سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے لفظ ”سلیکٹڈ“ پر پابندی لگائے جانے کے بعد حکومتی موقف بھی آگیا

2019 ,جون 29



کراچی (مانیٹرنگ رپورٹ) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ لفظ سلیکٹڈ حذف کرنا نہ وزیراعظم کی خواہش تھی نہ حکومت کی ایماء پر ایسا کیا گیا ، اسپیکر کو کوئی بھی لفظ حذف کرنے یا پابندی لگانے کا استحقاق حاصل ہے، عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے سے پہلے سپریم کورٹ سے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ لے کر آئے ہیں، وزیراعظم کے عہدے کی ساکھ کو مجروح نہیں ہونا چاہئے۔

نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عمران خان عوام اور پارلیمنٹرینز کے ووٹوں سے منتخب ہو کر وزیراعظم بنے ہیں، عمران خان کیلئے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنا نہ صرف وزیراعظم کے عہدے کی توہین ہے بلکہ پارلیمنٹ کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے۔اسی پروگرام میں مولانا عطاءالرحمٰن نے کہا کہ حکومت کیخلاف احتجاج اور مڈٹرم الیکشن صرف مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش نہیں ہے، تمام سیاسی رہنما حکومت اور پارلیمنٹ کو سلیکٹڈ سمجھتے ہیں، پچیس جولائی کے احتجاج اور نیا چیئرمین سینیٹ آنے کے بعد حکومت کی ایک ایک اینٹ کھسکتی جائے گی۔اشرف تولہ نے کہا کہ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم میں لوگوں کو کوئی چارم نظر نہیں آرہا ہے، ہماری سیاسی معیشت حقیقی معیشت کو چیلنج کررہی ہے، کیا حکومت پر واجب نہیں کہ زرعی شعبہ والوں کو بھی ڈرا دھمکا لے کہ تم بھی ٹیکس ادا کرو۔اشرف ملخم نے کہا کہ حکومت پر ایمنسٹی اسکیم کی تاریخوں میں توسیع کرنے کیلئے دباﺅ ہے، حکومت کی کوششوں کے باوجود ایمنسٹی اسکیم کامیاب نہیں رہی ہے، آئی ایم ایف کے ترجمان نے ایمنسٹی اسکیم کی مخالفت کی ہے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایوان میں لفظ سلیکٹڈ کو حذف کرنا نہ وزیراعظم کی خواہش تھی نہ حکومت کی ایماءپر ایسا کیا گیا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کو کارروائی سے کوئی بھی لفظ حذف کرنے یا پابندی لگانے کا استحقاق حاصل ہے۔

    متعلقہ خبریں