ہوالشافی ۔۔۔۔۔ بی پی، انجائنا، شوگر، موٹاپا

2019 ,جولائی 16



لاہور(فضل اعوان): گزشتہ دنوں جس صورتحال سے گزرنا پڑا وہ ایک ڈراﺅنا خواب تھا، اس کیفیت سے ہنوز پوری طرح نہیں نکل سکا۔ زندگی کا یہ تلخ تجربہ اور مابعد کے نتائج کسی کے کام آ سکتے ہیںاور میرے لیے رہنمائی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ تیرہ سال سے شوگریعنی ذیابیطس کے نشانے پر ہوں۔ ویٹ کانشس پہلے تھا‘ اب ہیلتھ کانشس بھی ہو گیا ہوں۔ بیماریوں کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ شاید دوسری جماعت میں مریض اور حکیم کے مابین مکالمہ پڑھا تھا۔ مریض پیٹ درد کی دوا لینے گیا، اس نے جلی ہوئی روٹی کھا لی تھی۔ حکیم نے اسے آنکھوں کی دوا دیدی تاکہ آئندہ روٹی دیکھ کر کھائے۔ یہ ایک لطیفہ تھاتاہم بچوں کے لیے آگاہی تھی۔ ابتدائی کلاسوں میں خطرناک بیماریوں سے آگاہی پر توجہ دینے سے بیماریوں پر کسی حد تک ہی سہی قابو پانے میں مدد ضرور مل سکتی ہے۔ ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک گھنٹہ واک کرتارہا ہوں۔ آفس ڈیوٹی کے بعد قریبی پارک میں واک کرنا روٹین ہے۔ اسی زعم میں کبھی بد پرہیزی بھی ہو جاتی تھی۔ واک اورجوگنگ سے وزن بھی کنٹرول رہا جو کبھی 107کلو تھا۔ تاہم ”وقوعہ“ تک 90 کلوگرام تھا۔ تین سال قبل واک کے دوران سینے میں گھٹن محسوس ہوئی جس سے چلنا دوبھر ہو گیا۔ تھوڑی سے ریسٹ کی اور پھر چل پڑاتھا‘اویئر نس ہوتی تو شاید چارپانچ ماہ قبل کے تلخ تجربے کی نوبت نہ آتی ۔ رواں سال فروری کے شروع میں اُسی طرح کی پھر گھٹن محسوس ہوئی جو تھوڑی سے ریسٹ سے ٹھیک نہ ہو سکی۔ اگلے روز بھی ایسا ہی ہوا اور دونوں روز واک ادھوری چھوڑنی پڑی۔ اگلے روز گوجرانوالہ ایک شادی میں شرکت کی۔ 3 فروری کو شدید سردی تھی اور کھانے میں کچھ بدپرہیزی بھی ہو گئی۔ رات کو شدید بخار ہو گیا، اگلے روز بخار کے ساتھ فوڈ پوائزنگ بھی ہو گئی۔ میں بخار کو سردی اور فوڈ پوائزنگ کو بدپرہیزی سے تعبیر کر رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا،پیٹ کا اس طرح اپ سیٹ ہونا دل کے مسئلے کا پیش خیمہ بھی ہوتا ہے۔ آفس میں دن مشکل سے گزرا اور جلد گھر چلا گیا۔ اس روز سینے میں شدید گھٹن محسوس ہوئی۔ اسے ڈاکٹر جکڑن بھی کہتے ہیں۔ اس کی شدت بہت زیادہ تھی،جو ایسی شدت میں لوگوں کی خودکشیوں کے جواز کا جواز محسوس ہورہی تھی۔ لیٹنے سے گھٹن زیادہ ،نیم دراز ہونے سے معمولی بہتری محسوس ہوتی تھی، ساتھ بائیں بازو میں درد بھی ہو رہا تھا۔ بخار بھی بدستور شدید تھا۔ بیماریوں کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں تاہم سن رکھا تھا کہ دل کا مسئلہ ہو تو کندھوں اور بازوﺅں میں دردہوتا ہے۔ سینے میں گھٹن ضرور تھی مگر درد کہیں نہیں تھا۔ تین سال سے اہلیہ دل کی مریضہ ہیں۔ حفظِ ماتقدم کے طور پر دل کی ممکنہ تکلیف کی صورت میں زبان کے نیچے رکھنے والی ٹیبلٹس کا پتا بیڈ روم کے دروازے سے چپکا رکھا ہے۔ میں نے اس میں سے ایک گولی زبان کے نیچے رکھ لی۔ اسکا کرشماتی اثر ہوا پانچ سات منٹ میں گھٹن اور بازو میں درد کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔ بخار بدستور شدید نوعیت کا تھا اس کے باوجود باقی رات بڑے سکون سے گزری۔ 
میں نے گھٹن کو سنجیدگی سے نہیں لیا ،یہ منگل کی شب کا واقعہ ہے۔ بدھ کو آفس گیا بخار میں افاقہ تاہم نقاہت تھی۔ جمعرات کو شوگر کے حوالے سے روٹین کے چیک اپ اور میڈیسن کے لیے ہسپتال چلا گیا۔ ڈاکٹر سے سرسری انداز میں سینے میں گھٹن کا تذکرہ کردیا۔ ڈاکٹرنے میڈیسن لکھتے ہوئے قلم وہیں رکھ کر مجھے غور سے بلکہ گھور کے دیکھا اور کہا کہ آپ کی شوگر زیادہ ہونے پر دل پراثر ہوا ۔مکمل چیک اپ کی ضرورت ہے۔ 

انہوں نے فوری طور پر ای سی جی اور ایکسرے کرا کے ڈرائی ایکسرے لانے کو کہا۔ یہ کام چند منٹ میں ہو گیا۔ ڈاکٹر نے دونوں دیکھ کر کچھ ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی سی یو میں ایڈمٹ کر لیا ۔ آئی سی یو میں داخل ہونے کا سن کر سنسنی سی محسوس ہوئی۔ وہاں ٹیسٹوں کے لیے بلڈ لیا گیا اور مزید ایکسریز کے لیے متعلقہ شعبے میں لے جانا مقصود تھا اس مقصد کے لیے اٹنڈنٹ کی ضرورت تھی۔ میں نے کہا میں خود چلا جاتا ہوں، وہ شعبہ قریب ہی تھا۔ سٹاف نے یہ کہہ کر پریشانی میں اضافہ کر دیا، آپ بیڈ سے اتر سکتے ہیں نہ پیدل چل سکتے ہیں۔ شام کو آئی سی یو میں داخل کرانیوالی ڈاکٹر تشریف لائیں، انہوں نے کہا، کچھ ٹیسٹ پازٹیو آئے ہیں ہم سیکنڈ اوپینئن کے لیے دوسرے ہسپتال کی کارڈیالوجی بھیج رہے ہیں۔یہاں بھی داخل کر کے اگلے روز انجیو گرافی کی گئی۔ شوگر کا مریض پہلے تھا اب دل کا مرض تشخیص کرنے کے لیے انجیو گرافی ہونی تھی۔ انجیو گرافی ہوئی اور مجھے دل کا مریض ڈیکلیئر کردیا گیا۔
 ڈاکٹر زینب نے آئی سی یو میں ایڈمٹ کرتے ہوئے کہا تھا، اب انسولین پر آنا پڑے گا۔ کارڈیالوجی میں داخلے پر شوگر ٹیسٹ کی گئی تو ریڈنگ 390 تھی۔ 3 چار دن واک نہیں کی تھی لہٰذا چار سو کے قریب ریڈنگ سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ رات کو 20 پوائنٹ انسولین لگا دی۔ اگلے روز صبح ریڈنگ 160 جو 5 پوائنٹ لگانے پر دوپہر کو 119 ہو گئی۔ شوگر کے زیادہ رہنے سے رات کو پاﺅں کی انگلیاں مڑ اور ٹانگوں کے پٹھے کھنچ رہے تھے۔ ایسا عموماً ہوتا تھا۔ کھڑے ہونے یا تھوڑا چلنے سے اس مشکل سے نجات مل جاتی تھی۔ اس رات زیادہ ہی مسئلہ تھا،چنانچہ ہسپتال کی گیلری میں آدھا گھنٹہ چہل قدمی کرتا رہا جبکہ بیڈ سے نہ اترنے کی ہدایت تھی۔ اگلے روز انجیو گرافی سے قبل ایکوگرافی ہوئی۔ سٹاف سے رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا ،آپ کو دل کے کسی مسئلے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ وارڈ تک پیدل جائیں۔ ویل چیئر پر جانے کی ضرورت نہیں۔ اس سے ہسپتال آنے کے بعد سے پہلی بار حوصلہ بڑھا۔انجیو گرافی کیلئے باری آنے تک مغرب ہو گئی۔ اس عمل میں 25 منٹ لگے۔تین ڈاکٹر اور چا رسٹاف کے لوگ تھے۔ بازو کے ذریعے تار کو آگے پیچھے اور باہر نکال کر داخل کیا جاتارہا۔ وہ ایک کے بعد دوسرا تار گھماتا جس سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ ان کے عمل اور باتوں سے لگتا جیسے چاند ماری کررہے ہوں۔” ابھی سامنے آیا‘ غائب ہو گیا۔ کدھر گیا وہ دیکھو پھر نمودار ہو گیا“۔ انجیو گرافی کا عمل مکمل ہوا تو واضح طورپر نہیں لکھا تھا کہ کیا فائنڈ ہوا ہے۔ آخر میں لکھا تھا کارڈیو سرجن کو دکھائیں۔ دو دن بعد کارڈیو سرجن کا ڈے تھا۔ ڈاکٹر عمران اسلم کے سامنے پیش ہوا ، انہوں نے پوچھا ،درد کہاں ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہیں بھی نہیں ۔ ان کو بھی بپتا سنائی، انہوں نے دو لفظوں بات نمٹادی۔” سرجری کی ضرورت نہیں میڈیسن لیں“۔ میڈیسن تو میں نے لے لی مگر کھانے سے گریز کیا۔ اس کی وجہ میرا خودساختہ’ فلسفہ¿ فضول‘ تھا۔ ’اگر میں ڈاکٹر سے بات ہی نہ کرتا تو کام چلتے رہنا تھا۔اب بھی ایسے ہی چلے گا‘۔ 8 فروری کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوا۔ 20 مارچ تک میڈیسن نہیںکھائی۔ تیسرے چوتھے دن پھر سے واک شروع کر دی ۔جس میں دھیرج اور دھیما پن تھا۔ شروع کے دنوں میں سینے میں ہلکی سی گھٹن محسوس ہوتی جو چند منٹ ریسٹ سے بہتر ہوجاتی ۔
 ایک روز رپورٹس غور سے دیکھ رہا تھا۔ رپورٹس میں نے رانا الیاس کو بھجوانی تھیں۔ بحرین پلٹ میرے دوست دو سٹنٹس ڈلوا چکے ہیں۔ انہوں نے رپورٹس دیکھ کر بتایا، دو وین جزوی بلاک ہیں۔ انجیو گرافی میں بائی پاس تجویز کیا گیا ہے۔ ان کی اس گفتگو سے قبل میں نے میڈیسن لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسی روز ڈاکٹر احمد سلیم سے بات ہوئی‘ وہ کارڈیالوجی کے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں پروفیسر ہیں۔ کچھ سال وہ کارڈیو سرجن کے طورپر بھی کام کرتے رہے۔ان کا لیکچر حوصلہ افزا تھا۔ وہ ڈاکٹروں کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو دل سمیت کسی بھی مرض میں آپریشن کو آخری آپشن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس دوران بلڈ پریشر چیک کیا جو تھوڑا سا زیادہ یعنی 136 اور 82 تھا۔ 
ہسپتال سے آنے کے بعدبلڈ پریشر روزانہ چیک کرنے کا اصول اپنا لیا تھا جو 165 تک بھی چلا جاتا۔ 130 سے تو عموماً زیادہ ہوتا۔ شوگر بھی زیادہ رہتی۔ فاسٹنگ میں کبھی ڈیڑھ سو یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ۔صبح خالی پیٹ گیٹرل 3 ایم جی اور کھانے کے دوران گلو کو فیچ0 50 ایم جی کے استعمال کے باوجود کم نہ ہوتی۔ ہسپتال سے آنے کے بعد شوگر اور ہارٹ کے حوالے سے یو ٹیوب اور گوگل پرمعلومات دیکھیں اور کچھ پر عمل کیا تو شوگر فاسٹنگ نوے اور100 کے درمیان رہتی ہے۔شام کو واک کے بعد سے 80 کے آس پاس۔ اُدھر بلڈ پریشر زیادہ کے بجائے نارمل سے بھی کم رہنے لگا۔ نارمل رکھنے کیلئے ،نمک کا استعمال کرنا اور انڈے کھانے پڑتے ہیں۔ویٹ تین ماہ میں نوے سے 75کلو ہوچکا ہے۔ہر رمضان میں پانچ چھ کے جی بڑھ جاتا تھا اس مرتبہ شروع سے آخر تک یکساں رہا۔دوسرے تیسرے دن وزن چیک کرتا ہوںتاکہ بڑھنے کی صورت میں کنٹرول کیا جاسکے۔وزن میں کمی سے چلنے پھرنے اور نمازپڑھنے میں بڑی آسانی ہوگئی ہے۔ اپنی بپتا کے پیش نظر کہہ سکتا ہوں ، شوگر بلڈ پریشر اور وزن کو کنٹرول کرنا مشکل نہیں۔اولین شرط اور ضرورت ول پاور اور اللہ رب العزت کی کرم نوازی کی ہے۔یہ سب کیسے ہوا اس کا تذکرہ ان واقعات کے بعد کرتے ہیں:انڈین کارڈیالوجسٹ شاجر نے یو ٹیوب پر وڈیو میں اعتراف کیا کہ وہ ایک انسان کے قتل کا خود کو مجرم سمجھتے ہیں۔ وہ دل کی معمولی تکلیف کی شکایت لے کر آیا۔ میں نے اسے تین گولیاں لکھ دیں۔ مہینے بعد اس نے آ کر بتایا ، وہ ٹھیک ہو گیا ہے۔ میں نے میڈیسن جاری رکھنے کو کہا، اگلے ماہ اس نے درد کی شکایت کی، میں نے چھ گولیاں کر دیں، مگر افاقہ نہ ہوا بلکہ درد میں اضافہ ہو گیا ۔6 سے 9 اور پھر بارہ سے پندرہ گولیوں سے بھی اس کا درد برقرار رہا۔ ایک روز دل کے دورے کی صورت میں ہسپتال لایا گیا۔ میں ڈیوٹی پر تھا۔ تھوڑی دیر میں اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ ہم ڈاکٹر کہتے ہیں دیر کر دی مگر یہ تو چھ ماہ سے میرے پاس آ رہا تھا۔ میں خود کو اس لیے مجرم سمجھتا ہوں کہ اسے میڈیسن تو دیتا اور وہ کھاتارہا مگر اسے پرہیز اور واک کے بارے نہیں بتایا جس سے اس کی جان چلی گئی۔ پاکستان کے بڑے کارڈیالوجسٹ میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی بھی پرہیز اور سیر پر زور دیتے ہیں۔ 
دوسرا واقعہ: ایک نوجوان سپورٹس مین کو نہرسے متصل سڑک پر گاڑی پر سینے میں درد ہونے لگا۔ اس نے قریبی ہسپتال کی طرف پورشے گاڑی موڑی، گرتا پڑتا ایمرجنسی میں گیا تو ڈاکٹروں نے فوری طور پر دل کا عارضہ قرار دے کر بائی پاس تجویز کر دیا، اس نے گھر جانے کی بات کی تو کہا آپ تو زمین پر پاﺅں بھی نہیں رکھ سکتے۔ گھر والوں کو بلا لو۔ اس نے اپنے دوست کو بلا لیا جو کارڈیالوجسٹ تھے ۔ ہسپتال آئے ، مریض کے بھائی کے طور پر تعارف کرایا۔ ہسپتال والوں نے بلاتاخیر آپریشن پر اصرار کیا۔ انہوں نے اب گھر جانے اور کل کل آنے کو کہا مگر ہسپتال والوں کو مریض بم پر بیٹھا نظر آ رہا تھا۔ بہرحال اس نوجوان مریض کے دوست اسے وہاں سے ”آزاد،، کرا لائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگلے روز صبح اس نوجوان سپورٹس مین کا صبح سویرے فون آیا، وہ گھبرایا ہوا تھا کہنے لگا ”میں مر گیا“ میں نے پوچھا کیا ہوا، دل کا دورہ پڑ گیا“؟ اس نے کہا ، رات کو وہ سویا صبح جاگا تو یاد نہیں رہا، دل کا مریض ہوں۔ ماڈل ٹاﺅن پارک آ گیا۔ تین چکر لگا ئے تو یادآیامیں تو دل کا مریض ہوں۔ اب کیا کروں؟ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، میں نے پوچھا پہلے کتنے چکر لگاتے ہو، اس کے پانچ کہنے پر میں نے کہا پانچ پورے کر لو اور گھر جاﺅ، اس واقعہ کو دس سال ہو گئے وہ نوجوان فٹ ہے۔ضمناً یہ بھی بتاتا چلوں،آفس سے واپسی پر نہر کنارے ایک نوجوان کو لفٹ دی،دس بارہ منٹ کا وہ ہمسفر تھا اسکانام ڈاکٹر گلفام اور پی آئی سی کارڈیالوجی میں تعینات تھا،ان سے چار پانچ روز قبل انجیوگرافی کا تذکرہ کیا انہوں نے اسے انجائنا کی تکلیف باور کراتے ہوئے خطرناک قرار دیا۔انہوں نے حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے جذبات میں کہا۔ہنوز آپ گاڑی بھی چلا رہے ہیں۔حیرانی میری حماقت پراور پریشانی اپنی جان کی ہوگی۔موت ایک اٹل حقیقت ہے جو ٹل نہیں سکتی،اس سے فرار ممکن نہیں تاہم کوشش اپنی حد تک صحت مند زندگی گزارنے کی ضرور ہونی چاہیے۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں