وزیرخزانہ کی کانٹوں بھری کرسی، 10 سال میں کون آیا کون گیا؟

2019 ,اپریل 19



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں وزرائے اعظم کی تبدیلی پر تو شورمچتا ہے لیکن وزیر خزانہ کا عہدہ بھی دراصل کانٹوں بھری نشست ہے ، جس پر کوئی بھی زیادہ مدت تک نہیں بیٹھ پاتا۔ شاید اسی لیے 10 سال کی مدت میں وطن عزیز میں 10 وزرائے خزانہ تبدیل ہوئے۔ گزشتہ 10 سال میں سے 7 سال تک تو یہ ہاٹ سیٹ اسحاق ڈار اور حفیظ شیخنے ہی سنبھالے رکھی ، 3 سال کے دوران 7 وزرائے خزانہ آئے لیکن کوئی بھی زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکا۔پیپلزپارٹی کی حکومت میں 5 وزرائے خزانہ رہے ، پہلے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہی تھے جنہوں نے ایک ماہ بعد استعفیٰ دیا، جس کے بعد نوید قمر 5 ماہ ، شوکت ترین ایک سال 4 ماہ ، حفیظ شیخ تین سال اور سلیم مانڈوی والا4 ماہ تک وزیر خزانہ رہے ۔ن لیگ کی حکومت میں اسحاق ڈار4 سال اور مفتاح اسماعیل تقریبا ایک ماہ وزیر خزانہ رہے ۔شمشماد اختر نگران حکومت میں تقریبا 8 ماہ اور تحریک اںصاف کے وزیر خزانہ اسد عمر صرف 8 ماہ ہی اس عہدے پر رہے، دوسری جانب خبر یہ بھی ہے کہ نئے نامزد ہونے والے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معاشی فیصلے جذباتیت سے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کرنا ہونگے، سوچ اور سمجھ کا استعمال کرنا ہوگا، جذباتی ہو کر جو فیصلے کیئ وہ میعشت کو برباد کر دیں گے ، جذباتی ہو کر فیصلے نہین ہو سکتے۔نامزد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ دبئی سے پاکستان پہنچ گئے ہیں، انہوں نے معاشی فیصلوں کے لیے اپنا روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔عبدالحفیظ شیخ کی وزیراعظم عمران خان سے جلد ملاقات متوقع ہےجس میں وہ انھیں معاشی روڈ میپ سے آگاہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ معاشی فیصلوں میں خود مختاری چاہتے ہیں۔ اور اب یہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔

متعلقہ خبریں