وہ لڑکی جس نے موت کے بعد اپنے قاتل کو سزا دلوادی۔۔۔ جان کر آپ داد دیں گے

2018 ,اگست 12



نیویارک (مانیٹرنگ رپورٹ) زندہ لوگوں کی گواہی تو مجرموں کوکیفرکردار تک پہنچاتی ہے لیکن امریکہ میں ایک لڑکی نے موت کے بعد اپنے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچا دیا ہے۔ دی مرر کے مطابق جوڈی میلینووسکی نامی اس 32سالہ لڑکی کو اس کے 41سالہ بوائے فرینڈ مائیکل نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی جس سے اس کا 90فیصد جسم جھلس گیا اور وہ 8ماہ تک ہسپتال میں بے ہوش رہی۔ 8ماہ بعد اسے ہوش آیا اور اس نے مائیکل کے خلاف بیان ریکارڈ کرایا جس کی بنیاد پر مائیکل کو 11سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

اس کے کچھ ہفتے بعد جوڈی کی موت واقع ہو گئی۔ مائیکل کی سزا پر جوڈی کے لواحقین نے احتجاج کیا اور حکومت سے نیا قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک آن لائن پٹیشن دائر کی جس پر لاکھوں لوگوں نے دستخط کر دیئے جس پر امریکی ریاست اوہائیو’جوڈیز لاء‘ کے نام سے نیا قانون منظور کر لیا، جس میں آگ لگا کر یا کسی اور طریقے سے لوگوں کے جسم کو مسخ کرنے کی نئی سزا مقرر کی گئی۔ جوڈی کی موت کے بعد مائیکل کے خلاف دوبارہ اس نئے قانون کے بعد مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے میں اوہائیوکی تاریخ میں پہلی بار عدالت نے مقتولہ کی گواہی کو شامل کرنے کی اجازت دی جس پر جوڈی کا بیان عدالت میں چلایا گیا۔ اس بیان اور دیگر لوگوں کی شہادتوں پر عدالت نے مائیکل کو سزائے موت سنا دی، تاہم ایک ڈیل کے نتیجے میں اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا جس میں اسے کبھی ضمانت پر بھی رہائی نہیں ملے گی۔ مائیکل کی اس نئی سزا پر جوڈی کی والدہ بونئی کا کہنا تھا کہ ’’یہی وہ سزا تھی جو جوڈی اپنے قاتل کے لیے چاہتی تھی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں