برازیلی جوڑے نے 27 لاکھ درخت لگا کر ریگستان کو جنگل بنادیا

2019 ,اپریل 26



برازیلیا(مانیٹرنگ ڈیسک):  برازیل میں اجڑی اور بنجر زمین کو ایک جوڑے نے اپنی دن رات کی محنت سے اتنا سرسبز و شاداب کردیا ہے کہ اب وہاں ایک گھنے جنگل کا گمان ہوتا ہے۔ پیشے کے لحاظ سے سیبستیاؤ روبیرو سیلگیڈو فوٹوگرافر اور عکسی صحافی ہیں لیکن ان کا بڑا کارنامہ ایک بے آب و گیاہ علاقے کو گھنے جنگل میں تبدیل کرنا ہے جسے ایٹلانٹک فاریسٹ کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی لیلیا ڈیلیوئز وانِک سیلگیڈو کی مدد سے 1998 سے شجرکاری شروع کی تھی۔ اسی سال وہ روانڈا کی ہولناک جنگ کی تصویر کشی کرکے واپس آئے تھے لیکن اتنے دلبرداشتہ تھے کہ انسانیت پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا تھا۔ اس پر ان کے والدین نے اپنا پرانا کھیت ان کے حوالے کردیا جس کی بحالی کی ذمے داری اب دونوں میاں بیوی پر تھی۔

فارم کا رقبہ 1750 ایکڑ تھا لیکن اس کے ایک فیصد سے بھی کم رقبے پر درخت موجود تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی سیستیاؤ کے والدین نے درخت کاٹ کاٹ کر اس کی لکڑی فروخت کردی تھی۔ اس کے بعد دونوں نے دن رات محنت کی اور اب اس جنگل میں پرندے ، جانور، حشرات اور مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا کیونکہ زمین اپنی زرخیزی کھوچکی تھی اور اس پر سخت جان گھاس اور چھاڑیاں اگ آئی تھیں۔  دو درجن سے زائد مزدوروں کی مدد سے یہ جھاڑیاں صاف کی گئیں۔ اس کے بعد ایک ادارے نے ایک لاکھ پودے عطیہ کئے ۔ سیستیاؤ نے بین الاقوامی اداروں سے بھی مدد طلب کی یہاں تک کہ مالی مدد بھی آپہنچی۔ ان دونوں افراد کے مطابق درخت پہلے چھوٹے بچے کی طرح توجہ چاہتے ہیں لیکن بعد میں وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 2002 میں انہوں نے پودوں کی نرسری بنائی لیکن جنگل کی افزائش اتنی مہنگی تھی کہ اس نے اپنے نایاب کیمرے کو نیلام کردیا جس سے مزید 30 ہزار درخت لگائے گئے۔ اب یہ علاقہ ایک بھرپور جنگل بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں