وہ دروازہ جسے زنجیروں سے باندھ کر سخت ترین سزا سنائی گئی

2017 ,دسمبر 27



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جنگوں کے بعد شکست یا کمزوری کے اسباب جاننے کے لئے ہمیشہ سے تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جاتا ہے کہ جن کی کوتاہی سے ایسے حالات کا سامنا کیا گیا ہوتا ہے ،اس پر سزائیں بھی ہوتی ہیں ۔لیکن دنیا میں ایسی انوکھی سزا کا ذکر شاید ہی کبھی آپ نے سنا ہوگا ۔جو پاکستان کے صوبہ کے پی کے کے مشہور شہر شبقدر کے قلعہ میں ایک دروازہ کو سنائی گئی تھی۔پشاور سے پچیس کلومیٹر دور پتھروں سے بنے اس قلعہ کا یہ انہونا واقعہ ایک گہرے پسمنظر کا گواہ ہے۔ 
یہ ۱۸۴۰ء کے موسم سرما کا واقعہ ہے کہ رنجیت سنگھ کا بیٹا شہزادہ شیر سنگھ قلعہ شبقدر کے دورے پر آیا۔ اس کے آنے کی خبر سن کر پٹھانانِ مہمند نے فیصلہ کیا کہ قلعے پر زور دار شب خون مارا جائے۔ چنانچہ ایک رات انہوں نے پوری قوت سے قلعے پر دھاوا بول دیا۔قلعے پر سکھوں کی بھی بھاری جمعیت تعینات تھی۔ تاہم قلعے کا دروازہ پٹھانوں کے جذبہ ایمانی کا مقابلہ نہ کر سکا۔ پٹھان اسے کھول کر اند ر داخل ہو گئے۔ اب دو بدو جنگ ہونے لگی۔سکھوں کے پاس بندوقیں زیادہ تھیں ، اس لیے آخر کار ان کا پلہ بھاری رہا۔ اسی دوران سپیدہ سحر نمودار ہو ا، تو مہمند پٹھان واپس اپنے مستقر چلے گئے۔


گو پٹھان قلعہ فتح نہ کر سکے مگر انہوں نے سکھ فوج کو خوب نقصان پہنچایا۔ اسی لیے شہزادہ شیر سنگھ بہت چراغ پا ہوا۔ وہ خاص طور پر جاننا چاہتا تھا کہ حملہ آور قلعے میں کیسے داخل ہو گئے۔ اس امر کی چھان بین کیلئے شیر سنگھ نے اپنی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی۔ اس دوران سکھوں کا مشہور جرنیل وینٹورا جسین وہاں آن پہنچا۔ شہزادہ شیر سنگھ نے اسے بھی کمیٹی میں شریک کر لیا۔ ارکان کمیٹی نے غوروحوض کے بعد جو فیصلہ سنایا اسے سن کر سبھی چونک اٹھے۔ انہوں نے قلعے کے دروازے کو مجرم قرار دیا تھا۔ چنانچہ شیر سنگھ کے حکم پر سپاہیوں نے دروازے کے دونوں پٹ اتار لیے۔ پھر یہ تقریباً بیس فٹ اونچا دروازہ دو آہنی زنجیروں کے ساتھ وسطِ قلعہ میں واقع مینار سے باندھ دیا گیا۔

یہ عجیب و غریب فیصلہ ہوئے ڈیڑھ سو برس سے زیادہ عرصہ بیت چکاہے، وہ دروازہ ابھی تک فولادی زنجیروں سے بندھا اپنے ناکردہ جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔ تاریخ کی گرد نے نجانے کتنے آثار مٹاڈالے مگر اس بیچارے دروازے کو رہائی نصیب نہ ہوئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شیر سنگھ نے دروازے کو ایک سوسال تک ’’قید بامشقت ‘‘ کی سزا سنائی تھی۔ ۱۹۴۰ء میں اس کی انوکھی سزا پوری ہو گئی مگر اسے رہائی نہ مل سکی۔ روایت ہے کہ ۱۹۷۶ء میں تب کے وزیراعظم پاکستان ، ذوالفقار علی بھٹو قلعہ شبقدر کے دورے پر آئے تھے۔ انہیں بھی اس بدقسمت دروازے کی داستان سنائی گئی۔ تبھی کسی نے وزیراعظم سے فرمائش کی کہ دروازے کو آہنی زنجیروں سے آزادکر دیا جائے۔
بھٹو صاحب بھی اپنے ڈھب کے آدمی تھے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’’نہیں دروازے کو بندھار ہنے دو۔ اسے دیکھ کر سب عبرت پکڑیں گے۔ یہ دروازہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اپنی ذمے داریاں فرض شناسی اور جانفشانی سے ادا کرنا چاہئیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں