میاں جاوید کی موت اصل حقائق

2019 ,جنوری 3



مرحوم میاں جاوید کو بغیر ہتھکڑیوں کے سروسز ہسپتال لایا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی لیکن وہ جان بر نہ ہو سکے تمام ٹی وی چینل اس کی شہادت دے رہے ہیں کہ جب انہیں سٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی لایا گیا اس وقت کوئی ہتھکڑی نہیں لگی ہوئی تھی ہتھکڑی ان کے انتقال کے بعد لگائی گئی کس نے لگائی کس نے لگوائی اس کا سراغ شاید کبھی نہیں لگایا جاسکے گا کہ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث مافیا بڑا طاقتور ہے مرحوم جاوید تو ایک مہرہ تھا ایک پیادہ ‘ اصل کھلاڑی تو پس پردہ بیٹھے چالیں چل رہے ہیں نعش کو ادنی اور گھٹیا مقاصد کے لئے ہتھکڑی لگانا توہین انسانیت ہے لیکن ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے سنگ دل ‘میڈیا مینجر’ کچھ بھی کرسکتے ہیں اور کروا سکتے ہیں یہی کچھ مرحوم میاں جاوید کے ساتھ ہوا مرحوم کو شہر علم کا باسی اور فروغ علم کا متوالا قرار دیا جارہا ہے لیکن یہ بھی ثابت ہو چکا ہے میاں جاوید کوئی استاد، پروفیسر یا ماہر تعلیم نہیں تھے ان کا سرگودھا یونیورسٹی سے کس قسم کا کوئی تدریس تعلق نہیں تھا مرحوم صرف لاہوری میڈیا مافیا کا آلہ کار تھا میاں جاوید سرگودھا یونیورسٹی کے پرائیویٹ سب کیمپس لاہور کے مالک/چیف ایگزیکٹو اور ایک مشکوک کاروباری شخصیت تھے اب اس مافیا کے گرو زیب داستاں کو بڑھانے کے لیے انہیں استاد اور پروفیسر کا رتبہ دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمدردیاں سمیٹ کر اپنی اربوں کی کرپشن چھپانا چاہتے ہیں۔ وہ استاد نہیں مجرم تھے انہوں نے جعل سازی کرکے سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کو ڈگریاں چھپانے والی مشین بنادیا تھا انکشاف البتہ یہ ہے اور ایک بہت بزرگ کالم نگار /تجزیہ نگار لاہور کیمپس میں اس کے شریک کار تھے جو اب مرحوم کو علم کا متوالا اور شہر علم کا باسی قرار دے رہے ہیں جبکہ اس کا کا سرگودھا یونیورسٹی سے کسی قسم کاکوئی تعلق نہیں تھا۔ اس حوالے سے عالم بے بدل اور عالمی شہرت یافتہ براڈکاسٹر جناب افضل رحمن نے اس کالم نگار سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے بعداز موت ہتھکڑی لگانے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا “ مرنے کے بعد ہتھکڑی لگانا’ ماننے والی بات نہیں ہمارا معاشرا ابھی اتنا گرا نہیں انہوں نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ جب کوئ مر جاتا ہے تو پھر جسد خاکی کے حقوق شروع ہو جاتے ہیں اس لئے آپ معروف ڈرامہ اینٹی گون پڑھیے افسوس صد افسوس کہ پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد جو حقائق سامنے آرہے ہیں ان کے مطابق مرحوم کو مرنے کے بعد ہسپتال میں ہتھکڑی لگا ئی گئی تھی پھر اس تصویر کو ساری دنیا میں پھیلا دیا گیا تمام چینلز نے بھی سی سی ٹی وی کلپ چلایا جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے جب مرحوم کو ایمرجنسی لیا گیا کوئی ہتھکڑی نہیں لگی ہوئی تھی یہ سب ساتھ ساتھ بتایا جاتا رہا ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے کئے جانے والے اس ڈرامے میں بڑے بڑے دیندار دکھائی دینے والے ظالم اور بے حس لوگ شامل ہیں اب میاں جاوید کو بھی فروغِ علم کے جرم کی پاداش میں حوالۂ زنداں ہونے والا مظلوم قرار دیا جا رہا ہے میاں جاوید کا اصل معاملہ کیا ہے اس کے خلاف کن جرائم میں تحقیقات ہورہی ہیں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مرحوم کے ملکیتی لاہور کیمپس کے خلاف غیر قانونی داخلوں ‘ کروڑوں روپے فیسوں کی وصولی اور جعلی ڈگریوں کے اجرا کے الزام میں 2015 سے تحقیقات جاری تھیں لیکن جاتی امرا میڈیا سیل ان تحقیقات میں رکاوٹ تھا کہ مرحوم جاوید اصل میں شام چوراسی گھرانے کا پیادہ تھا موجودہ تحقیقات جناب چیف جسٹس کے حکم پر ہورہی ہیں جب چیف جسٹس ثاقب نے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق کو طلب کرکے اس اندھیر نگری بارے دریافت کیا تو ایک دھائی سے جاری گھوٹالے کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا میاں جاوید مرحوم کے خلاف ت غیر قانونی کیمپس کھولنے، طلبہ سے13کروڑ روپے سے زائد فیسوں کی مد میں وصولی، ہزاروں طلبہ کے غیر قانونی داخلے شامل تھے جبکہ خزانے کو 9کروڑ20لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ اگر آپ کو یاد ہوتو چند ماہ پہلے یو نیورسٹی آف سرگودھا لاہور کیمپس کے طلبہ نے پورے لاہور کا پہیہ جام کر دیا وہ ڈگریوں کیلئے دھکے کھا رہے تھے اِن طلبہ کا مستقبل تاریک کرنے والے کرداروں میاں جاوید سرفہرست تھے لاہور کیمپس کے اِنہی طلبہ کی درخواست پر عزت مآب چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا اور نیب کو انکوائری کا حکم دیا اور جب انکوائری میں بد نیتی ثابت ہو گئی تو اِس کے ذمہ داران لاہور کیمپس کے مالک میاں جاوید سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جو کہ نیب کے زیرِ تفتیش ہیں ، لاہور کیمپس کے مالکان میاں جاوید و دیگر نے جس طر ح طلبہ سے پیسہ لوٹا اس کی نظیر نہیں ملتی ، ملاحظہ فرمائیں سرگودھایو نیورسٹی کا مین کیمپس ایک سال میں 150طلبہ کو آئی ٹی کمپیوٹر سائنس میں داخل کر تا ہے اور یونیورسٹی کا پرائیویٹ ذیلی لاہورکیمپس اُسی سال میں 4500طلبہ کو داخل کرتا ہے جبکہ ایسے کورسز میں طلبہ کو داخل کیا جاتا ہے جن کا مین کیمپس میں کوئی وجود تک نہیں تھا اِن کو رسز کا امتحان کون سی یونیورسٹی لے گی ۔ لاہور کیمپس کی انتظامیہ خود ہی ممتحن’ خود ہی رزلٹ کارڈز جاری کرتی ہے خود ہی ڈگریاں دیتی ہے جس کا اِن پر مقدمہ بھی درج ہو جاتا ہے یہ تو ماضی کی الخیر اور بلھڑ یو نیورسٹیوں سے بھی بڑا فراڈ ہے اور ایگزیکٹ کو بھی پیچھے چھوڑ گیا اگر فراڈ میں ملوث افراد گر فتار ہو تے ہیں ان پر مقد مہ چلتا ہے حقائق سامنے آتے ہیں تو پھر ان کے پر وردہ کرپٹ عناصر سوشل میڈیا پر واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ بڑا ظلم ہو گیا۔ آسمان پھٹ جائے گا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئے گی ، اُستا د کا وقار مٹی میں مل جائے گا۔ مذہب کا لبادہ اوڑھے اِن لو گو ں نے جس طر ح بیدردی سے طلبہ کے مستقبل کو روندا اِس کا مداوا کون کر ے گا سرگودھا یونیورسٹی کاے 700پرائیویٹ کالجز کا الحاق کر کے “اجتہاد” کیا گیا ہائر ایجو کیشن کمشن کی آڈٹ رپورٹ دیکھ کر ہکا بکا رہ جاتا ہے یہ ملزمان عدالتی تحویل میں جیل حکام کے زیر تحویل تھے جن کا نیب سے کسی قسںم کا کوئی تعلق نہیں تھا عین اس وقت یہ گُروگھنٹال نیب والوں سے لین دین کرکے جان چھڑانے کی سر توڑ کوششش کررہےتھے میاں جاوید کو بلاوا آگیا اور شاعر نے کیا خوب کہا تھا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے کا گا بنجارا

متعلقہ خبریں