آئی ایم ایف معاہدے کا مسودہ مسترد ۔۔۔ عمران خان نے تہلکہ خیز حکم جاری کر دیا، پورے ملک میں کپتان کی دھوم مچ گئی

2019 ,مئی 11



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے درمیان ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے کے مسودے کو مسترد کردیا۔روزنامہ جنگ کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس استثنیٰ سے متعلق آئی ایم ایف سے مزید رعایت لی جائے جبکہ ٹیکس وصولی ہدف کم کرنے کے لیے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے مکمل کرچکے تھے۔ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم بات چیف آئندہ دو روز تک جاری رہے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم افراط زر کے معاملے پر آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی چاہتے ہیں۔ دوسری جانب وزارت خزانہ اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) حکام کے درمیان قرض معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے بات چیت کا سلسلہ ہفتہ کو بھی جاری رہا جو پیر تک جاری رہے گا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، چھٹی کے باوجود آئی ایم ایف سے مذاکرات ہفتے کو بھی جار ی رہیں اور مذاکرات کا سلسلہ پیرتک جاری رہے گا،ذرائع کے مطابق پاکستان کو 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض ملنے کی توقع ہے جس کی میعاد 3 سال ہوگی۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق قرض معاہدے کی شرائط پر پاکستان شروع میں عمل درآمد کرے گا اور بجلی و گیس کی قیمتیں سال میں 2 مراحل میں بڑھائی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق بجٹ خسارے کو 4.5 فیصد تک محدود کیا جائے گا، ایف بی آر کا ریوینیو ٹارگٹ 5300 ارب روپے تک مقرر کیا جائیگا اور شرح سود 12 فیصد تک لانے کے علاوہ اگلے بجٹ میں 700 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق حکومت ڈالر کی قیمت کو کنٹرول نہیں کرے گی اور تنخواہ پر ٹیکس کی شرح کو جون 2018 کی شرح سے لاگو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کا پلان آئی ایم ایف کو دیا جائے گا اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں سبسڈی ختم کی جائے گی۔ایک روزقبل وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اور دیگر اقتصادی ماہرین نے بھی ملاقات کی تھی جس میں مشیر خزانہ اور دیگر حکام نے وزیراعظم کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حتمی معاہدے پر بریفنگ دی اور بیل آؤٹ پیکیج سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس استثنیٰ سے متعلق بھی آئی ایم ایف سے مزید رعایت لی جائے۔حکومتی ذرائع کے مطابق باہمی طے شدہ نکات واشنگٹن آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر بھجوائے جا چکے ہیں اور منظوری آتے ہی باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے بجٹ میں 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسز سے متعلق شرائط نرم کرنے پر تیار نہیں اور عالمی مالیاتی ادارہ ایف بی آر کا ٹارگٹ 5200 ارب روپے سے زائد مقرر کرنا چاہتا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کی آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں، بجلی،گیس کی مد میں 340 ارب روپے 3 سال میں صارفین کی جیبوں سے نکالے جائیں گے۔یاد رہے کہ پاکستان اس سے قبل 21 پروگراموں کے ذریعے 14 ارب 40 کروڑ ڈالر کے قرضوں پر مشتمل پروگرام لے چکا ہے۔گزشتہ دور حکومت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تین سال کے لیے آئی ایم ایف پروگرام لیا تھا۔

متعلقہ خبریں