امریکہ اور پاکستان کے درمیان براہِ راست پروازیں چلائی جائے گی یا نہیں؟ پاکستانیو ں کے لیے ناقابلِ یقین سرپرائز

2019 ,جولائی 16



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے پاک امریکہ تعلقات کو بڑا دھچکالگا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے لیے براہ راست پروازیں چلانے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جا ری کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں شروع نہیں ہو سکتیں ۔ خیال رہے کہ امریکہ محمکہ ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی ایڈمنسٹریشن حکام نے پاکستان کا دورہ کیا اور ایئرپورٹس کے نظام کا جائزہ لیا۔امریکی حکام پاکستان آئے تھے تا کہ نظام کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کا جاج سکے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں چلائی جا سکتی ہیں یا نہیں اور اب امریکی حکام نے پروازیں چلانے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے پہلے حکومتی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں چلائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکہ کے لیے پاکستانسے براہ راست پروازیں چلائی جائیں گی۔نظام وضع کرنے کے لیے امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کا 12رکنی وفد پاکستان پہنچا تھا۔ امریکی ٹرانسپورٹ سکیورٹی اتھارٹی پہلی بار پاکستان آئی تھی۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے 12رکنی وفد نےجیسن شوبل کی قیادت میں پاکستان کا دوری کیا۔بتایا گیا تھا کہ ٹی ایس اے ٹیم 18جولائی کو کراچی میں ایئرپورٹ کا دورہ کرے گی اور یہ ٹیم بورڈنگ اور سکرینگ پراسس وغیرہ معائنہ کرے گی لیکن اب بتایا گیا ہے کہ مریکہ نے پاکستان کے لیے براہ راست پروازیں چلانے سے انکار کر دیا ہے۔اس حوالے سے امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تا حال امریکہ اور پاکستان کے درمیان پروازیں براہ راست نہیں چلائی جا سکتیں۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اپریکی حکام نے پاکستانی ایوی ایشن نظام کا جائزہ لیا لیکن ابھی براہ راست پروازیں چلانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں