بھارت مسلمانوں کو تنگ کرنے سے باز نہ آیا۔۔ سابق بھارتی جج مسلمانوں کو نمازِ جمعہ سے روکنے پر ہندوؤں پر برس پڑے

2019 ,جنوری 4



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو اذیت دینے کا ایک اور بہانہ ڈھونڈ لیا ہے۔ انتہا پسندوں نے اعلان کر دیا کہ کھلی جگہوں پر نمازِ جمعہ نہیں پڑھنے دیں گے۔ معلمومات کے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندو اب مسلمانوں کو کھلی جگہوں میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکنے لگے۔ سابق بھارتی جج ہندوؤں کے اس انتہا پسندانہ رویے پر برس پڑے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کٹجو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکے جانے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ مارکنڈے کٹجو کا کہنا تھا کہ اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو وہ کسی کا ہاتھ یا سر تو قلم نہیں کر رہا، اس پر اعتراض کیوں ہے، مسلمانوں کو میدانوں اور پارکوں میں نماز پرھنے سے روکنا غلط ہے۔ مارکنڈے کٹجو نے کہا کہ آر ایس ایس اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کو بھی تو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کی اجازت ہے، تو مسلمانوں کو مذہبی عبادات کی ادائیگی کی اجازت کیوں نہیں؟ سابق جج مارکنڈے کٹجو کا کہنا تھا کہ میں مذہبی آزادی کا قائل ہوں، بھارتی حکومت نے دنیا میں ہماری ناک کٹوا دی ہے، گائے کو ماتا نہیں مانتا، خود اس کا گوشت کھاتا ہوں۔

 

متعلقہ خبریں