کے بعد اس کی سماعت کا آغاز کیا جائے گا۔ سعودی عرب میں عدلیہ کا ادارہ اسلامی قانون کے اصولوں اور عدل کی اقدار کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور مملکت سعودی عرب بھی ان ہی اصولوں ، اقدار اور شریعت کے تقاضوں کے نفاذ کو ملحوظ رکھ کر قائم کی گئی تھی۔شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان عدلیہ کے ادارے کے کسی بھی ایسے فرد کے مقابلے میں حامی ہیں جو اس ملک اور اس کے شہریوں کے حقوق کو پامال کرنے کے درپے ہے۔“ لیکن اصل بات ان کے منہ سے پھسل ہی گئی کہ ”سعودی عرب کو میڈیا کے ذرائع سے جارحانہ کردار کا مظاہرہ کرنے والوں کے ذریعے عدم استحکام کا شکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایسے لوگ پیشہ واریت کے حامل ہیں اور نہ ان کی کوئی ساکھ ہے۔“ یہ ہے وہ درد، یہ ہے وہ اصل مسئلہ، یہ ہے وہ اصل معاملہ جو خشوگی کے ہلاکت کا باعث ہے۔ یہ ایک نہیں پوری حکومتی مشینری ہے جس کی بقاءداو پر لگی ہوئی ہے اور جو اپنی حکمرانی کی الٹی گنتی گِن رہی ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو کا کہنا ہے کہ ”جمال خشوگی سے متعلق ریکارڈنگ کسی دوسرے فریق کو دی اور نہ ہی دیں گے۔“ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ ریکارڈنگ ترکی سے مانگ رہے تھے۔ یہ ریکارڈنگ نہ ہوتی تو سعودی اعتراف گناہ پر مجبور نہ پاتے۔ جدید ٹیکنالوجی کا شکریہ کہ انسانوں کے جرم کی گواہی اب آلات دے رہے ہیں۔ جمال خشوگی کی سمارٹ آئ فون والی ایپل واچ ان کے موبائل سے منسلک تھی جو قونصل خانے کے باہر ان کی متوقع اہلیہ کے پاس تھا۔ جب خشوگی کو قونصل جنرل کے کمرے کے میز پر لٹا کر سعودی عرب سے خصوصی طیارے کے ذریعے بلائے گئے فارنزک ماہر اور دیگر چیرپھاڑ کررہے تھے تو یہ تمام سفاکی مقتول کے ہاتھ پر بندھی ان کی جدید گھڑی کے ذریعے ریکارڈ ہورہی تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ حکومت خشوگی کیس سے متعلق جاری تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھے گی۔ سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ”قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد وہاں موجود افراد اور خشوگی کے درمیان کسی بات پر تنازع پیدا ہوا۔ اس پر ان میں ہاتھا پائی ہوئی جس کے نتیجے میں سعودی شہری جمال خشوگی مارے گئے۔“ اس سفاکی اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی یا پھر بدمعاشی کہیں کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے سعودی قونصل خانے کی تلاشی لینے کا فیصلہ کیا۔ جمال خشوگی حجازی کے نام سے جانے والے اس صحافی کا جرم شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقید کرنا، یمن میں ہونے والے ظلم پر آواز بلند کرنا تھا۔ ستمبر2017ءمیں اس نے خود ساختہ جلاوطنی اختیارکرلی۔ وہ ’العرب نیوزچینل‘ کا ایڈیٹر انچیف اور جنرل مینیجر، سعودی اخبار الوطن کا مدیر بھی رہا۔ خشوگی 13اکتوبر1958میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوا۔ اس کے داد محمد خشوگی ترکی النسل تھا جنہوں نے سعودی خاتون سے شادی کی۔ یہ کوئی عام شخص نہ تھا بلکہ شاہ عبدالعزیز کا ذاتی معالج تھا۔ جمال خشوگی ایران اسلحہ ڈیل میں شہرت پانے والے سعودی عرب کے نامی گرامی اسلحہ ڈیلر عدنان خشوگی کا بھتیجا ہے۔ یہ دودی الفائد کا فرسٹ کزن ہے جو شہزادی ڈیانا کے قرب کی وجہ سے مشہورہوا اور پھر دونوں ہی پیرس میں کار حادثے میں ہلاک ہوئے۔ جمال خشوگی نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں امریکہ کی انڈیانا سٹیٹ یونیورسٹی سے 1982ءمیں ڈگری لی۔ وہ کتاب گھروں سے ہوتا ہوا افغانستان، الجیریا، کویت، سوڈان اور مشرق وسطی میں غیرملکی صحافی کے طورپر معروف ہوا۔ الشرق الاوسط، المجلہ اور المسلمون جیسے مشہور عرب صحافی اداروں کے ساتھ وابستہ رہا۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اس نے سعودی انٹیلی جنس ایجنسی اور افغانستان میں موجودگی کے وقت امریکہ کے لئے کام کیا۔ جمال خشوگی کا 1980 سے 1990کے دوران افغانستان میں اسامہ بن لادن سے رابطہ رہا اور اس نے متعدد بار اسامہ بن لادن کے انٹرویو کئے۔ اکثر تورابورا میں ان کی ملاقاتیں رہیں۔ ایک ملاقات اس کی سوڈان میں بھی اسامہ بن لادن سے ہوئی تھی۔ کہاجاتا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس ایجنسی نے اسے اسامہ بن لادن پر اثرانداز ہونے کے لئے استعمال کیا کہ وہ سعودی شاہی خاندان سے صلح کرلے اور شاہی خاندان کی مخالفت ترک کردے۔ یہ دعوی بھی سامنے آیاتھا کہ خشوگی نے اسامہ بن لادن کو تشدد ترک کرنے پر قائل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ خشوگی وہ واحد شخص ہے جو سعودی شاہی خاندان کا حصہ نہ ہوتے ہوئے القاعدہ کے ساتھ ہونے والے اس کے رازونیاز کا امین تھا۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ستمبر11 کے امریکہ میں ہونے والے المشہور ’نائن الیون‘ کے بارے میں بھی اس کے سینے میں راز تھے۔ امریکہ اور دنیا کو ہلا اور دہلادینے والے اس واقعے کے بعد خشوگی نے لکھاتھا کہ ہمیں اپنے بچوں کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کے اثرات سے بچانا ہوگا جس طرح 15سعودی اس کے زیراثر آئے کیونکہ یہ عمل سیدھی جہنم کی راہ ہے۔ وہ وہابی اسلام کا بھی مخالف ہوگیا تھا اور سعودی عرب کواپنی اس شناخت میں تبدیلی لانے کا پرچارک بن گیاتھا۔ امریکہ میں سعودی سفیر کے طورپر شہزادہ الفیصل جب ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا تو خشوگی نے میڈیا معاون کے طورپر اس کے ساتھ کام کیاتھا۔ جمال خشوگی واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار کے طورپر پہچانا جاتا تھا۔ اس کے قتل کے بعد واشنگٹن پوسٹ نے اس کا آخری کالم بھی شائع کردیا ہے جو اس نے لکھ رکھاتھا لیکن شائع نہیں ہواتھا۔ عالمی میڈیا شاہی خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کا ذکر اس انداز میں کررہا ہے کہ ”خشوگی اپنی ترک منگیتر کے لیے کاغذ بنوانے استنبول میں سعودی قونصلیٹ گیاتھا جو اس کی زندگی کا آخری دن اور سعودی شاہی خاندان کے زوال کا پہلا دن ثابت ہوا۔“ خشوگی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ سات منٹ میں اس کی ہلاکت ہوئی۔ لیکن یہ سات منٹ انتہائی اذیت ناک ثابت ہوئے ہوں گے کیونکہ جس طرح اس کے جسم کے اعضاءکو کاٹا گیا اور پھر وہ سعودی قونصل خانے کے قریب سے برآمدہوئے، اس نے پوری دنیا میں رائے عامہ کو گویا آگ لگادی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف نے کہا ہے یا تو ویانا کنوینشن کے تحت سفارت کاروں کا استثنی بالکل ختم کر دیں یا پھر اس طرح کے کیسز میں تحقیقات کی اجازت ہونی چاہیے۔“ جمال خشوگی کی منگیتر نے قرآن حکیم کی آیت ٹویٹ میں لکھی کہ جس کا مفہوم یہ تھا کہ جس نے دانستہ کسی کا قتل کیا، تو قاتل کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ خشوگی کے دوست نکولس کرسٹوف نے نیویارک ٹائمز میں اپنے کالم میں پانچ مطالبات کئے ہیں۔ اس کا مطالبہ ہے کہ خشوگی کا قتل چونکہ ایک نیٹو ملک میں ہوا ہے اس لئے اقوام متحدہ کی حمایت سے اس قتل کی عالمی تحقیقات کرائی جائیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی یا پھر انسانی حقوق کونسل اس ضمن میں کارآمد ہوسکتی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ تمام نیٹو ممالک سعودی سفیروں کا اپنے اپنے ملک سے نکالیں۔ نیٹو ممالک سعودی عرب کا اسلحہ اور جہازوں اور اسلحہ کے فاضل پرزہ جات کی فروخت معطل کریں تاکہ قاتلوں کو سزادلانے کے لئے سعودی عرب پر دباو  بڑھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب میں قید رائف بداوی، لجین الھذلول کی رہائی کا مطالبہ کریں اور جمال خشوگی کے رشتہ داروں کو سعودی عرب سے جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ان کی زندگی بھی خطرے سے دوچار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو واضح بتائے کہ شاہی خاندان اور اس کا پاگل شہزادہ نہ صرف اس قتل بلکہ یمن کی جنگ، لبنان کے وزیراعظم کے اغواءاور قطر کی مخالفت میں تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ یہ داغ سدا کے لئے ان کے ماتھے پر لگ چکے ہیں۔ 1964ءمیں شاہ سعود نے شاہ فیصل کی جگہ لے لی حالانکہ شاہ فیصل شاہ سعود سے بدرجہا بہتر تھا۔ عالمی سطح پر قانونی کاروائی کا بھی مطالبہ ہورہا ہے۔ ویانا کنونشن کے تحت قونصل خانے کے افسران کی گرفتاری اور ترکی کے استغاثہ ہونے پر زوردیا جارہا ہے۔ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے بعد ڈونلڈٹرمپ کی ہوٹل جائیداد میں سعودیوں نے سرمایہ کاری کی تھی۔ کیا یہ نئی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش تھی؟ اور کیا امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے جمال خشوگی کو سعودیوں سے خطرات کے بارے میں آگاہ کیاتھا؟ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اس ساری صورتحال میں مسلمان ممالک کہاں کھڑے ہیں ؟ ریاض میں ایک بہت بڑی بزنس کانفرنس 23 اکتوبر کو ہونے جا رہی تھی جس سے بڑی بڑی کمپنیوں اور بینکوں نے احتجاجا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ان میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ، ہانک کانگ شنگھائی بینک اور بینک کریڈٹ سوئس شامل ہیں۔ اہم شخصیات اور ریاستی سربراہان کی معذرت اور شرکت نہ کرنے کے اعلانات بھی سامنے آرہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کرنی ہے۔ ایک طرف انہیں آئی ایم ایف سے بچنے کے لئے سرمایہ درکار ہے جس کے لئے سعودی حکمرانوں کی منت ترلا ضروری ہے لیکن دوسری جانب ان کا امیج ہے۔ اگر وہ شرکت کرتے ہیں تو اس امیج کا کیاہوگا۔ مخالفین اور ناقدین کو حکومت پر چاندماری کا مزید موقع مل جائے گا۔ عمران خان کا یہ امتحان ہے کہ وہ کیسے اس معاملے میں آگے بڑھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر سعودی فرمانرواہ کے ساتھ مل کر اس سارے معاملہ کو دبانے کی کوشش کے الزامات عائد ہورہے ہیں۔ اس نے مسلمانوں اور امریکیوں کو یہ کہ کر ناراض کیا کہ سعودی قونصلیٹ میں موجود کچھ غنڈہ عناصر اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ امریکی کنیکٹیکٹ کے سینیٹر کرس مرفی نے دلچسپ ٹویٹ کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودیوں نے اپنے پی آر ایجنٹ کے طورپر استعمال کیا ہے۔ کچھ ماہ قبل سعودی عرب نے کینیڈا سے تمام سفارتکار واپس بلا لیے تھے جن میں سکالرشپ پر پڑھنے والے طلبا بھی شامل تھے۔ پاکستان اس سارے معاملہ میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ؟موم بتی مافیا کہاں ہے؟ دیگر دائیں بائیں کے انصاف پسند کہاں گم ہوگئے؟ میڈیا کے چنگیز اور ہلاکو خان کیا ہوئے؟

متعلقہ خبریں