بینظیر کا خون رزقِ سیاست ؟

2018 ,دسمبر 27



27 دسمبر 2007ءکا ڈھلتا دن خون آشام ثابت ہوا۔ بینظیربھٹو میں اتنا اعتماد اور دم خم نہ جانے کہاں سے آ گیا کہ ڈیڑھ ماہ قبل ہولناک سانحہ سے بچ نکلی تھیں۔دبئی سے واپسی پر سانحہ کارساز میں ڈیڑھ سو کارکن موت کی وادی میں چلے گئے تھے۔ 18 اکتوبر کے بھیانک سانحہ کار سازسے محترمہ نے کوئی سبق نہ سیکھا اور مشرف اور اداروں کی سکیورٹی وارننگ سے صرفِ نظر کیا تاہم انکی پارٹی کی قیادت نے سانحات کارساز و لیاقت باغ سے 2013ءمیں عبرت پکڑی اور انتخابی مہم سے کنارہ کشی اختیار کی۔ 
بینظیر قتل کی تحقیقات ہمارے اداروں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور سکاٹ لینڈ یارڈ سے بھی کرائی گئی مگر ابتک اس سوال کاجواب نہیں مل سکا کہ بے نظیر بھٹو کا قاتل کون تھا۔ قتل جس انداز سے ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ اس میں مذہبی عناصرشامل تھے کچھ لوگ عورت کی حکمرانی کو ہضم نہیں کر پا رہے تھے۔ ان دنوں تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود تھے۔ انہوں نے اپنے مبینہ پیغام میں بے نظیربھٹو کو بکری کی طرح ذبح کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب طالبان پاکستان میں بڑی طاقت جانے جاتے تھے جبکہ امریکہ انکے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ امریکہ کی نظر میں تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے مابین رابطے تھے۔ بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیاتھا۔ 
بے نظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے کون تھا؟ آصف زرداری کی طر ف سے مشرف کو بینظیر بھٹو قتل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے جبکہ مشرف نہ صرف بینظیر بلکہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا مُدّا بھی آصف زرداری پر ڈالتے ہیں۔ اس قتل میں کئی لوگوں کوسزا ہو چکی ہے مگر قاتل کون؟ یہ سوال اپنی جگہ ہنوز موجود ہے۔ ٹی ٹی پی تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں بینظیر بھٹو کے قتل کا زیادہ شبہ ہے ‘یہ کام کوئی دوسری ایسی شدت پسند تنظیم بھی کر سکتی ہے۔ ٹی ٹی پی یا اس جیسی کسی تنظیم نے یہ قتل اپنے نظریات کے مطابق خود کرایا یا اسے کسی نے استعمال کیا؟ یہ سوال بھی بدستور جواب طلب ہے۔ اگر مشرف اور زرداری پر قتل کا شبہ کرتے ہوئے تجزیہ کیا جائے تو مشرف کی طرف شک کا پلڑا بھاری ہو گا کیونکہ وہ طالبان کوا س مقصد کیلئے استعمال کرنے کی زرداری سے زیادہ بہتر پوزیشن میں تھے۔ مارک سیگل کو بینظیر بھٹو نے ای میل کرتے ہوئے قتل کی صورت میں جن لوگوں کو امکانی طور پر ملوث قرار دیا گیا ان میں جنرل مشرف ، پرویزالٰہی اور ان دنوں آئی بی کے ڈی جی بریگیڈئر (ر) اعجاز شاہ کے نام تھے۔ 
بینظیر بھٹو جس گاڑی میں قتل ہوئیں، اسکے ساتھ دوسری گاڑی میں بابر اعوان اور رحمن ملک تھے۔دھماکے کے بعد یہ لوگ بینظیر بھٹو کے ساتھ ہسپتال گئے۔ بعدازاں دونوں وزیر بنے۔ رحمن ملک وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قاتل گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ مگر اس سوال کا جواب ندارد کہ قتل کے پیچھے کون تھا؟ ہو سکتا ہے القاعدہ کے ایما پر بیت اللہ محسود ہی عورت کی حکمرانی پر خار کھائے بیٹھا ہو ا ور یہ ساری اسکی پلاننگ ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا جواب طویل تحقیقات کے بعد مل جانا چاہئے تھا مگر پیپلز پارٹی کی قیادت مشرف کو موردِ الزام ٹھہراتی اور مشرف کی طرف سے جواب آں غزل پاتی ہے۔ ایک دوسرے پر شکوک و شبہات کا اظہار شاید قتل کے کئی سال بعد شواہد سامنے آنے پر کیا کیونکہ قتل کے بعد کئی ماہ مشرف اور زرداری شیرو شکر رہے اور زرداری دور میں مشرف کو گارڈ آف آنر دیکر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ 
بینظیر بھٹو اپنی جاں سے گئیں، اب انکے خون پر سیاست ہو رہی ہے۔ 
اس خاتون کا خون رزق ”سیاست “ ہوا ۔ قتل کے دس سال بعد کچھ لوگوں کو سزائیں سنائی گئیں۔ فیصلے کی یہ روداد بھی چشم کشا ہے جو کئی یادوں کو صدا دیتی اور کئی زخم تازہ کرتی ہے۔
31 اگست 2017ءکو انسدادِ دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج اصغر خان نے بےنظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے 23 کارکنوں کے قتل کیس میں نامزد سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کو جرم ثابت ہونے پر 2 الگ الگ دفعات میں مجموعی طور پر 17,17 سال قید اور 5 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ۔ مقدمہ میں نامزد پہلے سے گرفتار 5 ملزموں محمد رفاقت، حسنین گل، شیر زمان، رشید احمد اور اعتزاز شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔ سابق صدر پرویز مشرف کوعدالت سے روپوشی اوردانستہ عدم حاضری پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے، پرویز مشرف کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا، مقدمہ میں نامزد تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود، عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان، عبداللہ عرف صدام، فیض محمد، اکرام اللہ، نصراللہ، نادر عرف قاری اسماعیل پرمشتمل 7 ملزموں کو مسلسل عدم حاضری پر عدالت پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی تھی۔ خرم شہزاد کو شہادتیں ضائع کرنے اور تفتیش میں کوتاہی پر سزا سنائی گئی۔ بےنظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ءکو اس وقت خودکش بم دھماکے میں ہلاک کیا گیا جب وہ انتخابی مہم کے حوالے سے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام کے اختتام پر واپس روانہ ہو رہی تھیں۔ تھانہ سٹی پولیس نے نامعلوم افراد کےخلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا‘ بعدازاں اس میں تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کوملزم نامزد کرنے کے بعد مرحلہ وار سابق صدر پرویز مشرف، سابق سی پی او راولپنڈی سعودی عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد سمیت 15 افرادکو ملزم نامزد کیا گیا، پرویز مشرف، سعود عزیز اور خرم شہزاد ضمانت پر تھے جبکہ محمد رفاقت، حسنین گل، شیرزمان، رشید احمد اور اعتزاز شاہ سمیت 5 ملزم اڈیالہ جیل میں تھے، بیت اللہ محسود، عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان، عبداللہ عرف صدام، فیض محمد، اکرام اللہ، نصر اللہ، نادر عرف قاری اسماعیل فوجی آپریشنز میں مارے جا چکے ہیں۔ سانحہ لیاقت باغ کے ٹرائل کے دوران رانا نثار، پرویز علی شاہ، شاہد رفیق، چودھری حبیب اللہ، طارق عباسی، پرویز اسماعیل جوئیہ اور رائے ایوب خان مارتھ سمیت 7 جج تبدیل ہوئے۔ اصغر خان نے آٹھویں جج کی حیثیت سے مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔ اس کیس میں ایف آئی اے کی پیروی کرنے والے وکیل چودھری ذوالفقار کو 2013ءمیں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کوتحقیقات سونپنے اور اس دوران سکاٹ لینڈ یارڈ کے دورہ پاکستان اور سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کے بعد عدالت میں داخل کی گئی رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کو بھی ملزم نامزد کیا گیا۔ پی ٹی سی ایل کے ڈائریکٹر فیروزعالم نے طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود اور ایک مبینہ منصوبہ کار کے درمیان ہونیوالی ایک منٹ 13 سیکنڈ کی گفتگو پرمبنی ٹیپ عدالت میں پیش کی جس میں گفتگو کرنےوالے افراد نے بے نظیر بھٹو پر خودکش حملہ کے بعد ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی تھی۔ مارک سیگل کیس کے اہم ترین گواہوں میں شامل تھے جن کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کیا گیا۔ 27 دسمبر 2007ءکو 5 بجکر 11 منٹ پر دھماکہ ہوا جبکہ 6 بجکر 42 منٹ پر جائے وقوعہ کو دھو دیا گیا۔ 23 اپریل 2011ءکو برطانوی حکومت کی طرف سے مرکزی ملزم کے طور پر نامزد سابق صدر پرویز مشرف کی پاکستان حوالگی کےلئے باقاعدہ انکار کے بعد 30 مئی 2011ءکو خصوصی عدالت جج رانا نثار احمد نے پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا تھا جبکہ انکی تمام منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد جولائی 2916ءکو آئین شکنی کیس میں خصوصی عدالت نے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سب کے باوجود بینظیر بھٹو کے قاتل کے گریبان اور قانون کے ہاتھ کے مابین شاید صدیوں کا فاصلہ حائل ہے۔ 
 

متعلقہ خبریں